وطن سے وابستگى اور قوميت

  • 21 اگست 2017
وطن سے وابستگى اور قوميت

ہمارى عام اور خاص زندگى ميں جن مختلف اقدار كا نماياں مقام ومرتبہ ہے انہيں اقدار ميں نسبت كى بهى صفت ہے، اور اس نسبت كا مطلب يہ ہے كہ ہم اپنے آپ كو كسى كى طرف منسوب كريں خواه يہ وفادارى كى بنياد پر ہو يا كسى خاص جگہ كے احترام كى بنياد پر، يا كسى شخص كى طرف ہو يا كسى ايسے اداره كى طرف جس كا ہمارى زندگى ميں بہت اہم كردار ہو، اسى طرح وطن كى طرف نسبت بهى ہے.

Image

ہمارے دلوں ميں اپنے ملک اور اس كى سر زمين كى بے مثال قدر ومنزلت اور بہت بڑى اہميت اور ہے، كيونكہ يہ وه جگہ ہے جہاں ہمارى پيدائش اور پرورش وپرداخت ہوئى، جس كى نعمتوں سے ہم لطف اندوز ہوئے ہيں اور جس كى ہواؤں ميں ہم نے سانس لى ہے، يہ وه جگہ ہے جو ہمارے بچپن، جوانى اور بڑهاپے حتى كہ زندگى كے آخرى لمحوں ميں ہونے والى يادوں كو اپنے اندر سموئے ركهتى ہے، اور ہمارے لئے اس كا كوئى متبادل نہیں ہو سكتا خواه حالات كيسے ہى كيوں نہ ہوں، آزمائشيں اور سختياں كتنى ہى كيوں نہ بڑه جائيں، اسى وجہ سے مصر كے عظيم شاعر "احمد شوقى" (امير الشعراء) نے كہا:

عزيز ہے مجهے ميرا وطن چاہے وه مجهـ پر كتنا ہی ظلم كيوں نہ كرے

عزيز ہيں مجهے ميرے لوگ چاہے وه مجهـ سے كتنى ہی زيادتى كيوں نہ كريں

اپنے وطن سے پيار ومحبت اور اس كى عزت اور احترام كے شعور ہی كى وجہ سے حضور اكرم محمد صل الله عليه وسلم نے اپنے وطنِ عزيز مكہ مكرمہ سے مدينہ منوره كى طرف ہجرت كرتے ہوئے اپنے شہر مكہ مكرمہ سے مخاطب ہو كر فرمايا تها:

"خدا كى قسم تو ميرے نزديک الله كى سب سے پسنديده سر زمين ہے، اگر تيرى قوم نے مجهے نہ نكالا ہوتا تو ميں نہ نكلتا" (امام احمد سے روايت ہے)-

Image

آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے شہر مكہ كے باشندوں سے ملے نوع بنوع تكليف وپريشانياں، ايزارسانى، بے وفائى وعہد شكنى، غدارى ودهوكا دہى اور دشمنى كے با وجود ايسا فرمايا تها، اور جب آپ دوباره اپنے ملک فاتح اور كامياب ہو كر لوٹے تو آپ نے ان تمام لوگوں كو معاف فرماديا. اپنے ملک كى طرف نسبت اور اس سے وفادارى ہی ملک كے باشندوں كو ملک كى حفاظت اور ہر قسم كے خطروں سے بچانے كے لئے اٹه كهڑے ہونے پر مجبور كرتى ہے، اور وه لوگ اپنے ملک كى حفاظت اور اس كے دفاع ميں اپنى جان كى قربانى پيش كرتے ہیں-

 

ملک سے نسبت محض ايک لفظ نہيں ہے جسے زبان سے بول ديا جائے يا غيرت وحميت پر مبنى كوئى ترانہ نہيں ہے جسے صرف محفلوں اور تقريبوں ميں پڑهـ ديا جائے بلكہ اس كا مطلب يہ ہے كہ اس ملک كو ايسے كام كى ضرورت ہے جو اس كو آگے بڑهائے، جنگ اور صلح دونوں حالات ميں اس كى عزت ميں چار چاند لگائے، جب ہم ملک كى طرف نسبت كى اہميت سے متعلق گفتگو كرتے ہیں تو اس وقت ہميں نسبت سے  متعلق حقيقى دلائل كى ضرورت ہوتى ہے، اگر اس ملک كى طرف نسبت مجهـ سے مطالبہ كرتى ہے كہ ميں ہر طرح كى دشمنى اور ظلم وزيادتى سے اس كى حفاظت كروں تو بالكل اسى طرح مجه سےاس بات كا بهى مطالبہ ہے كہ ميں ہر طرح كى آلوگى سے اس كى حفاظت كروں تاكہ وہاں كے باشندے اچهے ما حول ميں زندگى بسر كريں، اس كا مطلب يہ بهى ہے كہ ميں علم كے ہتهيار سے مسلح ہوكر دنيا ميں ہونے والى ترقى كى ريس ميں شريك ہوں ، اس كا مطلب ہے كہ  ميں  كسى  كے ساته ظلم نہ كروں اور نہ ہى ہونے دوں ، سب كو اس كے حقوق دينے كى كوشش كروں، اس كا مطلب ہے كہ ميں  ہر كسى كے ساته انصاف اور مساوات  كى بنياد پر پيش آوں اور اچهى طرجان لوں كہ " ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم"  ( الله اس وقت تك كسى قوم كى حالت نہيں بدلتا جب تك وه اپنى حالت نہ بدلے )   يہ وطن اور  يہ سر  زميں ہر شہرى كے لئے امانت كى طرح ہے اور امانت ميں خيانت كرنا مسلمانوں اور مومنوں كا شيوه ہرگز نہيں ہے .

