نئى تاريخى دستاويز ات ... فلسطينى عوام كے خلاف قابض صہيونى جرائم كى گواه

صہيونى  اخبار"ہارٹس" نے   اپنے  گزشتہ ہفتہ وارضميمہ ميں   چند  تاريخى دستاويزات كے حوالے سے ايك رپورٹ  شائع كى،   يہ  دستاويزات- 1948ء سے  فلسطينى   زمين پر...

كهيل... تعارف اور ہم آہنگى

     مرصد الازہر برائے انسدادِ انتہا پسندى  نے  مصر ميں منعقد ہونے والے افريكان ورلڈ كپ كى مناسبت سے "كهيل ... تعارف اور ہم آہنگى" كے نام سے آج صبح ايك آگاہى  مہم  كا آغاز كيا،  جو 12 زبانوں...

انسانيت كے نام ايك دستاويز

     "انسانى بهائى چاره (اخوت) كى دستاويز" كہہ ديں يا "انسانيت كى  دستاويز"، شيخ الازہر اور وٹيكن كے پوپ نے چند مہينوں پہلے  فرورى ميں ايك عالمى اور تاريخى دستاويز پر دستخط كى، جس كا مقصد دنيا...

نیوزی لینڈ كى مسجد ميں نمازيوں پر خوفناك دہشتگردانہ حملے كے بارے ميں فضيلتِ مآب شيخ الازہرڈاكٹر احمد الطيب كا بيان

نمازِ جمہ كے دوران نيوزيلينڈ كے  كرائسٹ چرچ ميں ايك  مسجد پر  دہشت گرد حملہ   كى خبروں كو ميں نہايت  غم واداسى سے ديكھ رہا ہوں،جس كے نتيجہ ميں   پچاس افراد ہلا ك اور  اتنى ہى تعداد ميں  لوگ زخمى...

12345679Last

انڈونشين علماء كونسل كے ساتھ ملاقات ميں فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى علمائے امت كے درميان مصالحت اور مفاہمت كى دعوت ..
جمعرات, 12 مئی, 2016
انڈونشين علماء كونسل كے ساتھ ملاقات ميں فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى علمائے امت كے درميان مصالحت اور مفاہمت كى دعوت . فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر ڈاكٹر احمد الطيب نے اُمت مسلمہ كے علماء كے مابين مفاہمت اور روادارى كے فروغ اور تباه كن...
مغربی دنیا سے خطاب کرتے ہوئے امام اکبر کی بوندستاج (جرمنی کی قومی اسمبلی ) سے عالمی تقریر..
جمعرات, 12 مئی, 2016
مغربی دنیا سے خطاب کرتے ہوئے امام اکبر کی بوندستاج (جرمنی کی قومی اسمبلی ) سے عالمی تقریر: ہم جرمنی کی چانسلر انجیل میرکل کی نہایت قدر کرتے ہیں جنہوں نے مشرق میں ہونے والی جنگوں کی دوزخ سے پناہ مانگنے والوں کے لئے اپنے ملک کے دروازے کھولے ،...
ڈاكٹر احمد الطيب كا افريقى ملك ميں پہلا دوره
منگل, 10 مئی, 2016
 ڈاكٹر احمد الطيب كا افريقى ملك ميں  پہلا دوره  آگلے   دنوں كے دوران  فضيلت مآب امام اكبر شيخ ازہر اور مسلم علما كونسل کے سربراه پروفيسور ڈاكٹر احمد الطيب  سنيگال اور نيجريا   پر  دوره كريں...
First34568101112Last

شیشان میں فضیلت امام اکبر کا خطاب

  • | منگل, 30 اگست, 2016
شیشان میں فضیلت امام اکبر کا خطاب

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد للہ ربّ العالـمين، وصلّى الله تعالى وسلّم وبارك على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين ۔ أما بعد!

محترم ومکرم، عزت مآب عالي جناب صدر رمضان أحمدو فيتش قديروف صاحب اور اس کانفرنس میں موجود معزز سامعین کرام

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اللہ کے پیارے نبی محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ "جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ رب العزت کا شکریہ ادا نہیں کیا"، اور دوسری جگہ ارشاد ہے کہ "اور جس نے تمہارے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک کیا ہے تو تم اس کو اس کا بدلہ دو اور اگر تمہارے پاس بدلہ دینے کیلئے کچھ نہیں ہے تو تم اس کے لئے دعا کرو یہاں تک کہ تم کو یقین ہو جائے کہ تم نے بدلہ دے دیا" ۔

 گزشتہ کل شیشانی عوام نے ازہر کے ساتھ جو اچھا معاملہ کیا ہے اسے بھلایا نہیں جا سکتا ،اور انہوں نے جو احسان کیا ہے اس کے اثرات اب تک موجود ہیں، اور یہ ایسے حالات میں پیش آئے کہ اس وقت بہت سارے لوگوں نے ساتھ چھوڑ کر پیچھے ہٹنا ہی مناسب سمجھا لیکن شیشان کے قابل قدر عزت مآب صدر رمضان احمدو فیتش قدیروف نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ انہوں نے آگے بڑھ کر جروزنی کے ایرپورٹ پر ازہر کا پر جوش استقبال اور اس شان و اعزاز کے ساتھ کیا کہ اس میں ازہری علماء ومشائخ سے عقیدت مندی اور سچی محبت پوشیدہ تھی، اس قابل داد استقبال نے تو ہاتھوں کے مصافحہ سے قبل  ہمارے دلوں اور احساسوں کو معطر کر دیا اور یہ شاندار استقبال سب سے پہلے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اہل شیشان اعلی نسب، خاندانی شرافت، خوش اخلاق اور نیک طبیعت وفطرت کے مالک ہیں ، اسی کے ساتھ وہ اس کے بھی اہل ہیں کہ اپنی زمین ، وطن اور اپنے عقیدہ کی حمایت وحفاظت کے لۓ صحیح دینداری، ثابت قدمی اور پختگی کا ایک ایسا نمونہ اور مثال پیش کریں کہ ان کے نقش قدم پر چلا جا سکے اور ان کو آیڈیل بنایا جا سکے ۔

