فروغِ امن ميں خواتين كا كردار

  • | جمعرات, 21 مارچ, 2019
فروغِ امن ميں خواتين  كا كردار

     كہا جاتا ہے كہ عورت  آدهى دنيا ہے اور انسانی حیات کی گاڑی کا لازمی پہیہ ہے، اس اہميت كے   باوجود  عورت  كو اتنى اہميت وحيثيت نہيں دى گئى، جس كى واقعتاً وه مستحق تھى ۔ قدیم تہذیب و تمدن (یعنی اسلام کی آمد سے قبل) نے عورت کے وقار کو تباہ کیا ۔اسلام کی آمد سے پہلے عورت كومعاشرے میں کوئی عزت اور مقام حاصل نہیں تھا ۔يہ معاشرے کا ایک انتہائی پسماندہ اور محکوم طبقہ سمجھی جاتی تھی، لیکن اسلام نے اپنی آمد کے ساتھ عورت کو معاشرے میں نہ صرف جینے کا حق دیا، بلکہ اُسے اُس کا جائز مقام دلوایا اور مردوں پر عورتوں کے متعدد حقوق عائد کیے ۔
معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں عورت ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس کے بغیر معاشرے کا کسی بھی شعبے میں ترقی کرنا ناممکن ہے۔ ثقافتی، اقتصادی، معاشرتی، تعلیمی، اخلاقی، مذہبی غرضیکہ معاشرے کے ہر پہلو کے استحکام میں عورت کو مرکزی کردار حاصل ہے۔ عورت معاشرتی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔وہ کہیں بہن اور بیