سب سے بہتر وه ہيں جو توبہ كرنے والے ہيں

  • | جمعرات, 19 اپریل, 2018
سب سے بہتر وه ہيں جو توبہ كرنے والے ہيں

حضرت ابن عباس رضى الله عنه بيان كرتے ہيں كہ انسان كو انسان كا نام اس لئے ديا گيا ہے كيونكہ وه اپنا كيا ہوا عہد بهول گيا ہے، دراصل  "انسان" لفظ "نسي" سے مشتق ہے  جس كا مطلب "بهولنا " ہے  اور شايد الله تعالى كے اس فرمان كا يہى مقصد ہے (ہم نے آدم كو پہلے ہى تاكيدى حكم ديا تها ليكن وه بهول گيا اور ہم نے اس ميں كوئى عزم نہيں پايا) (سورۂ طہ: 115).

الله تعالى نے انسانِ اول حضرت آدم عليه السلام كو شجره ممنوعہ كے پهل كهانے سے منع فرمايا تها مگر جيسا كہ قرآن بيان كرتا ہے كہ وه بهول گئے اور كهاليا، اس طرح حكم الہى كى مخالفت ہوگئى، ليكن الله تعالى كى رحمت ہر چيز پر حاوى ہے، چنانچہ اس نے توبہ كے ذريعے ان كيلئے اميد كے دروازے كهول دئيے، الله تعالى اس بارے ميں ہميں كئى آيات كريمہ ميں آگاه فرماتا ہے جيسا  كہ فرمان بارى ہے (حضرت آدم عليہ السلام نے اپنے رب سے چند باتيں سيكھ ليں اور اللہ تعالى نے ان كى توبہ قبول فرمائى، بے شك وہى توبہ قبول كرنے والا اور رحم كرنے والا ہے) (سورۂ بقره: 37).

ايك مقام پر اللہ تعالى كا ارشاد ہے: (آدم عليہ السلام نے اپنے رب كى نا فرمانى كى پس بہك گيا * پهر اس كے رب نے نوازا، اس كى توبہ قبول كى اور اس كى رہنمائى كى) (سورۂ طہ: 121، 122).

اس سے دو اہم حقيقتيں واضح ہوتى ہيں:

پہلى حقيقت يہ ہے كہ انسان غلطى وگناه سے معصوم نہيں ہے كيونكہ وه فرشتوں ميں سے نہيں ہے، ارشاد بارى ہے (جنہيں جو حكم اللہ تعالى ديتا ہے اس كى نا فرمانى نہيں كرتے بلكہ جو حكم ديا جائے بجا لاتے ہيں) (سورۂ تحريم: 6).

اسى طرح وه عقل سے عارى حيوان بهى نہيں كہ جو وه كرے اس كا حساب نہ ہو، وه ان دونوں قسموں كے درميان ايك عاقل مخلوق ہے اور وه اپنے اعمال كا ذمہ دار اور جواب ده بهى ہے، پس كسى شخص سے كوئى غلطى سر زد ہونا عيب نہيں ہے بلكہ عيب يہ ہے وه اس غلطى وگناه پر اصرار كرے يعنى اسے باربار كرے-

دوسرى حقيقتي يہ ہے كہ اگر انسان سے غلطى يا گناه ہو جائے تو اللہ تعالى نے اس كيلئے توبہ كا دروازه كهول ديا ہے، تاكہ وه اپنے رب سے توبہ كركے دوباره رشد وہدايت كى طرف آجائے، فرمان نبوى ہے: "ہر انسان خطا كار ہے اور ان ميں سب سے بہتر وه ہيں جو توبہ كرنے والے ہيں".

انسان در حقيقت ايك عاقل مخلوق ہے اس پر لازم ہے كہ وه اپنى غلطيوں سے سيكهے اور اس سے مراد يہ كہ وه اپنى غلطيوں اور كوتاہيوں كو  نہ وہرائے جيسا كہ فرمانِ نبوى ہے: "مومن كى شان يہ  ہےكہ وه ايك سوراخ سے دوبار نہيں ڈسا جاتا".

اللہ تعالى اپنے بندوں كے ساتھ بڑا رحيم ہے اگر كوئى اپنے گناہوں سے سچى اور اخلاص كے ساتھ توبہ كرتا ہے تو اس نے جتنے بهى زياده گناہوں كا ارتكاب كيا ہو وه اسے رد اور مايوس نہيں كرتا، كيونكہ اللہ تعالى كى رحمت ومغفرت اور عفو ودر گزر كى اميد كا دروازه ہميشہ كے لئے كهلا  رہتا ہے اللہ تعالى نے فرمايا (ميرى جانب سے كہہ دو كہ اے ميرے بندو! جنہوں نے اپنى جانوں پر زيادتى كى ہے تم اللہ كى رحمت سے نا اميد نہ ہو جاؤ، باليقين اللہ تعالى سارے گناہوں كو بخش ديتا ہے، واقعى وه بڑى بخشش بڑى رحمت والا ہے) (سورۂ زمر: 53).

الله تعالى اپنے بندے كى توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے، جيسا كہ حديث مباركہ ہے "جب تم ميں سے كوئى شخص توبہ كرتا ہے تو الله تعالى اپنے بندے كى توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے".

ارشادِ بارى تعالى ہے (اللہ توبہ كرنے والوں كو اور پاك رہنے والوں كو پسند فرماتا ہے) (سورۂ بقره: 222).

 

 

 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

x