پس محترم عزت مآب صدر صاحب میں آپ اور آپکی کی معزز عوام اور آپ کے وطن عزیز کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ہم اگرچہ آپ کے اس احسان کا بدلہ دینے پر قادر نہیں ہیں لیکن ہمیشہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دست بدعا رہیں گے کہ وہ آپ سب کو ظاہری اور باطنی ہر طرح کی نعمتوں سے مالامال فرمائے اور آپ کے اس وطن عزیز کو خوشحال، آسودہ حال اورپر امن رکھے، اور آپ کے اس بااخلاق عوام میں سے ایسے لوگوں کا انتخاب فرمائے جو حق کے ذریعہ لوگوں کو صحیح راستہ دکھائیں اور عدل وانصاف  کے ذریعہ لوگوں کے مابین فیصلہ بھی کریں ۔

ہم آپ کے شکرگزار اس لۓ بھی ہیں آپ نے ہمیں اس عظیم الشان جلسہ اور کانفرنس میں مدعو کیا جس میں ہماری شرکت ازہر کے نمائندہ کی حیثیپ سے نہایت ہی قابل سعادت ہے، اور یہ اجلاس بھی انہیں احسانوں اور بھلائیوں کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے جسے اہل شیشان مشرق ومغرب میں رہنے والے مسلمانوں کی خدمت میں بلکہ مشرق سے لیکر مغرب تک پھیلے ہوئے اس دنیا کے لوگوں کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ اہل شیشان بڑی ہی سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ان جنگوں کو ختم کرنے اور اس آتشزدگی کو بجھانے میں حصہ لے رہے ہیں جس کا ایندھن عربوں اور مسلمانوں کے جسم اور اعضاء ہیں، اور یہ خونی تجربوں پر مشتمل آگ ہیں جسے جدید استعماری تنظیمیں مشتعل کر رہی ہیں، اور یہ تنظیمیں آتش زدگی سے قبل تہذیب کا لازمی تصادم، تاریخ کا انتہاء، ایک زبردست حیرت انگیز انتشار و لاقانونیت اور ایک ایسے گلوبلائزیشن جس کا مقصد ایک ملک کی حیثیت سے عالمی منڈی پر اقتصادی، عسکری اور سیاسی طور پر مکمل دسترس حاصل کرنا ہے جیسے خوفناک شیطانی نظریات پیش کر رہی ہیں ۔

کاش جعل سازی اور مکر و فریب پر مشتمل یہ منصوبے اور لائحہ عمل اقتصادي اور فوجی تجاوزات اور زیادتیوں تک ہی محدود رہتے تو ہم صبر کر لیتے اور طرفۃ بن عبد کا یہ شعر گنگنا لیتے :

أبا منذر أفْنَيْتَ فاسْتَبْقِ بَعْضَنَا                    حَنَانَيْكَ بَعْضُ الشَّرِّ أهْوَنُ من بَعْضِ

ترجمہ : (اے ابو منذر تو نے تو سب کو فنا کر دیا ہے لہذا ہم میں سے بعض لوگوں کو بخش دے اور اپنے آپ پر رحم کھا کیوںکہ بعض فتنہ بعض کے مقابلہ میں آسان ہوتا ہے) 

ہاں! لیکن معاملہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ بہت آگے جاچکا ہے کہ اب انسانیت اور انسانی اقدار پامال ہونے لگے ہیں، اور یہ اس طرح ہوا کہ ان تجاوزات نے سب سے پہلے لوگوں کی ثقافت، انکے عقائد اور ان کی تاریخی اور تہذیبی صلاحیتوں کا قصد کیا پھر ان کو صرف ایک بین الاقوامی تہذیب وثقافت کے معیار کے تابع کرنے کی کوشش کی، اور مشرقی دنیا کو مفلس بنانے کے لئے گلوبلائزیشن نے اس سلسلے ميں بڑے ہی پر خطر اقدامات کئے، اور ان کی ترقی کے راستے ميں بہت سی دشواریاں اور رکاوٹیں پیدا کیے ۔

