رمضان کا رب تمام مہینوں کا رب ہے

  • | پير, 2 جولائی, 2018
رمضان کا رب تمام مہینوں کا رب ہے

رمضان کی فضیلت

ماہِ رمضان برکت کا مہینہ ہے ۔ اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا، رمضان المبارک کی فضیلت كا  تقاضا یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت جس میں حق تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، اور اس کی وجہ سے انوار و اسرار کے ظاہر ہونے کی قابلیت و استعداد یپدا ہوکر گناہوں کے ظلمات اور معصیت کی گہرائيوں  سے نکلنا میسر ہوتا ہے ، دوسرا عشرہ مغفرت یعنی گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے  اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، رمضان کی اہمیت کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد  سے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا۔

جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔

حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنے  سے ہمیں رمضان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے۔

رمضان مکرم کی آمد پر مسلمانوں کا خوش ہونا برحق ہے، کیونکہ یہ خير اور تمام بھلائیوں کو لے کر آتا ہے۔ اس کا دن روزہ، اس کی رات قیام اور اس کے شب و روز نیکیوں اور بھلائیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے  اور سبقت لے جانےکے لیے ہیں۔ یہ بخشش کا موسم ہے۔ اس میں نیکیوں کے اجر و ثواب میں اضافہ ہے۔ لہذا، اس کی نعمتوں، عطیوں اور مہربانیوں سے مسرور ہونا ہر مسلمان کا حق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تمہارے زمانے کے ایام میں تمہارے رب کے تمہارے لیے عطیات ہوا کرتے ہیں، لہذا ان عطیات کو حاصل کرنے میں لگے رہو۔

رمضان نفس و روح کی راحت کا مہینہ اور دل کی خوشی کا زمانہ ہے۔ اس میں ایمان کے مظاہر ہر طرف نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان باہمی اخوت ہوتی ہے، خود غرضی نہیں بلکہ ایثار اور قربانى نماياں  ہوتى ہے۔ اس میں سختی وتشدد نہیں بلکہ کرم و مہربانی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان اپنے منہ سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکالتا جو بے معنی ہو، جو نفس کی گہرائیوں میں ثبت نہ ہو، جو اس کے ایمان کی ترجمانی نہ کرتا ہو، جس سے شیاطین جِن و انس پر اسے فتح و کامیابی نہ ملتی ہو۔

 

رمضان کے بعد

بلاشبہ رمضان کے بعد مسلمان کا اعمال صالح کرنے پرصبر کرنا اوراسی حالت پر باقی رہنا اللہ سبحانہ وتعالى کےہاں رمضان المبارک کے روزے قبول ہونے کی علامت ہے ۔

اوررمضان المبارک کے بعد اعمال صالحہ ترک کرنا اورشیطان کے راستوں پرچلنا ذلت ورسوائ ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

"جسے اللہ عزوجل ذلیل کردے اسے کوئ بھی عزت دینے والا نہیں ہے " الحج ( 18 ) ۔

تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض لوگ رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہيں ...قیام کرتے ہیں... اللہ تعالی کے راستے میں صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور رب العالمین کی اطاعت بھی بہت زيادہ کرتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان المبارک کا مہینہ گزرجاتا ہے  تو ان کی فطرت بدل جاتی ہے اوراپنے رب کے ساتھ ان كا اخلاق اورہی ہوجاتاہے آپ دیکھيں کہ وہ نہ تو نماز پڑھتا ہے اورنہ ہی اعمال صالحہ میں وہ کثرت اورتيزی رہتی ہے بلکہ ان میں قلت آجاتی ہے اوروہ ان سے دور بھاگنے لگتا ہے ۔ افسوس كى بات ہے كہ بعض لوگ اللہ سبحانہ وتعالی کوصرف رمضان المبارک میں ہی پہچانتےہیں ۔

مسلمان پرضروری ہے کہ وہ رمضان المبارک کے بعد زندگی کاایک نیا صفحہ کھولے جس میں اللہ تعالی کی طرف توبہ ورجوع اور ہروقت، ہر گھڑی میں اللہ تعالی کی اطاعت ومراقبہ کرتا رہے ، تواس طرح ہرمسلمان شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستقل طور پراللہ تعالی کی اطاعت کرتا رہے اور ہرگناہ ومعصیت کے کام سے بچے، اور جس طرح وه  رمضان المبارک میں الله تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا تها ، اسے وه  رمضان کے بعد بھی جاری رکھے ۔اور يہ اچهى طرح ذہن نشين كر لے كہ جورب رمضان المبارک کا ہے وہی رب محرم، صفر ،شعبان ، ذی الحجہ  اورباقی تمام مہینوں کا بھی رب ہے ۔ الله  رب العزت نے ہميں زندگى كى عظيم نعمت سے نوازا ہے اور  ہميں بے شمار نعمتيں عطا كى ہيں جس كا ہم جتنا بهى شكر ادا كريں كم ہوگا، ليكن الله تعالى شكر گزار بندوں كو پسند كرتا ہے، جو اس كا شكر  اور اس كى عبادت صرف رمضان ميں نہيں  بلكہ ہر پل كرتے  ہيں.  الله ہميں ان شكر گزار بندوں ميں ہونے كى توفيق عطا فرمائے .

 

 

Print
Tags:
Rate this article:
5.0

Please login or register to post comments.

x