فضيلت امامِ اكبر شيخ الازہر ڈاكٹر احمد الطيب كا فرانس ميں خطاب

  • 06 جون, 2016
فضيلت امامِ اكبر شيخ الازہر ڈاكٹر احمد الطيب كا فرانس ميں خطاب

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا  رسول الله وبارك عليہ وعلى آلہ وصحبہ
اہلِ دين وعلم وفكر وسياست كے محترم حضرات
    السلام عليكم ورحمہ الله وبركاتہ؛
    اپنے اور مسلم  علما كونسل كے نام سے ميں آپ كو يہاں؛ فرانس كى سرزمين اور اس كے قديم دار الحكومت ميں خوش آمديد كہتا ہوں، وه دار الحكومت جو عالمى ادب اور آزاد فكر كا مركز،  اور ايك عظيم انقلاب كا گہواره ہے، اسى سرزمين سے دو صديوں پہلے ظلم وزيادتى كے خلاف انقلاب كى لہر دوڑى، اور اسى قوم كے عزم واراده نے يورپ كواُن طوق اور پابنديوں سے نجات دلائى جو كبهى بادشاہت اور كبهى مذہب كے نام  سے كى جاتى تهى ، فرانسيسى انقلاب تاريخ ميں بہت اہميت كا حامل ہے كيونكہ اسى كى بدولت يورپين عقليت جموديت كے دائره سے نكل كر علم وثقافت وفنون كى دنيا ميں پرواز كرنے لگى اسى لئے يورپ علم ومعرفت ا ور انسانيت كى نفاست جس تك پہنچى ہے وه اسى انقلاب كى بدولت ہے اس ملك ... اس قوم اور امن وسلامتى، عدل وانصاف سے محبت كرنے والوں كو ميرا سلام ۔
محترم حضرات!
    يہ علمائے مشرق ومغرب كے درميان دوسرى ملاقات ہے، پہلى ملاقات فن اور ثقافت كے مركز "فلورنس" ميں 8 جون 2015ء ميں ہوئى تهى اس وقت ميں نے اس  عالمى بحران سے نكلنے كے لئے علمائے مشرق ومغرب كى كوششوں كو بروئے كار لانے كے بارے ميں بات كى  تهى۔ جس كو ميں نے اپنے خطاب ميں ان الفاظ سے بيان كيا تها: "ہم نے اس كو برف كے گولہ كى طرح لڑهكتے چهوڑ ديا تو پورى انسانيت اس كى قيمت بربادى، پسماندگى اور گزشتہ صدى كى دو عالمى جنگوں ميں ہونے والى خونريزى سے بڑھ كر  قيمت ادا كرے گى" ميرے اس خوف اور ذرا سى مايوسى سے گهرى ہوئى باتيں كيے چھ مہينے بهى مكمل نہ ہوئے تهے كہ پاريس پر ايك تاريك رات گزرى جس ميں اُس نے اپنے باشندوں ميں سے 140 لوگوں كى جانيں كهوديں۔ ايك ہى لمحہ ميں ا نكى جانيں چلى گئيں، ايك ہى لحظہ ميں 368 لوگ شديد زخمى ہو گئے۔ ايك تاريك  دہشت گرد حادثہ جس كى پورى دنيا اور مشرق ومغرب كے لوگوں نے شديد مذمت كى يہ عمل انسانى فطرت اور ہر قسم كے دينى تعليمات اور قوانين سے بہت دور ہے۔