اس گلوبلائزیشن نے مشرقی دنیا کے مختلف علاقوں اور ملکوں پر دسترس حاصل کرنے کے لیے، عالمی تنظیموں، بین الاقوامی بینکوں، گرانقدر قرضوں کا سہارا لیا ، ماحول، آبادی، عورتوں، بچوں، اخلاقی بیماریوں اور آفتوں سے قبل از وقت آگاہی اور بے فائدہ اور بے اصول آزادی کے نام پر ہزاروں کانفرنس منعقد کۓ اور پھر ان کانفرنسوں کی مارکٹنگ اور ان کی نشر و اشاعت پر جو خرچ کیا گیا اس کا عشر عشیر بھی ان ملکوں کے بھوکے محتاجوں یا عوام پر نہیں خرچ کیا تاکہ وہ تعلیم کے میدان میں اپنا تھوڑا سا حق حاصل کر سکیں، اپنی صحت اور روزی روٹی کا کچھ سامان فراہم کر سکیں اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ بیماریوں کا مقابلہ بھی کر سکیں اور اپنی جہالت وناخواندگی کو ختم کرسکیں ۔

گلوبلايزیش نے "مرکز اور علاقے " نامی نظریہ کو "تہذیب کا تصادم"، "تاریخ کا اختتام"، "تخلیقی انتشار" نامی نظریوں میں شامل کیا ہے، اور یہ سارے نظریات جديد استعمارات کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں، نو آباد کاروں کے لیے اسے مزین کر کے پیش کرنے میں مشغول ہیں، اسی طرح یہ نظریات ہمیں ماضی کی دو صدیوں میں پاے جانے والے استعمار کے ان نظریات کو یاد دلاتے ہیں جنہیں مغرب نے عالم اسلام کی صلاحیتوں اور اس کی ظاہری وباطنی مال ودولت پر قبضہ کرنے سے پہلے پیش کیا تھا ۔

 بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کانفرنس کا اس پرآشوب حالات سے جس سے ہم جیسی اعلی تاریخی قوم دوچار ہے، جس نے دنیا کو علم کی دولت سے مالامال کیا اور اس کی روشنی سے چہار دانگ عالم کو اس طرح منور کیا کہ قوموں کی جہالت اور ناخواندگی کی تاریکیاں چھٹ گئیں اور ان کی جہالت اور پسماندگی ختم ہو گئی اور ان کو  ان کی غفلت سے بیدار کیا، اور اس قوم کے حق میں پوری دنیا ہزاروں اندازے لگا سکتی ہے لیکن آج یہ قوم ،یہ امت کمزوری، انتشار وافتراق اور باہمی اختلافات و ناچاقیوں میں گھری ہوئی ہے، اور تاریک رات کی گھٹاٹوپ تاریکیوں کی طرح ایسے فتنوں کا سامنا  کر رہی ہے کہ اس قوم کا دانا اور بینا شخص بھی حیران و پریشان ہے ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ کانفرنس بیک وقت اہل السنت والجماعت کی تلاش وتعیین کے ساتھ ساتھ  اس بیماری کی بھی تشخیص کرتا ہے جس بیماری نے اس امت کو کمزور اور اس کی تمام طاقتوں کو ختم کر دیا ہے، اسلحے کی شکل میں یہ قوت وطاقت مسلسل ایک ہی امت کے افراد کے ما بین استعمال ہو رہی ہے، یہ ایک ایسی بیماری کا تشخیص اور اس کے علاج کی تلاش وجستجو ہے جس کی تشخیص کانفرنس میں شرکت کرنے والے علماء کے گرانقدر مقالات کریں گے اور ان کا علاج بھیی متعین کریں گے ۔

شاید کہ آپ میرے اس بات سے متفق ہوں گے کہ اس امت کی تہذیبی اور علمی آب وتاب کے زمانہ میں اہل السنت والجماعت کا مفہوم ہی علماء اور اماموں کے لئے ان کی طرف سے صادر ہونے والے عقائد سے متعلق نقطہ نظر اور فقہی وقانون سازی کے فتاویٰ میں ملہم کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ مفہوم امت کے شعور ووجدان میں اس طرح جاگزیں تھا کہ اس نے اس امت کو انتشار وافتراق سے بچایا اور انہیں ہر صبح وشام اللہ رب العزت کا یہ فرمان یاد دلایا : ﴿وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾ {آل عمران: 103}، وبقوله تعالى: ﴿وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴾ {الأنفال: 46} . ترجمہ (اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور آپس میں بکھرو نہیں اور اپنے اوپر اللہ کا یہ انعام ہمیشہ یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس  نے تمہارے دلوں میں الفت ومحبت ڈالا پس تم اس  کے فضل سے بھائی بھائی بن گۓ، اور تم آگ  کے گڑ ھے  کے کنارے کھڑے تھے تو اس  نے تم کو اس میں گرنے سے بچایا، اس طرح اللہ رب العزت تمہارے لۓ اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ)، دوسری جگہ ارشاد باری ہے : ترجمہ (اور اللہ اور اس  کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ ناکام بو جاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائیگی، لہذا صبر کرو اور  بے شک اللہ صبر کرنے والوں  کے ساتھ ہے) ۔  

 سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اہل السنت والجماعت کے جس مفہوم پر امت اسلامیہ ایک عرصہ دراز تک قائم تھی آج اس موجودہ وقت میں یہ مفہوم خواہشات اور ان پروپگنڈے کی وجہ سے جن کا تعلق ظاہرا اسلام سے ہے لیکن عملی اور موضوعی اعتبار سے اسلام کے اصول وقواعد، اس کی وسعت اور فراخدلی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اہل السنت والجماعت کا یہ مفہوم عام مسلمانوں کے نزدیک بلکہ ان خاص لوگوں کے مابین بھی جو دعوت الی اللہ کے کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں بالکل بدل چکا ہے، اور بعض لوگ تو اس کے نمایاں امتیازی شان اس لئے بتاتے نہیں ہیں تاکہ اس کے مضمر اصول مبہم ہی رہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگ اسکو اپنا نشانہ بنا سکیں،  جبکہ تمام افکار والے اہل السنت والجماعت کا ہی سائن بورڈ دکھاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ صرف انہیں ہی رسمی طور پر گفتگو کرنے کا حق حاصل ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اس مفہوم کے غلط ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا شیرازہ بکھر گیا، دعوت وتعلیم کے میدان میں قیادت کرنے والے لوگوں کے اذہان وافکار بدل گئے، حتی کہ تشدد، انتہا پسندی، دہشتگردی، قتل وغارتگری، خون بہانے اور عصمت دری جیسے جرائم رونما ہوئے اور جبکہ ہر ایک کا دعوی ہے کہ اس کا تعلق اہل السنت والجماعت سے ہے، اگر ہم اپنے علماء کی طرف سے پیش کئے گئے واضح، روشن اسلامی تشخصات اور اہل السنت والجماعت کی تعریف میں بیان کئے گئے مفہوم پر غور کریں تو ہمیں یہ باتیں نمایاں جھوٹ اور جہالت پر مبنی نظر آئیں گی ۔

 تکلیف دہ بات یہ بھی ہے کہ اہل السنت والجماعت کے مفہوم کے غیر واضح ہونے کی وجہ سے گھات میں لگے دوسرے لوگوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ بھی اس مفہوم پر قدغن لگائیں، اس کی حقیقت مسخ کرکے پیش کریں اور اسی پر اکتفاء نہ کریں بلکہ یہ بہتان تراشی بھی کریں کہ دہشت گردی کے تمام افعال وجرائم جسے تکفیری مسلحہ جماعتیں کر رہی ہیں اس کی ذمہ دار یہی ہے، اور یہ افتراپرداز بخوبی جانتے ہیں کہ انکے گھناؤنے افعال وتصرفات کی وجہ سے ان تکفیری جماعتوں کا تعلق اہل السنت والجماعت سے نہیں ہے اور غالب گمان یہ ہے کہ ان جماعتوں نے اہل السنت والجماعت کے مفہوم پر حملہ کرکے درپردہ اپنے سیاسی مقاصد، فرقہ وارانہ فوائد اور مصالح کو مکمل کیا، اسی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مابین انتشار وافتراق پیدا کرنے کی زبردست کوشش کی، اور ان فتنوں کو دوبارہ ہوا دیا جو فتنے ماضی اور تاریخ کی داستان بن چکے تھے، اور کراہت وناپسندیدگی اور بغض وحسد کی فضا کو عام کیا، امن سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے اسلامی تعلیمات کا انکار کیا، اور دوسرے ملکوں اور قوموں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے اور پڑوسی کی حرمت کا لحاظ رکھنے کی تعلیم سے بھی انکار کیا جو حرمت قریب تھی کہ خون، جسم اور وراثت کی حرمت کے مشابہ ہو جاتی ۔

میرے قابل احترام فاضل بھائیو! آج کی رات گذشتہ رات سے بہت مشابہ ہے کیونکہ امت مسلمہ کو آج بھی یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اہل سنت والجماعت کون ہیں؟ ان کے طریقہ کار کیا ہیں؟ کیا ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسلمانوں میں اس کا کوئی اثر ہوگا؟ امت اسلامیہ کے اختلاف وانتشار کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا اس امت کو انتشار سے بچانے کے لیے اس مذہب کو زندہ کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ جس کے ارد گرد امت اپنی آزمائش اور مصیبت کے وقت میں متحد ہوسکے اور گھات میں لگے ہوئے دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنا سکے؟ یہ میرے چند سوالات ہیں اور کانفرنس کے اختتام تک میں ان کے جواب کا متظر رہوں گا ۔

جہاں تک یہ سوال کہ اہل سنت والجماعت کون ہیں تو اس کا جواب میں اس ازہری منہج کے مطابق دیتا ہوں جس پر میری تربیت ہوئی ہے اور جس پر میں بچپن سے اب تک گامزن ہوں، اس منہج کے متون اور ان کی شرحوں کو 25 برس تک پڑھتا رہا ہوں، تقریبا چالیس سال تک علم اصول الدین کے درس وتدریس کے مشغلہ کے دوران متن، شرح، حاشیہ اور تقریر کے مابین بحث ومباحثہ کے منہج میں غور وفکر کرتا رہا ہوں، ابتدائی مرحلہ میں ابو البرکات دردیر کی کتاب "شرح الخریدہ" سے میں نے سیکھا کہ اہل السنت والجماعت دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں اشعری وماتریدی فرقے ہیں، پھر ثانوی مرحلہ میں میں نے سیکھا کہ اہل حق اہل السنت والجماعت ہیں، اور اس اصطلاح کا اطلاق اہل سنت کے امام ابو الحسن اشعری اور ہدایت کے امام ابو منصور ماتریدی کے ماننے والوں پر ہوتا ہے، اور گریجویشن کے مرحلہ میں توحید کے مضمون میں ہمارے دلوں اور عقلوں کو بھلی لگنے والی عبارت؛ وہ امام نسفی رحمہ اللہ علیہ کی عبارت ہے جسے اس کلیہ کا ہر طالب علم زبانی یاد کرتا ہے اور وہ عبارت یہ ہے، "قال أهل الحق : حقائق الأشياء ثابتة، والعلم بها متحقق خلافًا للسوفسطائية" ترجمہ : اہل حق نے کہا کہ چیزوں کی حقیقت ثابت شدہ ہے اور اس کا علم سوفسطائیہ کےبر خلاف واقع ہونے والا ہے، اور شارحین وحاشیہ نگاروں نے تعلیق کرتے ہوئے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اہل حق وہ اہل السنت والجماعت ہیں جو اشعری اور ماتریدی پر مشتمل ہیں ۔

