اخلاق كے معانى

  • | اتوار, 28 جنوری, 2018
اخلاق كے معانى

             اخلاق طبيعت اور خصلت كو كہتے ہیں، مسلم فلسفيوں نے اخلاق كے بارے ميں كہا ہے كہ وه نفس (ذات) كے اندر پختہ اور مستقر ہیئيت وكيفيت ہے، بلا شبہ خلقت جو انسان كى ظاہرى تصوير ہے اس كے مقابلہ ميں يہ انسان كى باطنى تصوير ہے۔

            ہر انسان كى ذات كے اندر متعدد قوتيں اور مختلف ذمہ دارياں ہیں، نفس (ذات) ميں ادراک، سوچ، اور خيال كى طاقت ہے، ايسے ہی اس ميں احساس وجذبات، اور جبلت يا فطرت بهى موجود ہے، ان تمام طاقتوں كى وجہ سے اس كے افعال آسانى اور سہولت كے ساتهـ صادر ہوتے ہیں، تو كيا ان تمام قوتوں پر اخلاق كا اطلاق ہو سكتا ہے؟

             يقينا ہم اس قوت كو اخلاق كا نام نہیں دے سكتے، ليكن ہم انسانى ذات كى اس اندرونى قوت كو اس طرح تقسيم كر سكتے ہیں۔

            عقل اور معرفت، احساس وجذبات، عزم واراده۔

           اخلاق انسان كے نفس (ذات) كى ايک مستقل طاقت كا نام ہے، جس كا ميدان وه ارادى افعال ہیں جن پر خير اور شر كا حكم لگايا جاسكتا ہے، تو انسان كے تمام عقلى وارادى افعال جن كا كرنا اور نہ كرنا دونوں برابر ہے، اخلاقى مفہوم كى اس حد بندى كى وجہ سے اخلاق كے دائره سے نكل جاتے ہیں، پس ان پر خير اور شر كا حكم نہیں لگايا جا سكتا، اور ان افعال كے كرنے والے شخص كے بارے ميں بهى يہ حكم نہیں لگايا جا سكتا كہ اس نے اچها كيا یا برا كيا، يا وه نيک ہے يا بد.
اسلام ميں اخلاق کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ نبی اکرم نے کامل اس مومن کو قرار دیا ہے جس کے اخلاق مکمل ہوں، اور تاکید کی کی قیامت کے دن حسن اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہوگی، اللہ رب العزت نے نبی الاسلام کو "عظیم اخلاق" کا حامل قرار دیا۔ اخلاق کی اس واضح حقیقت کے باوجود مسلمانوں کا رویہ اسلامی تعلیمات اور اسوہ نبی سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا اور جب تک ہمارے قول اور فعل میں تضاد رہے گا ہم وہ امت کیسے بن پائیں گیں، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا " كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر" ( سورة آل عمران:110)۔

            "تم سب امتوں ميں سے بہتر ہو جو لوگوں کے لئے بھیجی گئی ہیں اچھے کاموں کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہو"۔

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

x