مذہبى تنوع كا احترام

  • 9 جولائی 2018
مذہبى تنوع كا احترام

         الله رب العزت كا فرمان  ہے : (اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا) (سورۂ مائده: 48)  اس آيت ميں الله نے تمام بنى نوع انسان  سے خطاب كيا ہے ،  اور اس ميں  تين باتيں واضح فرما رہےہيں: پہلى  بات يہ ہے كہ مختلف مذاہب، خيالات، نقطۂ ہائے نظر اور امتوں كا پايا جانا فطرى اور الله تعالى كى سكيم كے مطابق ہے۔ دوسرى بات  يہ كہ انسان با اختيار ہے اور اسے يہ حق ديا گيا ہے كہ وه اپنے ليے جس مذہب كا چاہے انتخاب كر سكتا ہے۔ اور آخرى بات يہ ہے كہ يہ دنيا اصلاً آزمائش كے ليے بنائى گئى ہے۔ الله تعالى يہ جاننا چاہتا ہے  كہ انسان خدا كے ديے ہوئے اس اختيار كو كيسے استعمال كرتا ہے اور  آخرت ميں فيصلہ اسى بنياد پر ہو گا۔

        انسان كے پاس ايك سوچنے والا ذہن ہے  جس كے ذريعہ  وه اپنے ليے نئے نئے راستے تلاش كر سكتا ہے۔ فلسفۂ زندگى سے لے كر نظام زندگى تك، وه جو چاہے فكر اور انداز اختيار كر سكتا ہے۔ انسان نے اس اختيار كا پورى طرح استعمال كيا ہے۔ آج افكار سے لے  كر تمدن تك انسانى معاشرت ميں تنوع ہے۔ اسى طرح رہن سہن كے طور طريقوں ميں بهى  اختلاف اور تنوع  موجود ہے۔

        اسلام ميں جہاد (قتال) كى جن اسباب كے تحت اجازت دى گئى ہے، ان ميں سے ايك سبب آزادئ عبادت ومذہب بهى ہے۔ آپؐ نے مسلمانوں كو بطور خاص اس بات كى تلقين فرمائى كہ جب غير مسلموں كے ساتھ كوئى معاہده ہو جائے تو پهر اس كى پابندى ان پر لازم ہے۔ وه كسى طرح ان كى خلاف ورزى نہ كريں۔ يہ بات دنيا ميں بهى سزا كا باعث بن سكتى ہے اور آخرت ميں بهى۔ چنانچہ ايك موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمايا: «جو شخص اس غير مسلم كو قتل كرے گا جس سے معاہده ہو چكا ہو ، وه جنت كى بو سے بهى محروم رہے گا اور جنت كى خوشبو چاليس سال كى مسافت سے بهى پہنچتى ہے۔» (بخارى، ابن ماجہ)۔

        انسانى تاريخ ايسے واقعات سے  بهرى پڑى ہے جو اس بات پر دلالت كرتے ہيں كہ جہاں مسلمان حكمران ہوئے وہاں غير مسلموں  كو نہ صرف مذہبى آزادى ميسر رہى بلكہ ان كے بنيادى حقوق مسلمان شہرى سے كسى طرح كم نہ تهے۔ اس ميں ايك حق جان كا بهى ہے۔ غير مسلموں كو نہ صرف يہ كہ اپنے مذہب پر قائم رہنے كا حق ملا بلكہ اس وجہ سے ان كے ساتھ كوئى امتياز  روانہيں ركها گيا كہ وه غير مسلم ہيں۔

        يہ ايك انسانى فطرت ہے كہ وه كوئى بهى چيز   زبردستى كرناپسند نہيں كرتا، اور اگر اس كو ايسا كرنے پر مجبور  كيا بهى  جائے تو وه اس كو برائے  نام ہى كرتا ہے ، اپنے دل وعقل سے نہيں اور اسلام ميں ايمان كا مركز ہى دل ہے ، اگر دل كى گہرائيوں سے ايمان نہ لايا جائے  تو ايسے دين كا كوئى فائده نہيں ، فرمانِ الہى ہے: (دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے) (سورۂ بقره: 256)۔

       حقيقى مسلمان وه ہے جو دل سے اسلام لا كر  اس كى اپنى  عملى زندگى ميں تطبيق كرے ،  كہا جاتا ہے كہ " مسلمان ايك نام نہيں ايك صفت ہے " اور اس صفت سے موصوف ہونے والا شخص يہ اچهى طرح جانتا  ہے كہ اختلاف اور تنوع الله كے وجود كى نشانى ہے، وه اپنے عمل  سے دوسروں كو اسلام ميں داخل ہونے پر آماده تو كر سكتا ہے ليكن  مجبور ہرگز نہيں ، اور يقين سے كہا جا سكتا ہے كہ اگر ہم مسلمان اسلام كى صحيح تطبيق كريں تو  لوگ اس ميں جبرا نہيں بلكہ فخرا  داخل  ہوں گے۔

Print

Please login or register to post comments.

 

انسان كون ہے‎!‎؟

                 انسان ہى اس پورى كائنات كا مركز اور محور ہے پس اس كائنات كى ہر چيز اس كے تابع ہے اور تمام اديان اسى كے لئے نازل ہوئے اور سارى آسمانى وحى كا مخاطب بهى وہى ہے،  قرآن كريم  كى...

اور لوگوں كو اچهى باتيں كہنا...‏

کلمہ... لفظ يا بات كى زمدارى ایک امانت ہے، اس کے کہنے والوں کو چاہئے کہ اس بارے میں اللہ تعالى سے اتنا ڈرے، جتنى اسکي اہمیت و عظمت ہے اور جتنى اسکي وجہ سے بڑا خیر وجود میں آتا ہے یا بھیانک تباہي،بلا شبہ کلمہ (بات) کى امانت اور اسکى ذمہ داریاں...

قتلِ مسلم ‏

               رسول اللهؐ نے فرمايا كہ:«جب كبهى كوئى كسى دوسرے كى طرف ہتهيار سے اشاره كرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت بهيجتے ہيں۔» يعنى اگر صرف اشاره كرنے سے يہ وعيد ہے كہ فرشتے لعنت كرتے ہيں تو جو...

فضيلتِ مآب امامِ اكبر شيخ الازہر پروفيسر ڈاكٹر احمد الطيب كا "اوراسیا" یونیورسٹی ميں خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبارک علیہ و علی آلہ و صحبہ ۔۔۔وبعد۔ عزت مآب پروفیسر ڈاکٹر یارلان باتا شیفیتش سیدیکون۔ صدر جومیلویف اوراسیہ نیشنل یونیورسٹی تعلیمی سٹاف کے معزز...

12345678910Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
12345678910Last

رمضان کا رب تمام مہینوں کا رب ہے
رمضان کی فضیلت ماہِ رمضان برکت کا مہینہ ہے ۔ اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا،...
پير, 2 جولائی, 2018
عبادت كى حقيقت ‏
جمعرات, 1 مارچ, 2018
تفريح كى قدر وقيمت
پير, 12 فروری, 2018
اخلاق كے معانى
اتوار, 28 جنوری, 2018
123456789

انسان كون ہے‎!‎؟
                 انسان ہى اس پورى كائنات كا مركز اور محور ہے پس اس كائنات كى ہر چيز اس كے تابع ہے اور...
بدھ, 17 اکتوبر, 2018
قتلِ مسلم ‏
اتوار, 14 اکتوبر, 2018
باطنى جہاد يا ظاہرى جہاد!!‏
اتوار, 30 ستمبر, 2018
علم كى قيمت
جمعرات, 27 ستمبر, 2018
12345678