امام اکبر ، ازہر شريف کے شیخ كى عیسائی جمہوری پارٹی کے صدر كے استقبال كے دوران

  • 31 مئی, 2016
امام اکبر ، ازہر شريف کے شیخ كى عیسائی جمہوری پارٹی کے صدر كے استقبال كے دوران
امام اکبر ، ازہر شريف کے شیخ اور مجلس حکماء المسلمین کے صدر ڈاکٹر احمد طیب  نے عیسائی جمہوری پارٹی کے صدر، فرانس کے قومی کونسل میں قانون کمیشن کے نائب  صدر اور دہشتگرد تنظیم داعش سے جنگ کرنے والی فوج کے صدر "جان فریدریک بواسون" کا فرانس کی دار الحکومت پیرس میں اپنے قیام گاہ پر پر جوش استقبال کیا ۔
ملاقات کے دوران امام اکبر نے پر تاکید انداز میں بیان فرمایا کہ ازہر پر تشدد افکار کے مقابلہ اور اس کے قلع قمع کے لئے ہمہ تن مشغول ہے اور اس کے لئے مختلف وسائل  بھی استعمال کر رہا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ازہر نے داعش کے وہم وگمان پر مبنی دعووں اور نوجوانوں کے ما بین رائج غلط مفاہیم کی تصحیح کے لئے آٹھ زبانوں پر مشتمل ایک مرصد قائم کیا ہے اور مزید اس کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مستقبل میں اس مرصد کی ترقی اور مختلف دوسری زبانوں کے اضافہ کا بھی ایک لائحہ عمل ہے، اس کے علاوہ اور بھی دوسرے وسائل وذرائع ہیں جنہیں ہم ان تشدد آمیز افکار سے مقابلہ کے وقت استعمال کرتے ہیں؛ مثال کے طور ہم مختلف  کانفرنس اور جلسے منعقد کرتے ہیں، اسی  طرح کتابیں اور پمفلٹس وغیرہ تیار کرتے ہیں اور ازہر کی طرف سے دنیا کے مختلف بر اعظموں کی طرف دعوتی قافلے اور امن وآشتی کے وفود روانہ کئے جاتے ہیں تاکہ یہ وفود لوگوں کے مابین اسلامی عفو وکرم کو فروغ دیں اور امن وسلامتی کے ساتھ باہم مشترکہ زندگی گزارنے کی دعوت دیں ۔
 امام اکبر نے پر تاکید انداز میں کہا کہ ازہر فرانس کے ائمه کو وسطیت واعتدال کے منہج کے مطابق مشق اور تدریب کے لئے مستعد ہے، اور اس کی بھی دعوت دیا کہ تمام مساجد کے لئے ایک متحدہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں اس امر کا التزام ہو کہ مسجدیں آزاد ہیں اور سماج اور سوسائٹی مستقل بالذات ہے اور جو بھی اس لائحہ عمل سے خارج ہوگا اور متشدد فکر کی نشر واشاعت میں لگے گا اس سے ضرور اس سلسلہ میں پوچھ گچھ کیا جائیگا ۔
 
امام اکبر نے بھت ہی شدت کے ساتھ بیان كیا ہے کہ اسلام کی دعوت حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ ہونی چاہئے اور کبھی بھی قتل وغارتگری یا ملک بدر كرنے یا خون بہانے جیسے جرائم کی دعوت نہیں دینی چاہئے جس کا ارتکاب آج دہشتگرد تنظیمیں کر رہی ہیں اور کسی بھی صورت میں یہ تنظیمیں اسلام کی تعلیم عفو ودرگزر کی ترجمانی نہیں کر رہی ہیں ۔
ایک طرف یہ منظر نامہ ہے جبکہ دوسری طرف "بواسون" نے امام اکبر کا شکریہ اس بات کی تاکید کرتے ہوے ادا کیا ہے کہ امام اکبر کا یہ سفر بہت ہی اہم موقع پر ہوا ہے، اور اعتدال ووسطیت، امن وآشتی اور متشدد فکر کے مقابلہ میں ازہر شریف کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے اور واضح طور پر گوش گزار کیا کہ مغربی دنیا کو ان کوششوں سے استفادہ کرنےاور سبق لینے کی ضرورت ہے اسی طرح ان کوششوں کو برتنے اور نوجوانوں کو متشدد افکار سے بچا نے کے لئے ان کے مابین ان کی نشرو اشاعت کی ضرورت ہے ۔
بواسون نے "باتاکلان" نامی تھیٹر میں امام اکبر کی زیارت کو بہت سراہا ہے اور تاکیدا کہا کہ یہ زیارت ایک عظیم انسانی موقف کی تعبیر ہے، اور اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اس سفر کا اثر فرانس کے ان باشندوں پر دیرپا ہوگا جن کی نگاہیں ہمیشہ ازہر کے فرمودات پر ہوتی ہیں اور وہ ازہر کو وسطیت واعتدال کا رمز گردانتے ہیں ۔
 
 
 
 
Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

Name:
Email:
Subject:
Message:
x