دہشت گردى ايك الميہ

  • 11 فروری 2019
دہشت گردى ايك الميہ

                 يہ بات مخفى نہيں ہے كہ ہمارى روشن شريعت عالمگيريت و انسانيت ، رحمت وسلامتى  اور امن  وامان  كى شريعت ہے، وه  انسانيت كى صلاح وفلاح  اورہدايت  وكامرانى كےضامن اصولو ں سے بھرى  پڑى ہے،اسى طرح ہمارى شريعت  نے ظلم وزيادتى  وسركشى  اور نا انصافى وجارحيت  كو حرام قرار ديا ہے اور عدل  وانصاف  اور رحمت  كا حكم ديا ہے۔

                  سماج  اور لوگوں ميں  امن وامان كو قائم كرنا  شريعت كے اہم  ترين مقاصد  ميں سے ہے، اگر امن نہ ہو  تو لوگ انتشار واناركى كا شكار  ہو كر بے كار ہو جائيں گے،  ہر جگہ وحشى وبربادى  عام ہونا شروع ہو جائے گى۔ امن سے دنيا وآخرت  كے معاملات  استوار ہوتے ہيں،  حال ومستقبل  كى اصلاح  ہوتى ہے،  فتنے اور آزمائيش ٹل جائى ہيں، نعمتيں  فزوں تر ہوتى ہيں اور نوازشات  كى فراوانى  ہوتى ہے۔

                  ساتھ  ہى  اسلامى شريعت نے  انسان  كى  ہر پہلو سے تكريم كى،  خواه  معاملہ وبرتاؤ كاپہلو ہو ، يا  انسان كے حقوق  اور اس  كے خون كى حفاظت كا پہلو ، كيونكہ  انسان ہى  سے كائنات  آباد ہوتى ہے،بندوں كى مصلحتيں  پورى  ہوتى ہيں  اور ان كا  نظام حيات چلتا ہے، اللہ تعالى كا ارشاد فرمايا:" لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ" (اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی) [ سورۂ اسراء: 70]۔

                  دور حاضر كا سب سے زياده  پريشان كن مسئلہ  جس نے  انسانيت كو بھڑ كتے شعلوں ميں  دھكيل  ديا ہے، جس كى تپش سے  پورا عالم  جھلس  گيا ہے  دہشت گردى كا مسئلہ ہے، بمبارى، خوف زده كرنے، اضطراب وبے چينى  اور خوف ودہشت  پھيلانے كا مسئلہ ہے۔

                   گزشتہ كئى سالوں سے دہشت گردى  كى اذيت ناك  لہر نے  امت  مسلمہ كو  بدنام كر  ركھا ہے، اسى طرح دہشت گردوں  كى طرف سے مسلح فساد انگيزى ، انسانى قتل  وغارت گردى، دنيا بھر  كى پر امن  انسانى  آباديوں  پر  خود كش حملے،  مساجد، مزارات، تعليمى اداروں، بازاروں، سركارى عمارتوں ، ٹڑيد سنٹروں، دفاعى تربيتى مركزوں، سفارت خانوں،  گاڑيوں  اور ديگر پبلك مقامات  پر بم بارى  جيسے  انسان دشمن، سفاكانہ،اور بہيمانہ اقدامات، روز مره كا معمول  بن چكے ہيں، يہ لوگ آئے دن  سينكڑوں ہزاروں جانوں  كے بے دريغ  قتل اور انسانى بربادى  كے عمل كو جہاد  سے منسوب كرتے ہيں، اور يوں پورے اسلامى تصور جہاد  كو خلط ملط كرتے رہتے ہيں، اس سے نوجوان نسل  كے ذہن بالخصوص اور كئى ساده  لوح مسلمانوں كے ذہن  بالعموم  پرا گنده  اور تشكك  وابہام كا شكار  ہو رہے  ہيں كيونكہ  ايسے اقدامات  كرنے والے مسلمانوں  ميں  سے ہى اٹھتے ہيں، اسلامى عبادات  ومناسك  كى انجام  دہى بھى  كرتے ہيں، اور ان كى ظاہرى  وضع قطع بھى شريعت  كے مطابق ہوتى ہے۔