    آپ ميرى اس بات سے متفق ہوں گے كہ بلجيم ميں اسى قسم كے كئى حادثے ہوئے، اور مشرق ميں جو خون اور بربادى سے گهرا ہوا ہے اس سے بهى گهناونے اور ظلم ووحشيت سے بهرپور حادثے ہوتے رہتے ہيں، جس كا نتيجے ميں ہزاروں معصوم لوگ خوراك يا پناه گاه كے بغير در بدر كى ٹهو كريں، كهارہے  ہيں اس قسم كےحادثے ہر فيصلہ ساز شخص پر يہ ذمہ دارى عائد كرتى ہے كہ وه تاريخ اور انسانى ضمير كے سامنے جواب ده ہو اور وه ہر ممكنہ طريقہ سے اس دہشت گردى كاسامنے كرے اور معصوم بچوں اور عورتوں كے خون كے اس بہتے ہوئے دريا  كى روك تهام  كرے ان لوگوں كو-جو  آسمانى عذاب سے غافل ہيں۔ يہ جاننا چاہيے كہ الله كے گهر دير ہے اندهير  نہيں كيونكہ الله بہت ہى عادل اور منصف ہے۔ اس موقعہ پر ہم دنيا بهر سے اس بات كے بهى مطالبہ كرتے ہيں کہ مسجد اقصى كى تہويد (Juadization) كى روك تهام كر دى جائے اور فلسطين كے مسئلہ كا ايك منصفانہ اور مكمل حل نكالا جائے  كيونكہ ہمارى نظر ميں يہى مسئلہ مشرق ومغرب كے مابين دورى كا باعث ہے اور اسى سے  مشرقی اور مغربی تہذيبو ں كے مابين تنازعات پيش آتے ہيں۔
باوقار دانشوران!
    آج كےاس دور ميں مشرق ومغرب پہلے كى طرح ايك دوسرے سے مكمل طور پر الگ تهلگ نہیں ہيں۔ مشرق وه خوفناك نا معلوم سمندر كے دوسرے پار والى جگہ نہیں رہى جيسا كہ از قبل اہل مغرب كى سوچ ہوا كرتى تهى اسى طرح مشرق ميں رہنے والوں مسلمانوں اور عيسائيوں كےلئے بهى مغرب (يورپ) ايك انجان جگہ نہيں رہى كہ وه اس سے دور بها گيں یا اُس  تک جانے سے گھبرائیں ؛ ان كے درمیان فاصلے كم ہو گئے ہیں۔ اہل مشرق ومغرب  (يورپ) كے بہت سے سياسى اور اجتماعى فلسفوں سے متاثر ہوئے، جس سے اُن كے افكار وخيالات اور سلوك پر بهى اثر پڑا ہے اور اُن كے سیاسى نظريات سے بهى مشرق كے سياست دان اور دانشور مغرب (يورپ) كے باشندوں سے زياده متاثر ہوئے ہيں كيونكہ مغرب گلوبلايزيشن سے متاثر ہوا ہے جو اس بات كے قائل ہيں كہ اس دنيا كا ايك ہى مركز ہونا چاہيے، ا سكا مطلب يہ ہے كہ وه دنيا كو مشرق ومغرب ميں تقسيم نہيں كرنا چاہيے جن ميں سے ہر ايك قطب (مشرق ومغرب) كى مختلف زبان، الگ دين، ثقافت ا ور تہذيب ہے ميرے خيال ميں كہ اس سے مشرق ومغرب كے درميان  كسى بھى قسم كى ہم آہنگى، مفاہمت يا تعاون كى كوئى بهى صورت نہیں بن سكتى بلكہ اس سے تنازعات كى حدت اور بڑهے گى اور قوموں كى شناختيں  بدل جائيں گى اور اُن كے خصائص بهى برباد ہو جائيں گے جو الله نے ان كےلئے ہى مخصوص كى ہيں ،دن