 

Print

Please login or register to post comments.

 

اسلام امن وسلامتى كا سب سے بڑا داعى ہے

                   فرمانِ الہى ہے: "وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ" (اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے) [سورۂ ذاريات: 55]، ہم ميں سے بہت سے ايسے ہيں...

علم كا فريضہ

              علم جہالت كى ضد ہے۔اور ا س سے مراد  معرفت   اور   كسى   چيز كى  اصل  حقيقت كو  مكمل طور پر  پا لينا ہے۔نبى كريم ؐ   كو سب سے...

اسلام كردار كے زور سے پھيلا ہے ، تلوار كے زور سے نہيں

               اسلام امن وسلامتى  كا دين ہے  جو كردار كے زور  سے پھيلا  ہے،تلوار كے زور نہيں. دوسرے  لفظوں ميں كہا جا سكتا ہے كہ  يہ دين جب رسولِ اكرم پر نازل ہوا اور آپ نے اس...

انتخابات اور سياسى سرگرميوں ميں حصہ لينا

             دہشت گرد تنظيم داعش كا فتوى  ہے كہ انتخابات اور سياسى نظام ميں حصہ لينا حرام ہے، يہاں تك كہ انہيں  اسلام كے نواقض ميں شمار كيا جاتا ہے۔ جواب:        ...

12345678910Last

شاہ بحرین کے استقبال کے دوران : ہم بحرینی قوم کی یکجہتی اور اس کی استقلالیت کی تایید کرتے ہیں اور اس کے اندرونی مسائل میں دخل اندازی نہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
جمعرات, 28 اپریل, 2016
شاہ بحرین : حقیقی اسلامی ثقافت کی حفاظت کے لۓ ازہر شریف کے کردار کی اہمیت کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ آج فضیلت مآب امام اکبر نے شاہ بحرین "حمدین عيسى آل خلیفہ" اور ان کی رفقت میں موجود وفد کا استقبال کیا جو آج کل قاہرہ کے دورے پر ہیں۔...
امام اکبر کے مونستر شہر میں تاریخی ہال "السلام" کے دورے کے دوران: "معاشروں کے مابین امن وامان، انٹر ریلجس ڈائیلاگ سے شروع ہوتا ہے"
جمعرات, 17 مارچ, 2016
جرمن شہر مونستر کے میئر کی دعوت پر فضیلت امام اکبر شیخ ازہر اور مسلم علماء کونسل کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب  نے  تاریخی "السلام" ہال کا دورہ کیا جس میں 1648ء میں عقائدی جنگ کو ختم کرنے کے لۓ امن وسلام کے معاہدے پر...
مونسٹر یونیورسٹی میں امام اکبر کا خیر مقدم..
جمعرات, 17 مارچ, 2016
امام اکبر کچھ دیر بعد "مذاہب میں امن وامان کی بنیادیں" کے عنوان سے ایک تقریر پیش کریں گے۔ فضیلت امام اکبر شیخ ازہر اور مسلم علماء کونسل کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب  "مذاہب میں امن وامان کی بنیادیں" کے عنوان سے ایک...
First45678910111213

اسلام كردار كے زور سے پھيلا ہے ، تلوار كے زور سے نہيں
               اسلام امن وسلامتى  كا دين ہے  جو كردار كے زور  سے پھيلا  ہے،تلوار كے...
منگل, 25 دسمبر, 2018
عبادت كى حقيقت ‏
جمعرات, 1 مارچ, 2018
12345678910Last

اسلام امن وسلامتى كا سب سے بڑا داعى ہے
                   فرمانِ الہى ہے: "وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ...
پير, 21 جنوری, 2019
علم كا فريضہ
بدھ, 9 جنوری, 2019
انسان اور عقل (2)‏
جمعرات, 13 دسمبر, 2018
تواضع كى قوت
منگل, 11 دسمبر, 2018
انسان اور عقل (1)‏
منگل, 11 دسمبر, 2018
12345678910Last