تفريح كى قدر وقيمت

  • | پير, 12 فروری, 2018
تفريح كى قدر وقيمت

اسلام انسان كو حقيقىت كے آئينہ ميں  ديكهتا ہے، الله رب العزت كو علم ہے كہ  وه كوئى فرشتہ يا روحانى مخلوق نہیں،  اس كے ساتھ ساتھ وه عقل كے بغير اپنى خواہشات نفس كى پيروى كرنے ميں حيوان بهى نہیں، دراصل  انسان مادے اور روح سے مركب ہے.

  اسلام انسان كى دنيا وآخرت كى بهلائى كے لئے آيا ہے، اس كا مطلب ہے كہ الله تعالى نے انسان كو جس فطرت پر پيدا كيا ہے اس سے يا انسان كى جائز خواہشات سے تعارض واختلاف ممكن نہیں- زندگى كى حلال چيزوں  جيسے كهانے پينے، لباس ورہائش، كام كے بعد زندگى كى ضرورى آسائش وتفريح وغيره سے لطف اندوز اور مستفيد ہونا فطرتِ انسانى كے عين مطابق ہے اور كسى صورت ميں بهى اس كا دين سے تعارض نہیں ہے.

اسلام انسان كو عملِ صالح اور قربِ الہى كى دعوت ديتا ہے، اس كے ساتھ ہی وه اسے تفريح اور راحت كى ترغيب بهى ديتا ہے،  رسولِ پاك كا ارشاد ہے "كبهى كبهى تم دلوں كو تفريح اور راحت ديا كرو" تاكہ انسان دوباره كام كرنے كى تيارى كر سكے كيونكہ دل بهى جسموں كى طرح تهک جاتے ہیں جيسا كہ حضرت على كرم الله وجہہ سے مروى قول ہے: "دل جب تهک جاتے ہيں تو اندهے ہو جاتے ہیں" اسى لئے انہیں تفريح كى شديد ضرورت ہوتى ہے جس سے تهكن اور بوجھ زائل ہو اور ان ميں نئے سرے سے حوصلہ اور قوت  پيدا ہو.

 دنيا اور دين ميں تعارض نہيں ہے ، دنيا كے تمام مذاہب اور خاص طور پر اسلام زندگى اور لوگوں كے مابين تعلقات كو صحيح راستہ پر چلانے كے لئے نازل ہوئے ہيں ، ہمارے دين كى تعليمات زندگى كو بہتر بنانے ، خير اور بھلائى كو پھيلانے ،  دوسروں كے كام آنے ، خوشياں بانٹنے اور غم واندوه ميں شريك ہونے كى ترغيب دلاتا ہے. اسلام ہميں جينے كا سبق ديتا ہے اور اس كے احكام ہميں ايك اچھى اور متوازن زندگى جينے پر ابھارتى ہيں ، اور  اسى بات سے نبى كريم صل الله عليہ وسلم كے اس فرمان كا مفہوم سمجھ ميں آتا ہے جس ميں آپ صل الله عليہ وسلم نے فرمايا: "كہ الله تعالى اپنى نعمت كا اثر اپنے بندے پر ديكهنا پسند فرماتا ہے". الله كى راه ميں جينا  اس كى راه ميں مرنے سے  افضل ہے .

 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

x