اسى لئے-عظيم دانشوروں- جلوباليزيشن كے بجائے ہميں "بين الاقواميت" كے بارے ميں سوچنا چاہيے يہ وه "بين الاقواميت"ہے جس كو گزشتہ صدى ميں ازہر كے علمانے  پہلى اور دوسرى عالمى جنگ كے بعد "الزمالة العالمية" " عالمى  فليوشپ"  يا تعارف كا نام ديا  جو  اُن  كى نظر ميں      دنيا كو دو حصوں ميں  بانٹنے اور تنازعات كو كم كرنے كے لئے ايك بہترين حل تها-
اسلام كى عالميت جو پورى دنيا كو ايك معاشره سمجهتا ہے اور جس  ميں  امن وسلامتى كى ذمہ دارى معاشرے كے تمام افراد كے درميان يكسان ہوتى ہے كہ بارے ميں اگر بات كى جائے   تو بہت  لمبى ہو  جائے گى – اس موقعہ    پر حضور صلى الله عليہ وسلم كى ايك حديث حاضر ہے – حضور  صلى الله عليہ وسلم  كا فرمان ہے "  اللہ تعالى كى حدود كو قائم كرنے والے اور  اس كو توڑنے والوں كى مثال  اس قوم كى سى ہے جس كشتى كے  سواروں نے اپنا حصہ  تقسيم كر ليا – بعض كے حصہ ميں اوپر والا حصہ آيا اور بعض  كے حصہ ميں نیچے والا   - پس جو لوگ  پيچھے تهے  انہيں پانى لينے كے لئے اوپر والوں كے پاس  جانا پڑتا تھا(نیچے والوں نے کہا) کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کے پاس جانے کی زحمت سے بچیں پس اگر  وه  انہيں  ان كے  ارادے كے مطابق  چهوڑے رہيں تو سب ہلاك ہو جائيں گے اور اگر ان كے ہاتھ    پكڑ ليں تو خود بهى بچ جائيں اور دوسرے سب  بهى بچ جائيں"
"الله كے حدود" كا مطلب  مسلمان      معاشرے تك  محدود نہيں ہے بلكہ پورى دنيا كے لئے ہے جو اسلام ميں " بين الاقواميت " كے اصول كو مزيد تقويت  ديتى ہے ، پس جس   طرح اللہ سبحانہ وتعالى  كے محض جزوى شرعى حدود نہيں ہوتے بلكہ  اُس كائنات كى سطح پر بهى حدود ہوتے  ہيں –
جس ميں  انسانوں كے درميان عدل ومساوات  اور بهائى چاره  كو عمل ميں لانا سرفہرست   ہے كيونكہ تمام انسان ايك باپ اور ايك ماں  كى اولاد ہيں  اور       ان كے درميان اختلاف يا فرق  در اصل  اللہ كى طرف  سے ہيں جس كا  مقصد تنوع اور تعارف  ہے اور ايسا نہ كرنے سے انسانيت كى كشتى ڈوب جائے گى اور اسى بات كا  خدشہ دنيا كے تمام علماء ، مفكرين اور دانشوروں كو ہے – اہل  مشرق كو مغرب  ( يورپ) كى تہذيب   كو اچهى  طرح      سمجهنا چاہيے اور يہ    جاننا چاہيے  كہ اس تہذيب  اور  مشرقى تہذيب كے درميان بہت       سے مشتركہ اصول ہيں اور ہميں ايك دوسرے  كو مكمل كرنا چاہيے  اور اس    اصول   كى تطبيق  كى جائے جو مسلمانوں اور غير مسلمانوں كے   درميان تعلقات ميں بہترين ہے اور وه ہے " لهم مالنا  وعليهم  ماعلينا " .ہم (مسلمان اور غیر مسلمان)حقوق اور واجبات میں برابر ہیں۔
ميرے بهائيوں !
