حضور اكرمؐ كا حلم

  • | منگل, 20 نومبر, 2018
حضور اكرمؐ  كا حلم

                  ہم میں سے ہر ايک دنيا وآخرت كى بھلائى وكاميابى كا خوش مند ہے اس كے لئے  ہميں ہر معاملے ميں ہمارے پيارے آقاؐ كى اطاعت وپيروى كرنى ہوگی،كيونكہ رسول اللهؐ كے اقوال وافعال، اخلاق وعادات،اور تمام صفات ہمارے لئے باعثِ نجات ہیں،

                 یہود نے اللہ کے رسولؐ  کی علامات کو اپنی مذہبی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا ، تورات شریف میں اللہ کے رسولؐ  کی دو صفات کو بڑے نمایاں طور پربیان کیا گیا ہے، ان میں ایک صفت ’’ یسبق حلمہ جہلہ‘‘ کہ آپؐ  کا صبر اور تحمل غصہ پر غالب ہوگا، دوسری صفت ’’ ولا یزیدہ شدۃ الجہل علیہ الاحلماً‘‘آپؐ کے ساتھ شدید جہالت کے سلوک کے باوجود حلم يعنى صبر  میں اضافہ ہی ہوتا چلاجائے گا۔

                 مکارم اخلاق میں سب سے اہم چیز انسان کا حلم اور اس کا حوصلہ مند ہونا، غصہ میں نہ آنا وغیرہ شامل ہے۔ دنیا میں چند ہی ایسے لوگ ہوں گے کہ جن کے ساتھ بد تمیزی کی جائے اور وہ اس کے جواب میں اچھا سلوک کریں۔

                 آپؐ كے پاكيزہ اوصاف ميں سے ايک پیاری صفت "حلم"بھی ہے،حلم كا معنى ہے: اپنی غصے كو ضبط كرنا، بے شک غصہ انسانى فطرت ميں شامل ہے،يہ ايک غير اختيارى امر ہے،اس ميں ہمارا كوئى قصور نہیں،ليكن غصے سے بے قابوہو جانا برا فعل ہے، لھذا جب بھی غصہ آئے  تو حلم كا مظاہرہ كرتے ہوئے اسے دبانے كى كوشش كرنى چاہئے، غصہ پينے اور بردبارى اختيار كرنے كے بے شمار فضائل ہیں۔

               آپؐ بے حد  شفيق ومہربان تھے  اپنے دشمنوں كے ظلم وستم پر بھى عفو ودرگزر سے كام ليتے، مگر جب آپ ص كےسامنے شريعت كى خلاف ورزى ہوتى تو چہرہء انور پُر جلال ہوجاتاہے،حضرت ام المؤمنين عائشہ رضى الله عنها فرماتى ہیں : ميں نے كبھى رسول اكرم كو اپنی ذات پر كئے گئے ظلم كا بدلہ ليتے ہوئے نہیں ديكھا، جب تک اللہ عز وجل كى مقر ر كرده حدود كو نہ توڑا جائے، اور جب الله عز وجل كى مقر ر كرده حدود ميں سے كسى حد كو توڑرا جاتا تو آپ ص شديد غضب ناک ہوجاتے(الترمزى)۔

               اللہ عز وجل آپؐ  كى نرم دلى كى تعريف كرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: "فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ" ترجمہ: تو كيسى كچھ اللہ كى مہربانى ہے كہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے، اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وه ضرور تمہارے گرد سے پريشان ہوجاتے"۔

               حلمِ مصطفى كے واقعات سے سيرت كى كتابيں معمور ہيں، جن ميں سے  چند كا ذكر كرنا يہاں مناسب ہوگا:

  1. غزوہء احد ميں مدينے كے سلطان، رحمت عالميان كے مبارک دندان كا کچھ كناره شہد اور چہرہء انوار كو زخمى كرديا، مگر آپ نے ان لوگوں كے لئے اس کے سوا كچھ بهى نہ فرمايا كہ اللهم اهدي قومي فإنهم لا يعلمون: يعني اے اللہ عز وجل! ميرى قوم كو ہدايت دے كيونکہ یہ لوگ مجھے جانتے نہیں۔
  2. رسول اكرم پر لبيد بن اعصم نے جادو كيا، تو رحمت عالم نے اس كا بدلہ نہیں ليا، نيز اس غير مسلمہ كو بھی معاف فرما ديا، جس نے آپ كوزہر ديا تھا۔

               بردبارى ونرم دلى الله عز وجل كو پسند ہے، يقينا جسے يہ عظيم دولت مل گئى، وه بڑا بختاور(خوش نصيب) ہے، نرمى ہی انسان كى زينت ہے، ہر وقت بد مزاجى سے پیش آنا نہ صرف  تہذيب كے خلاف ہے بلكہ ايسے شخص  كى منزلت الله تعالى كے ہاں بھى اونچى ہرگز نہيں ہو سكتى ، با اخلاق اور نرم دل شخص  تمام لوگوں سے قريب ہوتا ہے، وه اپنے نرم اور اچھے اسلوب سے لوگوں كے دلوں كو فتح كرنے ميں ضرور كامياب ہوتا ہے، جبكہ تند مزاج اور سخت دل شخص سے لوگ دور بھاگتے ہیں، حضور ص نے ارشاد فرمايا:"إن الرفق لا يكون في شيئ إلا زانه ولا ينزع من شيئ إلا شانه" يعني جس چیز ميں نرمى ہوتى ہے، اسے زينت بخشى ہے، اور جس چيز سے نرمى نكل جاتى ہے، اسے عيب دار كرديتى ہے".اگر ہم كسى كى غلطى پر رضائے الہى اور اچھی نيت كے ساتھ اس سے انتقام لينا چھوڑديں تو ہمارا معاشره سكون وامن كا گہوارا بن سكتا ہے، اور فتنے وفساد  كے ناپاک جراثيم خود بخود دم توڑ چائيں گے. انتہا پسندى، تشدد اور دہشت گردى كى اصل جڑ اخلاق اور شخصيت كا فساد ہے، انسان كے اخلاق وعادات كو سنوارنے سے ہى وه اس قسم كى آفتوں سے نجات حاصل كرسكے گا۔ حضور اكرم كى اچھى اور نيك صفات لا تعداد ہيں، ان صفات كى عملى تطبيق ميں نہ صرف مسلمانوں بلكہ تمام انسانوں كى بھلائى وكامرانى ہے۔

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

x