انسان كون ہے‎!‎؟

  • 17 اکتوبر 2018
انسان كون ہے‎!‎؟

                 انسان ہى اس پورى كائنات كا مركز اور محور ہے پس اس كائنات كى ہر چيز اس كے تابع ہے اور تمام اديان اسى كے لئے نازل ہوئے اور سارى آسمانى وحى كا مخاطب بهى وہى ہے،  قرآن كريم  كى تمام آيات اسى سے متعلق ہيں  كيونكہ اس ميں جو كچھ بيان ہوا ہے وه انسان، اس كو ديے گئے اوامر ونواہى يا كسى بهى صورت ميں اس سے متعلق اشياء اور امور كے بارے ميں ہيں-

                  اس كا مفہوم يہ ہوا كہ انسان ہى اس كائنات كا اہم ترين موضوع ہے حالانكہ كبهى كبهى لگتا  ہے كہ اگر دنيا  انسان كے بغير ہوتى تو اس ميں نہ كوئى مسئلہ ہوتا اور نہ كوئى مشكل يا خرابى پيدا ہوتى- جب الله تعالى نے فرشتوں كو انسان كى تخليق كے بارے ميں آگاه  گيا تو ان كا تصور بهى يہى تها جس كو قرآن كريم ان الفاظ ميں بيان كرتا ہے: "تو انہوں نے كہا ايسے شخص كو كيوں  پيدا كرتا ہے جو زمين ميں فساد كرے اور خون بہائے؟  اور ہم تيرى تسبيح، حمد اور پاكيزگى بيان كرنے والے ہيں" (قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ)(سورۂ بقره: 30)-

                 چنانچہ فرشتوں كے فلسفے كے مطابق دنيا انسان كے بغير امن وسلامتى كا گہواره اور كسى بهى قسم كے رنج وغم يا مشكلات سے پاك ہوتى- شايد فرشتوں نے انسانى فطرت كے بارے ميں اپنے علم كى بنياد پر ايسا كہا تها، جيسا كہ دوسرى جانب ان كا تصور تها كہ الله تعالى كى تسبيح وتہليل اور  اس كى عظمت وبزرگى بيان كرنا ہى اس كائنات  كے وجود كا اصل مقصد ہے -

                 پس يہى مشيّت ايزدى تهى _ الله وه (سب) جانتا ہے جو فرشتے نہيں جانتے تهے كہ وه ايسى مخلوق پيدا فرمائے، جسے اپنى ذات، اپنے اردگرد ما حول اور اپنے خالق كا ادراك وشعور ہو اور وه الله تعالى كے حكم اور ارادے سے اس كرۂ ارضى كى ذمہ دارى سنبهالے اور اس كى وجہ سے كائنات كے وجود كا اپنا مفہوم ہو اور انسان كا وجود بهى الله تعالى كے متعين كرده مقصد كى خاطر ہو اور وه مقصدِ عظيم، صرف ايك الله تعالى (معبودِ حقيقى) كى عبادت ہے جيسا كہ ارشاد بارى: "ميں نے جنات اور انسانوں كو محض اسى ليے پيدا كيا ہے كہ وه صرف ميرى عبادت كريں" (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)(سورۂ ذاريات: 56)

                 يہاں عبادت كا مقہوم صرف تسبيح وتہليل اور تقديس خداوندى تك ہى محدود نہيں ہے جس كے علاوة فرشتے اور كچھ جانتے ہى نہيں- يہ ايك ايسى عبادت ہے جو عابد پر معبود كى معرفت كو لازم كرتى ہے اور يہ ادراك وشعورپر مبنى ہوتى ہے، اس سے بهى اہم چيز يہ ہے كہ اس ميں عابد كو اپنے معبود كى عبادت كرنے كا اختيار ہوتا ہے اور يہ اختيار (عبادت) فرشتوں كو حاصل نہيں ہے،  فرمان بارى ہے: "انہيں جو حكم الله تعالى ديتا ہے اس كى نا فرمانى نہيں كرتے بلكہ جو حكم ديا جاتا ہے وه بجا لاتے ہيں"  (لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ)(سورۂ تحريم: 6)-

                  اس كائنات ميں صرف انسان ہى ايك ايسى مخلوق ہے جو حكم الہى كے سامنے انكار كى صلاحيت   بهى ركهتى ہے، فرمان بارى تعالى ہے: "تو انہوں نے كہا، ہم نے سنا اور نا فرمانى كى" (قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا)(سورۂ بقره: 93) ايك اور مقام پر ارشاد بارى ہے: "اب جو چاہے ايمان لائے اور جو چاہے كفر كرے"   (فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ)(سورۂ كہف: 29)-

