الازہر يونيورسٹى كا مركز مصر كے دارالحكومت "قاہره" كے علاوه كہيں اور نہيں ہے!

  • | پير, 29 مئی, 2017
الازہر يونيورسٹى كا مركز مصر كے دارالحكومت "قاہره" كے علاوه كہيں اور نہيں ہے!

الازہر یونیورسٹی نہ صرف مصر اور عالم عرب کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے بلکہ 972ء میں قائم ہونے والا یہ تعلیمی اور علمی ادارہ پوری دنیا میں ایک انفرادی خصوصیت کا حامل ہے۔ مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں موجود یہ ادارہ نہ صرف ایک درس گاہ کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ مصر اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے یہاں اس کی ایک خاص شناخت اور قدر ومنزلت ہے۔ لوگوں کے دلوں میں ازہر شریف اور اس کے علماء کے لئے عزت اور احترام کے ایسے گراں قدر جذبات موجود ہیں جو کسی بهى دوسرے دینی ادارے سے الگ اور منفرد ہیں۔ دنیا بھر سے مسلمان طلباء اس ادارہ کے علماء اور فضلاء کے علم سے فیض یاب ہونے آتے ہیں اور ازہر شریف سے اساتذہ بھی دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس کى خدمات انجام دیتے ہیں جن کا مقصد قرآن وحدیث کے علوم کی تدریس اور اسلام کی معتدل تعالیم کى نشر واشاعت ہوتا ہے۔ ازہر شریف سے فارغ التحصیل اساتذہ اسلام کی حقیقی رو سے مکمل طور پر آشنا ہوتے ہیں اور وہ اپنی ذمہ داری اور اس کی بے پناہ اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ الازہر یونیورسٹی سے دنیا بھر میں اپنی شاخیں کھولنے کے لۓ سالوں سے مطالبہ ہوتا آرہا ہے لیکن آج تک اس کی عملی تعمیل نہیں کی گئی کیونکہ اس عظیم دینی، علمی اور تعلیمی ادارہ کا مرکز مصر کے دار الحکومت قاہرہ کے علاوہ کہیں نہیں ہو سکتا۔ اور یہی اس کی انفرادیت اور خصوصیت ہے۔ دنیا بھر کے 138 ملکوں سے 40 ہزار سے زائد طلبہ اور طالبات اسی یونیورسٹی میں مختلف دینی اور دنیوی علوم پڑھنے آتے ہیں اور پھر ازہر شریف کے سفرا بن کر اپنے اپنے ملکوں میں ان کو سونپے گۓ فرائض انجام دیتے ہیں۔

پچھلے دنوں دیگر وسائل سے ہمیں اس بات کا علم ہوا کہ ہندوستان کے دار الحکومت "نیو دہلی" میں جامعہ الازہر ہی کے نام سے ایک ادارہ قائم ہونے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو ایک نہایت قابل مذمت بات ہے۔ یہ ایک معروف بات ہے کہ کوئی بھی عام تجارتی نام بغیر بعض قانونی اجراءات کے نہیں لیا جا سکتا پھر ایک ایسے تعلیمی ادارہ کا قیام اتنی آسانی سے کیسے ہو سکتا ہے؟! یہ ایک غیر معقول اور نامقبول امر ہے اور ازہر شریف اس سلسلہ میں جامعہ ازہر، مصری حکومت اور دہلی میں مصری سفارت خانہ کے ذریعہ سفارتی سطح پر جلد ہی قانونی کاروائی کرے گا۔ آخر ميں ہم اس بات پر ايك بار پهر تاكيد كرتے ہيں كہ "الازہر يونيورسٹى" كا جمہوريہ عربيہ مصر كے علاوه كہيں اور مركز نہيں ہے اور  مصر سے باہر اس كى كوئى دوسرى شاخ نہيں ہے-

 

Print
Tags:
Rate this article:
5.0

Please login or register to post comments.