پھر ہم نے اس کے بعد ماسٹر اور ایم فل کے مرحلے میں یہ سیکھا کہ اہل سنت والجماعت ماتریدی واشعری اور اہل حدیث ہیں اور حنفی، مالکی، اور شافعی مسلک کے فقہاء کرام، اسی طرح حنبلی مسلک کے فقہاء عظام اس مذہب سے خارج نہیں ہیں، جیسا کہ سلطان العلماء عز الدین بن عبد السلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اور یہ مفہوم اس عموم کے ساتھ ہے جس میں مسلمانوں کے متکلمین فقہاء، محدثین، متصوفین، نحوی اور لغوی تمام علماء اور ائمہ شامل ہیں، اور امام اشعری کی وفات کے بعد اس مصطلح کے ظہور کے حق میں خود قدیم علماء اشاعرہ نے بھی اس کی تائید فرمائی ہے، خاص طور پر امام عبد القاھر بغدادی کے نزدیک ان کی " الفرق بین الفرق واصول الدین" نامی کتاب میں واضح ہے، پھر یہ کہ ابو المظفر اسفرائینی کے نزدیک ان کی "التبصیر فی الدین" نامی کتاب میں ظاہر ہے، بعد کے زمانوں میں امام ابو الولید ابن رشد مالکی سے لیکر علامہ سفارینی حنبلی تک جمہور علماء کے نزدیک یہی مصطلح قابل ترجیح رہا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے تین فرقے ہیں : ایک اثری نامی فرقہ ہے جس کے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہیں، دوسرا اشعری جس کے امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ ہیں اور تیسرا ماتریدی جس کے امام ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ ہیں، اور ان کے بعد علامہ مرتضی زبیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت سے مراد چار فرقے ہیں : ایک محدثین کا، دوسرا صوفیہ کا، تیسرا اشاعرہ اور چوتھا ماتریدی کا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر پوری امت کا اتفاق ہے، اور ہزار سال سے زیادہ عرصے سے اس پر قائم ہے، اس طور پر کہ ان سب کا تعایش ایک ایسی جامع وحدت کے ساتھ ہے کہ جس نے تعدد اور پسندیدہ اختلاف کو قبول کیا اور افتراق وانتشار اور ناپسندیدہ اختلاف کو نظر انداز کیا ۔

لیکن وہ اشعری کون ہیں جنہیں امام اہل السنت والجماعت کے لقب سے نوازا گیا؟ اور ان کا طریقہ کیا ہے؟ اور امت ان سے اب تک راضی کیوں ہے؟ ان کی شبیہ بگاڑنے، لوگوں کو ان سے متنفر کرنے، ان کو بدعتی اور فاسق قرار دینے حتی کہ انہیں مذہب وملت سے خارج کرنے کی کوششوں کے باوجود امت ان سے راضی کیوں ہے؟

 

 میں اپنے ساتھہ مصر سے "الإمام أبي الحسن الأشعري إمام أهل السُّنَّة والجماعة" کے نام سے چار جلدوں پر مشتمل ایک کتاب لے کر آیا ہوں، جو امام اشعری کی شخصیت پر منعقد ازہر کے عالمی سیمینار میں پیش کٰئے جانے والے مقالات ومضامین پر مشتمل ہے اور وہ اس لئے تاکہ میں اس طرح کے سؤالات کے جواب میں تشریح وتفصیل بیان کرنے سے مستغنی ہوجاؤں ۔

 جس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کیا  آپ جانتے ہیں کہ اس امام اشعری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش سنہ260ھ میں بصرہ میں ہوئی، اور راجح قول کے مطابق ان کا انتقال سنہ324ھ میں بغداد میں ہوا!! اور ان کی پیدائش اور نشو ونما ایک ایسے ماحول میں ہوئی جو  فکری، مذھبی، باہمی فخر ومباہات، لڑائی جھگڑے اور شدت پسندی کا ماحول تھا اور یہ ماحول آج کے اس ماحول سے بڑی حد تک مشابہت رکھتا ہے -

