اسلامى اخلاق كى خصوصيات

  • | بدھ, 29 اگست, 2018
اسلامى اخلاق كى خصوصيات

            اسلام ميں اخلاق كو چند خصوصيات اور امتيازات حاصل ہيں جو باقى تمام فلسفى مذاہب كى ديگر تمام اخلاقى نظاموں سے مختلف ہيں،  اسلامى اخلاقى نظام كى اہم ترين خصوصيات مندرجہ ذيل ہيں:

- اخلاقى مسائل كى كثرت اور تعدد كے باوجود، اسلام  نے قرآن وسنت كے ذريعہ جامع الاخلاق اور بنيادى فضائل كو تفصيل سے بيان كيا  ہے  ارشاد بارى تعالى ہے: "الله تعالى عدل كا، بهلائى كا اور قرابت داروں كے ساتھ سلوك كرنے كا حكم ديتا ہے اور بے حيائى كےكاموں، ناشائستہ حركتوں اور ظلم  وزيادتى سے روكتا ہے، وه خود تمہيں نصيحتيں كررہا ہے كہ تم نصيحت حاصل كرو" (سورۂ نحل: 90)۔

- اسلام وسيلہ اور غايت دونوں ميں اخلاق كى پابندى پر زور ديتا ہے، چاہے ذمہ دارى كى نوعيت جو بهى ہو، اسلام كے اخلاقى نظام ميں  "بلا شبہ غايت وسيلہ كا جواز ہے"  جيسے اصول كى كوئى گنجائش نہيں ہے، اسلام ميں رذيلت منع ہے خواه آخر ميں اس سے فضيلت ہى كيوں نہ حاصل ہو،  الله تعالى كا ارشاد ہے: "ہاں اگر وه  دين كے معاملہ  ميں مدد طلب كريں تو تم پر ان كى  مدد كرنا  لازم  ہے، سوائے ان لوگوں كے كہ تم ميں اور ان ميں عہد وپيمان ہے، تم جو كچھ كررہے ہو الله خوب ديكهتا ہے" (سورۂ انفال: 72)۔

- اسلامى اخلاق دين اور تقوى كے ساتھ ربط وتعلق كى وجہ سے منفرد خصوصيت ركهتا ہے- الله تعالى  كا ارشاد ہے: "تو تم بهى ان كے معاہدے كى مدت ان كے ساتھ پورى كرو، الله تعالى پر ہيز گاروں كود وست ركهتا ہے" (سورۂ براءت: 4)۔

            چناچہ ايفائے عہد خواه  وه مشرك كے ساتھ ہى كيوں نہ ہو  بلا شك  تقوى كى ايك قسم ہے حديث شريف ميں ہے: جس شخص ميں امانتدارى نہيں اس كا ايمان نہيں، اور جو شخص وعده كا وفادار نہيں اس كے دين كا كوئى اعتبار نہيں پس  اسلامى نظام ميں دين اور اخلاق دونوں لازم وملزوم حقيقتيں ہيں، اور اسلام ميں اخلاق كى اہميت كے بيان ميں ہم نے اس بات كى جانب اشاره كيا ہے كہ دين اخلاق  كا مجموعہ ہے، اور اسلام كے پيغام كا مقصد ہى مكارم اخلاق كى تكميل ہے.اسلام دراصل بلند واعلى اخلاق اور اچهے خصائل كا دين ہے جو تقوى اور الله رب العزت سے حقيقى تعلق كا نتيجہ ہے ، ابو ہريره سے روايت ہے كہ رسول پاك صلى الله عليه و آلہ وسلم نے فرمايا كہ  "إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق" (بے شك ميں اخلاقِ حسنہ كى تكميل كے لئے بهيجا گيا ہوں ) ابو ذر رضى الله عنه سے روايت ہے كہ رسول الله نےارشاد فرمايا كہ " خالق الناس بخلق حسن" ( الله كو پيدا كرنے  والے خالق كے اخلاق اچهے اور خوبصورت ہيں) ۔

            حضرت عائشہ رضى الله عنہا فرماتى ہيں كہ ميں نے رسول الله كو يہ فرماتے ہوئے سنا كہ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ» [ابو داود] (مومن آدمى اپنے اچهے اخلاق كى بدولت اس شخص كا سا درجہ حاصل كر ليتا ہے جو رات بهر كهڑے ہو كر عبادت كرے اور دن كو روزه ركهے-)  مسلمانوں كا  سلوك اور ان كا دوسروں كے ساتھ برتاو  اور ان كے اخلاق ہى ان كے دين كى خوبصورتى كى صحيح عكاسى كرتا  ہے ، اميد ہے كہ تمام مسلمان اسلام   كا  ايك ايسا آ ئينہ بنيں جس ميں دنيا بهر اس دين كى خوبصورتى كا نظاره كرسكے اور يہ جان لے كہ  ہمارا  دين ايك اچهى اور متوازن زندگى بسر كرنے كى دعوت ديتا ہے  اور يہ كہ الله سبحانہ وتعالى كى راه ميں جينا اس كى راه ميں مرنے يا مارنے سے بہتر ہے ۔

Print
Tags:
Rate this article:
5.0

Please login or register to post comments.

x