      مشرق اور مغرب كے ميلاپ ميں اہم ترين مسئلہ يورپ يں مسلمانوں كا گهل مل جانا ہے يہاں تك كہ وه معاشرتى ، ثقافتى اور سياسى لحاظ سے ان ممالك كا حصہ بن جائيں، ليكن مشكل  یہ ہے  كہ اسلامى اور يورپى جانب سے     دونوں ايك دوسرے  كے سامنے  روكاٹيں  كهڑى كرتى ہيں يورپين  معاشره يورپ كے مسلمان نوجوانوں كو پيچهے ركهتا ہے جس كى وجہ سے متشدد گروہوں ميں شامل ہو جاتے  ہيں –
انضمام كى ركاوٹوں ميں سب سے پہلے  ركاوٹ مسلمانوں    كى علاقائى وابستگياں ، اُن كى نسلى وفادارياں اور مذہبى وطائفى اختلافات ہيں جو يورپ ميں رہتے ہوئے بهى اُن كا ساتھ نہيں چهوڑتيں اور جن كى وجہ  سے وه وہاں كے معاشرے ميں آسانى سے گهل مل جانے سے قاصر ہوتے ہيں – يورپى جانب سے بهى ميڈيا مسلمانوں    كى منفى  تصوير كشى كرتا ہے جو ان  كى حقيقت سے بالكل دور ہوتى ہے  - اس ميں حضور صلى الله عليہ وسلم  كے كارٹون بنا كر اُن كو اخباروں  ميں چهاپنا  اور يوريپن معاشرے كے سامنے مسلمانوں كى صورت جان بوجھ كر بگاڑنا شامل ہے – وه جان بوجھ كر مشرقِ ومغرب ميں انبيائے كرام  كى منزلت كو نظر اندازے كرتے ہيں اور تمام مسلم اور مشرقى معاشروں كو ايك جاہل اور خونريزى كا معاشره كہلانے كى كوشش كرتے ہيں اليكشن ميں جيتنےکے لۓ اور مزيد ووٹ حاصل كرنے كے لئے مسلمانوں كى صورت كو بگاڑنے ميں كوئى كسر نہيں چهوڑتے –
اسى لئے ميرے رائے ہے  كہ مشرق اور مغرب  كے علماء كى تيسرى ملاقات  كا موضوع " مثبت انضمام" ہو-
دوباره ملاقات ہونے تك ميں يورپ كے مسلمان شہريوں كو كہتا ہوں كہ اُن كو يہ بات اچهى طرح جاننى چاہيے كہ وه اپنے معاشرے كے اصيل شہرى ہيں اور جب  تك وه اپنى دينى شناخت كى حفاظت كرتے رہيں گے – اُس وقت تك اُن كے اسلام كو  كوئى نقصان نہيں  پہنچا سكتا –
يورپ كے مسلمانوں ! آپ رسول الله كى قيادت ميں مدينہ منوره كا نمونہ اپنے سامنے ركھ ليں-
جس ميں مدينہ كى دستاويز لكهى گئى ، جو انسانى  تاريخ كا پہلا دستور  تها اور جس نے  مختلف دين اور نسل كے شہريوں كے درميان حقوق اور واجبات  ميں مساوات اور برابرى كے اصول درج كئے –
چنانچہ يورپ كے بعض قوانين جو اسلامى شريعت كے معارض ہيں كا مطلب پورے معاشرے سے دورہٹ  كر اُن سے الگ ہو جانا نہيں ہے كيونكہ يہ  قوانين لوگوں پر عائد نہيں كئے جاتے اور اگر ايسا ہو تو اُن كو حق پہنچتا ہے كہ وه كورٹ كے سامنے  اس ميں تبديلى  كا مطالبہ كريں – يہ كہہ كر مطالبہ كريں كہ يہ  مسلمان ہونے كے ناطے اُن كو نقصان پہنچا رہا  ہے – يورپ  ميں موجود اماموں سے ميرا يہ مطالبہ   ہے كہ وه فقہ اقليات سے زياده مثبت  ملاپ اور باہمى تعاون كے نقطۂ نظر سے  مسائل كو ديكهيں اور يہ جانيں كہ فتوى زمانے كى تبديلى كے ساتھ تبديل ہو سكتے ہيں اور يہ كہ اسلام آسانى اور سہولت كا دين ہے –

 

 

 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

Name:
Email:
Subject:
Message:
x