                    پس سب سے پہلا مسئلہ جس پر غوروخوص كرنا ضرورى ہے اور جسے ہميشہ غوروفكر كا مركز رہنا چاہئے وه انسان ہے اور يہى اس كائنات كا سب سے بڑا مسئلہ اور موضوع ہے- باقى جو بهى مسائل اور موضوعات ہيں وه اسى كى جزئيات ہيں-  يہى وجہ ہے كہ ہر زمانے كے مفكرين اور فلاسفہ اس موضوع ميں دلچسپى ليتے رہے ہيں اور ہر ايك نے اس بنيادى مسئلہ كى تحقيق ميں حصہ ليا ہے-

                    ہميں معلوم ہے كہ پرانے زمانے سے ہى فلاسفہ انسان كى تعريف يوں كرتے ہيں كہ وه حيوانِ ناطق يعنى عاقل مخلوق ہے، اور علمائے اخلاق كے نزديك وه ايك اخلاقى حيوان ہے يعنى ايك ايسى مخلوق جس كے اخلاقى اقدار ہيں كيونكہ اس كائنات ميں صرف وہى اخلاقى قدروں كا پابند ہوتا ہے، يا وه خود اپنے آپ كو ان كا پابند بناتا ہے- ماہرين عمرانيات كى رائے ميں انسان ايك معاشرتى مخلوق ہے، جبكہ علمائے دين كہتے ہيں كہ انسان ايك ديندار اور مذہبى مخلوق ہے، كيونكہ اس كرۂ ارضى پر انسان كے سوا كسى مخلوق ميں دينى ومذہبى خاصيت نہيں ہے، اور يہى سارى صفات اور ان كے علاوه بہت سى دوسرى صفات انسان ہى ميں ہى پائى جاتى ہيں اور ہر زمانے ميں مختلف شعبوں كے علماء ومفكرين اور فلاسفہ  كى تحقيق وتفسير كا مركز ومحور انسان ہى تها، ابهى تك ہے اور آئينده بهى رہے گا-

 

Print

Please login or register to post comments.

 

انسان اور عقل (2)‏

             اسلام ميں اگر عقل وخرد كو استعمال كرنا دينى فريضہ شمار ہوتا ہے تو دوسرى جانب يہ ايك حتمى ذمہ دارى بهى ہے جس سے انسان فرار  اختيار نہيں كر سكتا اور وه اس كے اچهے يا برے استعمال پر جواب ده ہوگا،...

تواضع كى قوت

            رنگ ونسل، عقائد ونظريات اور زبانوں كے اختلاف كے با وجود انسانى اعتبار سے سب لوگ برابر ہيں، كيونكہ سب كى اصل ايك ہے، سب ہى حضرت آدم اور حضرت حواء عليہما السلام كى اولاد ہيں چنانچہ كسى فرد كو دوسرے فرد اور...

انسان اور عقل (1)‏

             عقلِ انسانى كا تعلق شرف الہى سے ہے اور يہى وه جوہرى عنصر ہے جس كى وجہ سے انسان دوسرے تمام جانوروں سے مختلف ومنفرد ہے، وه اس كے ذريعہ  اپنا، اپنے اردگرد ما حول كا ادراك،  اور اپنے خالق كى...

اسلام ميں حقوقِ انسان

            تاريخ انسانى ميں حقوقِ انسان يا تو   فطرى حق كى بنياد پر قائم ہيں  يا دينى  اور اخلاقى تعليمات كى بنياد  پر وضع كى گئيں ہيں-حقوق انسان كا پاس ولحاظ مكمل طور پر عالم اسلامى كے...

12345678910Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
12345678910Last

عورت کے گھر سے ملازمت كے لئے نكلنے کے جواز کی حرمت
               داعش كا فتوى ہے كہ عورت كا گھر سے ملازمت كے لئے نكلنا ناجائز ہے، ان كى دليل قران پاک كى يہ...
جمعرات, 29 نومبر, 2018
عبادت كى حقيقت ‏
جمعرات, 1 مارچ, 2018
تفريح كى قدر وقيمت
پير, 12 فروری, 2018
اخلاق كے معانى
اتوار, 28 جنوری, 2018
12345678910Last

انسان اور عقل (2)‏
             اسلام ميں اگر عقل وخرد كو استعمال كرنا دينى فريضہ شمار ہوتا ہے تو دوسرى جانب يہ ايك حتمى ذمہ دارى...
جمعرات, 13 دسمبر, 2018
تواضع كى قوت
منگل, 11 دسمبر, 2018
انسان اور عقل (1)‏
منگل, 11 دسمبر, 2018
اسلام ميں حقوقِ انسان
پير, 10 دسمبر, 2018
زندگى كى حفاظت كا حق
پير, 10 دسمبر, 2018
12345678910Last