جس ماحول سے آج امت گزر رہی ہے وہ اس طور پر کہ آج بھی ایک دوسرے کو کافر قرار دینے والے فرقے موجود ہیں، مذھبی تشدد اور فرقہ وارانہ شدت پسندی کا بازار آج بھی گرم ہے، اس وقت معتزلہ اپنے عقلی مذہب کے لئے تعصب اختیار کر رہے تھے تو دوسری طرف غلو کرنے والے حنابلہ اپنے نصی منہج کے لئے تعصب اختیار کر رہے تھے اور امام اشعری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی پرورش وپرداخت اسی اعتزالی مدرسے میں ہوئی پھر بعد میں انہوں نے اسی مذہب کو اختیار کیا، حتی کہ آپ کا شمارہ اس مذہب کے بڑے مناظروں اور دفاع کرنے والے لوگوں میں ہونے لگا لیکن وہ یکایک ظاہر ہوکر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک تمام مذاہب کے دلائل یکساں اور برابر ہیں اور وہ مذہب اعتزال سے براءت کا اعلان کرتے ہیں، اس سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور اہل السنت والجماعت کے مذہب کو لوگوں کے مابین بیان کرنے اور اس کا دفاع کرنے اور معتزلہ مجسمہ جبریہ خوارج مرجئہ جیسے منحرف مذاہب اور انٔکے نقش قدم پر چلنے والے دوسرے منحرف مذاہب کے درپہ ہونے کا عزم مصمم کرتے ہیں، ابھی تهوڑی مدت بھی نہیں گزری تھی کہ امام علیہ الرحمۃ نے اس مذهب کے بارے میں اعلان کیا کہ یہ مذہب دوسرے فرقوں کے مقالات کے مابین ایک وسطی مذہب ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے قرآن وحديث اور ائمہ اور علماء سلف کے فرمودات پر اعتماد کیا ۔

 اس مذہب میں جو نئی بات ہے وہ یہ ہے کہ یہ مذہب عقل ونقل کے مابین ایک جامع منہج ہے، یعنی اس مذہب میں عقائد کے مسائل کو عقلی اور منطقی دلائل سے اس طرح ثابت کیا جاتا ہے کہ اس کو پیش کرنے میں صرف نقل پر ہی انحصار نہیں کیا جاتا کہ اس کا تصادم عقل سے ہو جیسا کہ نصوص سے متعلق جامد لوگوں اور اہل ظاہر کا شیوہ اور طریقہ ہے بلکہ عقلی طور سے بھی اس کی وضاحت کی جاتی ہے، اور جیسا کہ اشعری علیہ الرحمۃ نے عقلی اور ذهني تاویلات اور نص کو اس کے سیاق وسباق سے نکال کر ان عقلوں کے تحکمات کے حوالے کرنے میں افراط سے کام نہیں لیا جو صحیح نظر اور دلیل پر قائم نہیں ہیں جیسا کہ معتزلہ اور دیگر مذاہب کا حال ہے ۔

 یہ خصوصیت جس کی وجہ سے اہل السنت والجماعت کے امام کو امتیازی حیثیت حاصل ہے وہ افراط وتفریط یا نقل کے مابین اعتدال کی صفت ہے یعنی منقولات پر ایمان لانے اور عقل کے احترام کے مابین امتزاج پیدا کرنا ہے اور یہ صفت اعتدال کوئی بدعت نہیں ہے جسے امام اشعری نے اپنی خواہش یا شہرت یا سرداری حاصل کرنے کے لئے وجود میں لایا ہو بلکہ قرآن مجید کے نہج پر اسے وجود میں لایا جس کے مقدس نصو ص ان دونوں اصول کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جن اصولوں پر اشعری مذهب کی بنیاد ہے، اور وہ میانہ روی ،آسانی اور تنگی کو دور کرنے کے اصول ہیں اور اسی طرح عقل کی اہمیت اور اس کے مقام کو بھی بلند کرنا ہے جن کے الفاظ اور معانی قرآن کریم میں ایک سو بیس سے زائد مقامات پر استعمال ہوے ہیں، اور سب سے سخت بات یہ ہے کہ انسان جب کسی عقیدے کو اختیار کرتا ہے تو عقل کو اس میں غور وفکر کرنے سے روک دیتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں عقلی مداخلت کی وجہ سے اس  کے عقائد خراب نہ ہو جائیں اور ایک حقیقت غیر حقیقت میں نہ بدل جائے، اسی صفت کی وجہ سے اہل السنت والجماعت نے امت اسلامیہ کے لئے عقلی استقرار، دلی اطمینان اور دو رکنی متضاد چیزوں میں شرعی مصالحت کو فراہم کیا ہے کیونکہ اس چیز نے بہت ساری قوموں کو تھکایا ہے اور اب تک تھکا رہی ہے، اسی وجہ سے ان میں سے بہت سارے لوگوں نے اپنے دین وملت کو دیواروں سے دے مارا اور اس سے دستبردار ہو گئے ۔

 

 

