اسلام کے نام سے خواتین پر تشدد

  • || 26 دسمبر, 2016
اسلام کے نام سے خواتین پر تشدد

دہشت گردی  ايك ايسى لعنت ہے جس سے  پوری دنیا متاثر ہو چکی ہے، عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد ان کا شکار ہوئی ہے ۔ چنانچہ دہشت گردی اور بدامنی اب بلا تفریق پورے عالم کا مسئلہ بن چکا ہے۔

دوسرى جانب سےمشرق وسطی کے کئی ممالک حالیہ برسوں کے دوران جنگ، تشدد اور دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ وہ دہشت گردی جو بعض  تکفیریوں کے اندھے تعصب اور جہالت کا نتیجہ ہے ، ايسے جاہل  جو عورتوں، مردوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کا خون بہانے کو مباح سمجھتے ہیں،  جو اپنے مفتیوں کے جاہلانہ اور رجعت پسندانہ احکامات کی پیروی کرتے ہیں، شرمناک اور غیرانسانی احکامات پر عمل درآمد کر کے عورتوں کو منظم تشدد اور ظلم کا نشانہ بناتےہيں –شام کی عورتیں قید، غلامی اور جبری شادیوں جیسے تکفیریوں کے شرم ناک اور غیرانسانی احکامات کے ذریعے سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہو رہی ہیں۔ گزشتہ برس عراق میں یومیہ بہت سى خواتین ریپ کا شکار ہوئیں، خاص طور پر  يزيدي خواتين سب سے زیادہ متاثر ہوئی.

ایزيدی مذہب کے ماننے والوں کو داعش ’کافر‘ قرار دیتی ہے اور گزشتہ برس سنجار پر قبضے کے بعد اس گروہ نے اس قدیم مذہب کے ماننے والے ہزاروں افراد کو قتل عام کیا، جب کہ خواتین اور لڑکیوں کو جنسی غلام بنایا گیا۔

داعش كا منہج گمراہى اور تاريكى كا منہج ہے، وه باطل كو حق كا لباس پہنانے كى كوشش كرتے ہيں-

داعش کے باطل علماے دین نے ایک نہایت مفصل فتویٰ جاری کیا ہے جس میں داعش کی غلامی میں جو خواتین ہیں اُن کے ساتھ اُن کے مالکین کے جنسی تعلقات کے حوالے سے قوانین اور احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

اس فتوے میں شامل اہم ترین احکامات میں کہا گیا ہے کہ ایک خاتون غلام کے ساتھ باپ اور بیٹا دونوں جنسی تعلق نہیں رکھ سکتے۔ اس کے علاوہ ایک ماں اور بیٹی دونوں کو اپنی ملکیت میں رکھنے والے مرد کو ان دونوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ایک خاتون غلام کے مشترکہ مرد مالکین کو اُس خاتون کے ساتھ ہم بستری کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ وہ ’’ مشترکہ ملکیت‘‘ تصور کی جاتی ہے۔

 

کچھ خواتین نے داعش کی طرف سے  ایزیدیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے ہولناک پہلوؤں پر سے پردہ اُٹھایا ہے-  

بحار کا کہنا ہے کہ میرا تعلق عراق کے صوبے کردستان سے ہے۔میں 14سال کی تھی جب مجھے داعش کے دہشت گردوں نے اغوا کیا، انہوں نے میرے ’’کنوارپن‘‘ کے ٹیسٹ کروائے تاکہ خریدنے والے کو میرے کنواری ہونے کا ثبوت دے سکیں۔ ٹیسٹ کروانے کے بعد مجھے داعش کے ایک دہشت گرد کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا، مجھے چھ ماہ کے عرصے کے بعد دیگر چار مردوں کو فروخت کیا گیا، اس دوران روزانہ کی بنیاد پر مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا، میں جب کبھی جنسی زیادتی کے خلاف مزاحمت کرتی  تو مجھے کوڑوں سے مارا جاتا تھا۔ آخر کار میرے خاندان نے  800ڈالر کے عوض مجھے واپس خرید لیا اور اس طرح میری اس اذیت سے خلاصی ہوئی۔ میرے خاندان نے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کیں جو داعش سے یزیدی لڑکیوں کو رقم کے عوض چھڑواتا تھا۔ اسی کے ذریعے میں داعش کے زیرتسلط علاقے سے نکل کر کردستان واپس آنے میں کامیاب ہوئی۔

شیریں‘ ایک ايزیدی کُرد نوجوان  لڑكى ہے، جسے شمالی عراق میں داعش‘ کے عسکریت پسندوں نے اغوا کیا، اُسے اذیت پہنچائی اور اُسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اُس لڑکی کا نام فرضی ہے اور اس كى عمر 17 سال ہے ، شیریں آئی ایس کے چُنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی ، پورى دنيا كے سامنے  ايزيدى خواتين كى صورت حال كى  وضاحت كرتے ہوے اس نے كہا:"میں دنیا کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ماضی کی طرح اب بھی لاتعداد یزیدی لڑکیاں، بچياں، خواتین اور مائیں قید میں ہیں اور پناہ گزین کیمپس موجود ہیں جہاں 2014 ء سے لاتعداد انسان ظلم و اذيت کے عالم میں رہ رہے ہیں۔ عالمی برادری کو اُن کی مدد کرنی چاہیے-"