                     افسوس ہے كہ مغربى ميڈيا  عالم اسلامى كے حوالے سے صرف شدت پسند ى اور  دہشتگردى كے اقدامات  وواقعات كو  ہى   پر روشنى ڈالتاہے، اور اسلام كے مثبت  پہلو،  حقيقى پر امن تعليمات، اور انسان دوست  فلسفہ  وطرز عمل  كو قطعى  طور پر  اجاگر نہيں كرتا، جس كے نتيجے ميں  منفى طور پر اسلام  كو انتہا پسندى  ود ہشت گردى سے منسوب كرديا  گيا ہے، اور صورت حال  يہ ہے كہ  اسلام كا نام  سنتے ہى  مغربى ذہنوں ميں  دہشت گردى كا تصور ابھرنے لگتى ہے، اس سے نہ صرف  مغرب ميں پرورش پانے والى مسلم  نوجوان نسل انتہائى پريشان، متذبذب  اور اضطراب انگيزى  كا شكار ہے،  بلكہ پورے عالم اسلام  كے نوجوان  اعتقادى، فكرى،  اور عملى لحاظ سے  متزلزل  اور ذہنى انتشار  ميں مبتلا ہو رہے ہيں۔

                      عصر حاضر كى نوجوان نسل  جو اسلام كى حقيقي تعليمات سے  شناسا نہيں، وہ ميڈيا  سے متاثر ہو كر  انتہا پسندى اور  دہشت گردى  كو دين  ومذہب  كے اثرات  يا دينى  اور مذہبى  لوگوں كے رويوں  كى طرف منسوب  كرديتى ہے، اور يوں  اپنے لئے  لا دينيت  يا دين گريزى كى راه ميں  بہترى سمجھنے لگتى ہے، يہ  غلط طرز فكر اسے  رفتہ رفتہ  بےدين بنا  رہا ہے، جس كا نقصان پورى  امت مسلمہ كى اگلى نسلوں  كو  ہو گا۔

                       آج  مسلم دنيا  كے نوجوانوں كى بہت بڑى تعداد  دہشت گردوں كے  چنگل  ميں پھنس چكى ہے يا  پھر خودكش بننے كے لئے تيار  ہو چكى ہے، ان دہشت گردوں كا قمع كرنا  اسلامى حكومتوں كا  دينى فريضہ ہے۔ اس كے ساتھ ہر مسلمان كا بهى يہى فرض بنتا ہےكہ وه اپنے  اقوال وافعال سے پورى دنيا كے سامنے يہ ثابت كرے كہ  اسلام قتل وغارت كا دين نہيں ہے، اور نہ ہى كسى بهى مذہب يا جنس كے لوگوں كو ڈرانے دهمكانے  پر ابهارتا ہے۔ يہ دين انسانى زندگى كو متوازن بنانے كے لئے نازل ہوا.... اور توازن اور تشدد كبهى بهى نہيں مل سكتے۔ توازن سے استقرار اور خوشحالى پيدا ہوتى ہے ، جبكہ تشدد سے عدم توازن اور بد حالى۔ 

 

Print

Please login or register to post comments.

 

سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری میں تعلیم کا کردار

تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے۔  یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیر اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی...

شريعت كے عمومى مقاصد (2)‏

 يہ بات  ہم پہلے بيان كر چكے ہيں كہ تمام شرعى احكام كا مركز اور محور، يا تو ان اہم بنيادى مقاصد كى حفاظت ہے( شريعت كے عمومى مقاصد 1 پڑهيں ) جو انسان كى تعمير وترقى اور تمدن  ميں سنگِ ميل كى حيثيت ركهتے ہيں اور  جن كے بغير دنيا...

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں

گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...

اسلامى اخلاق كى خصوصيات

            اسلام ميں اخلاق كو چند خصوصيات اور امتيازات حاصل ہيں جو باقى تمام فلسفى مذاہب كى ديگر تمام اخلاقى نظاموں سے مختلف ہيں،  اسلامى اخلاقى نظام كى اہم ترين خصوصيات مندرجہ ذيل ہيں: - اخلاقى مسائل كى...

First567810121314Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
12345678910Last

شيشوں كے ساتھ نرمى سے پيش آو!
  اسلام دين اور دنيا .. دونوں كا دين ہے ، اور دنيا كے  تمام امور كا انتظام صرف مرد يا صرف عورت نہيں كر سكتى، ايك اچهى زندگى گزارنے كے...
منگل, 26 نومبر, 2019
مذہب كى آزادى كا حق
بدھ, 20 نومبر, 2019
علما كے حقوق اورفرائض
بدھ, 9 اکتوبر, 2019
12345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
12345678910Last