اہل السنت والجماعت کا مذہب ایک ہزار یا اس سے بھی زیادہ سالوں سے مسلمانوں کی صرف وحدت کا امانت دار محافظ اور نگہبان نہیں ہے اور ناہی ان کی صرف دینی اور فکری تہذیب وثقافت میں روح پھوكنے والا ہے بلکہ مختلف میدانوں میں ان كي مادی اور علمی تہذیب وثقافت میں بھي روح پھوكنے والا ہے، اور ابو منصور بغدادی رحمة الله نے نہایت ہی ذہانت اور ذکاوت کا ثبوت دیتے ہؤے مسلمانوں کے نزدیک عقلی وروحانی استقرار اور آبادی اور تہذیب وتمدن سے متعلق ترقی کے مابین فطری اور منطقی ربط کی طرف اشارہ کیا ہے، اور کیسے اہل السنت والجماعت کا مذہب ہمارے پیش کردہ دائرہ کے مطابق اس امت کی نشأۃ ثانیہ کا سبب تھا ۔ عبد القاہر بغدادی رحمة الله کے قول کے مطابق دین اور دنیا سے متعلق اہل السنت والجماعت کی تصنیف کردہ کتابیں اس امت محمدیہ کے لئے ہمیشہ افتخار واعتزاز کا باعث رہیں گي، اسلامی ملکوں میں ان کے شهری اثرات مشہور ہیں اور محققین کی نگاہوں کے سامنے روز روشن کی طرح عياں ہیں۔ اسی طرح تاریخی کتابوں کے صفحات میں ہميشه ہميش کے لئے اس طرح زندہ وجاوید ہیں كه ان کا کوئی ثانی نہیں ہے، مثال کے طور پر انکے تاریخی اثرات میں مسجدیں، مدرسے، محل، قیامگاہیں، فیکٹریاں، ہسپتال اور سنی ملکوں میں تعمیر شدہ دوسری عمارتیں بھی قابل ذکر ہیں، پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں اہل السنت والجماعت کے علاوہ دوسروں کا کوئی عمل قابل ذکر نہیں ہے، اور حرمین شریفین کے ملک اور اس کے شہروں میں جو بلند وبالا عمارتیں اور آثار ہیں وہ سب کے سب اہل السنت والجماعت کے کارناموں میں شمار هوتے ہیں -

معزز سامعین کرام !

میں اپنی بات اہل السنت والجماعت کی ان خصوصیات کو بیان کئے بغیر مکمل نہیں کر سکتا جن کی وجہ اس مذہب کو ایک امتیازی شان حاصل ہے اور يه بقا اور خلود کی دولت سے بهرور ہے -

(1)      یہ کوئی نیا مذہب اور کوئی نیا طریقہ کار نہیں ہے بلکہ امانتداری کے ساتھ  اسلاف کے عقائد کو ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے جس میں حقیقت وواقعیت اور عقل ونقل کے مابین مکمل ہم آہنگی کا ایسا انکشاف کیا گیا ہے کہ جس انکشاف کو پیش کرنے سے غلو کرنے والے وہ نصوص پرست عاجز وبے بس ہیں جنہیں عقلی نظر بوجھل معلوم ہوتی ہے، اسی طرح معتزلہ اور دوسرے فرقے بھی اس انکشاف کو پیش کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں، امام تاج الدین سبکی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ اشعری نے کسی بدعت یا کسی نئے مذہب کا ايجاد نہیں كیا بلکہ اسلاف کے طریقوں کو ثابت كيا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مسلک کا دفاع كيا، پس ان کی طرف يه نسبت اس اعتبار سے ہے کہ انهوں نے اس کو مضبوطی سے پکڑا اور اس پر حجتیں اور دلائل قائم کیں، پس وہ اس مذہب کے پیروکار بن گئے اور اسی لئے دلائل کی روشنی میں زندگی گزارنے والا اشعری کہلاتا ہے -

یہی وہ تن تنہا مذہب ہے جو کسی بھی صاحب قبلہ کو کافر قرار نہیں دیتا ہے، اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے کہ جب بغداد میں امام اشعری رحمۃ اللّٰہ عليه کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے ایک شاگرد سے کہا کہ تم گواہ رہو کہ میں نے اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں قرار دیا کیونکہ سب ایک ہی معبود کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ سب عبارتوں کا اختلاف ہے ۔

آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کو کسی کو کافر قرار دینے کے رجحانات سے سخت بیزاری تھی اور آپ کو خون بہانے، مال ودولت اور عزت وآبرو کو حلال سمجھنے کی شکل میں ان رجحانات کے نتائج کا بہت پہلے ہی علم ہو چکا تھا اسی لئے آپ نے اسلامی فرقوں سے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس کا نام "کتاب مقالات الاسلامیین واختلاف المصلیین" ركھا جس میں اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ اسلام اصول اور فروع میں اختلاف کے باوجود مختلف اسلامی فرقوں کے نمازیوں کو اپنے دامن وسعت میں سموئے ہؤے ہے، پھر ہم نے کتاب کے آغاز میں ایک ایسی عبارت پڑھی جس عبارت کی ضرورت مسلمانوں کو آج بہت زیادہ ہے بلکہ اپنی طاقت وقوت اور وحدت کو واپس لانے کے لئے اس عبارت سے مفر نہیں، اشعری رحمۃ اللّٰہ نے فرمایا کہ نبی اكرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں نے بہت ساری چیزوں میں اختلاف کیا، بعض نے بعض کو گمراہ کہا اور بعض نے بعض کو برا قرار دیا، پس وہ لوگ جدا جدا فرقوں اور مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو گئے مگر یہ کہ اسلام ان سب کو جمع کرتا ہے اور ان سب پر مشتمل ہے -