ایک اور ایزیدی خاتون نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے جنگجوؤں نے اسے اغوا کیا اور دوران حراست اسے جنسی زیادتی، تشدد ، جنسی غلامی اور بیچے جانے جیسے اذیت ناک واقعات سے قریب ہر روز گزرنا پڑا۔

21 سالہ عراقی ایزيدی لڑکی نادیہ مرید باسی نے بتایا کہ اسے اغوا کیا گیا اور دیگر خواتین کو جنسی غلامی کے لیے بازاروں میں فروخت کیا گیا۔

اس نے اضافہ كيا ہے كہ "اسلامک اسٹیٹ وہاں صرف ہماری عورتوں اور لڑکیوں کو قتل کرنے نہیں آئی، بلکہ انہوں نے ہمیں مال غنیمت سمجھا، اور اشیاء کی طرح خریدا اور بیچا ۔‘‘

نادیہ مرید باسی کا مزید کہنا تھا کہ داعش نے اس کے گاؤں میں لوگوں کو ایک مقامی اسکول میں زبردستی جمع کیا، جہاں مردوں کو قتل کر دیا گیا جب کہ عورتوں اور بچوں کو دیگر علاقوں میں بطور تحفہ بھیج دیا گیا۔

اس طرح باسی بھی ایک شخص کو فروخت کر دی گئی، جس نے اسے شدید تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

’’اس نے ہر روز میری تذلیل کی۔ وہ مجھے ایسے کپڑے پہننے کے لیے کہتے تھا، جس سے میں اپنا جسم نہ چھپا سکوں۔ وہ مجھ پر تشدد کرتا تھا۔‘‘

تین ماہ تک حراست میں رہنے کے بعد باسی اس شخص کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی اور اب وہ جرمنی پہنچ چکی ہے، جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔"

 

اسلام میں خواتین کا مقام

دین اسلام نے انسان کو جو‏عزت واحترام دیا ہے اس میں مرد و عورت دونوں برابر کے شریک ہیں ، اور وہ اس دنیا میں اللہ تعالی کے احکامات میں برابر ہیں اوراسی طرح دار آخرت میں اجر و ثواب میں بھی برابر ہیں، بلکہ اسلام مردوں کو فرماتا ہے کہ ان کو خاتون کے ساتھ (خواہ مسلم یا غیر مسلم) بڑی عزت سے معاملہ کرے ، اللہ سبحانہ وتعالی نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا ہے: "اوریقینا ہم  نےاولاد آدم کو بڑي عزت  دى" (الاسراء : 70 ) ۔

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى فرمايا ہے:

"عورتوں سے حسن سلوك كرو"-صحيح بخارى-

 اور اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمايا ہے :"اورعورتوں کے لیے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہيں اچھائ کے ساتھ " (البقرۃ : 228 ) ۔

اسلام نے ہی ایک عورت کے حقوق ایک مرد کے مساوی کئے اور عورت کو یہ مقام عطا کیا کہ اگروہ بیٹی ہے تورحمت،اگر بیوی ہے تو شوہر کے نصف ایمان کی وارث اور اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت-

آخر ميں يہ دہشت گرد گروہ محض جاہل  لوگ ہيں جو اسلام  كى نمائندگى ہرگز نہيں كرتے، بالعموم تمام انسان اور بالخصوص مسلمانوں كا يہ فريضہ ہے كہ وہ روئے زمين پر ہر انسان كي جان و مال، ناموس و آبرو كي حفاظت كريں كوئى بهي ناجائز طريقے سے كسي كے دائرہ امن و امان ميں تجاوز نہيں كر سكتا۔ اسلام حتى  جنگ كے دوران بهي ان لوگوں كي جانوں كا جو جنگ ميں شريك نہيں ہيں جيسے عورتين، بچے، بوڑهے وغيرہ كا ضامن ہے اور ان كے ساتھ تجاوز كرنے سے سختي سے منع كرتا ہے اسلئے داعش کے اقدامات غیر انسانی اور غیر اسلامی ہیں-اسلام امن وامان اور انسانيت  كا دين ہے ايك ايسا  نظام حيات ہے جس نے نہ صرف انسان بلكہ   حيوان ونبات كى حفاظت كرنے كا حكم ديا اور اسلام ميں جو مقام عورت كو حاصل ہے  اس كا وجود كسى اور مذہب ميں نہيں ہے اسى لئے اس كى  حفاظت ،عزت اور قدر كرنا  معاشره كے ہر فرد پر لازم ہے.

 

                                                  شعبہ اردو

ازہر  آبزرويٹرى

Print
Tags:
Rate this article:
5.0

Please login or register to post comments.

Name:
Email:
Subject:
Message:
x