اسی فکر نے امام اشعری رحمۃ اللّٰہ علیہ کو اپنی کتاب صادر کرنے پر آمادہ کیا تاکہ وہ اسکے ذریعہ اپنے شاگردوں کو بھی اس کتاب کی تحقیق وتعلیق پر ابھاریں، اس موقع پر ہم صرف مذکورہ کتاب کی ایک فصل میں بغدادی کے ایک نص کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں جس میں وہ فرماتے ہیں کہ اہل السنت والجماعت آپس میں ایک دوسرے کو کافر نہیں قرار دیتے اور ناہی ان کے مابین کوئی ایسا اختلاف ہے جس کی وجه سے اظهار براءت اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی ضرورت محسوس ہو، اللہ رب العزت حق اور اہل حق کی حفاظت فرماتا ہے پس وہ لوگ آپس میں دشمنی اور انتشار اور اختلاف کے شکار نہیں ہوتے ، پھر وہ دوسرے فرقوں کی حالت کو بیان فرماتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ آج ہماری حالت بیان کر رہے ہیں، پس وہ کہتے ہیں کہ مخالفین کے فرقوں میں سے کوئی ایسا فرقہ نہیں جس میں وه ایک دوسرے کو کافر قرار نه دیتے ہوں اور ایک دوسرے کو براءت کا پروانہ نه مرحمت كرتے ہوں حتی کہ ان میں سے سات ایک مجلس میں جمع ہؤے اور ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر جدا ہو گئے ۔

معزز سامعین کرام !

ایک دوسرے کو کافر قرار دینا یہ خون کا پیغام رساں ہے اور جو لوگ مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ کافروں سے جہاد کر رہے ہیں ان کے نزدیک یہ خون بہانے کے لئے وجہ جواز پیدا کرنے کا سبب ہے، آپ اپنے ارد گرد دیکھیں اور مجھے بتائیں کہ کیا اہل السنت والجماعت کے علاوہ کوئی ایسا مذہب ہے جو مسلمانوں کو کافر فاسق یا بدعتی نہ کہتا ہو، انہوں نے تو اپنے مذہب کے لوگوں کی خلاف ورزی کی اور ان کی حکم عدولی کی۔

اہل السنت والجماعت جمہور امت ہے اور انکے ائمہ امام مالک، امام شافعی، امام ابو حنیفہ ،امام احمد بن حنبل ہیں، امام اشعری، امام ماتریدی اور ان دونوں کے شاگرد اور مدرسے بھی ہیں، حسن بصری، جنید، محاسی، سراج، امام غزالی، اہل حدیث، فضلاء حنابلہ اور ان کے علماء اور جو لوگ بھی امام احمد بن حنبل کے منھج، انکے زہد وتقوی پر قائم ہیں، اور جو لوگ ان کے خونی جرائم اور مسلمانوں کو ایک مرتبہ فاسق قرار دینے، دوسری مرتبہ دین اسلام سے خارج کر دینے کے فتنه سے دور رہنے کی سیرت وکردار کو نمونہ بنانے والے ہیں یہ سب کے سب اہل السنت والجماعت میں شامل ہیں ۔

اہل السنت والجماعت کا مذہب وہ مذہب ہے جسے مضبوطی سے پکڑنے کے سلسلہ میں اللہ کے پیارے نبی محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم نے وصیت فرمائی  ہے  کہ جب اسلامی سماج اور سوسائٹی كی حالت دگرگوں اور مضطرب ہو، ہر طرف فتنے کی آماجگاہ ہو اور راستے منحرف ہوں تو اہل السنت والجماعت کو مضبوطی سے تھام لو، آپ کا ارشاد ہے كه جماعت کو لازم پکڑو، انتشار وافتراق سے بچو کیونکہ شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور دو سے بہت دور ہوتا ہے جسے جنت کی نعمتیں پسند ہیں وہ جماعت کو لازم پکڑے ۔

معزز سامعین کرام !

مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں آپ کا کافی وقت لے چکا ہوں اور معذرت کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ آج امت جن حالات سے گزر رہی ہے اس کے لئے مجاملات، اشارات اور احساسات وجذبات کی رعایت پر مبنی گفتگو کا احتمال باقی  نہیں رہا اور ہمارے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہے وہ امت کی شیرازہ بندی کا کام ہے، گندے عقائد اور  ناپسندیدہ تاویلات سے عقلوں اور دلوں کو دھلنے کا کام ہے، اور ہمارے لئے یقینی طور پر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس امت کی اصلاح اسی طریقہ میں پوشیدہ ہے جس کے ذریعے اس امت کے پہلے افراد کی اصلاح ہوئی، اور جس طریقے کے ذریعے اس امت کے پہلے لوگوں کی اصلاح ہوئی وہ طریقہ اہل السنت والجماعت کا طریقہ ہے، جس میں آسانی، وسعت  وفراخدلی، روحانیت اور ایک  وسیع وعریض  سایہ ہے ۔

اور میں اپنی بات اس اعلان کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے اہل السنت والجماعت کے طریقے کو اختیار کیا پھر وہ صحیح راستے سے بھٹک گئے ہیں تو وہ واپس اپنی عقلمندی اور دانشمندی کی طرف لوٹ آئیں،وہ جو گناہ اور جرائم کر رہے ہیں اس سلسلہ میں وہ اپنی ضمیروں کو فیصل بنائیں، اور یہ جان لیں کہ فاسد تاویلات کل قیامت کے دن ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائیں  گے اور وہ خود ہی زمین میں بہائے جانے والے خون اور فساد کے ذمہ دار ہونگے، توبہ کا دروازہ توبہ اور رجوع کرنے والوں کے لئے کھلا ہوا ہے،  وہ صحیح فہم وفراست اور صحیح دل ودماغ کے ساتھ دوبارہ قرآن پاک پڑھیں اور اس کی آیتوں می غور وفکر کریں اور اپنے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نور سے روشنی حاصل کریں جنهيں اللہ رب العزت نے سارے جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تھا ۔

 


 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
12345679Last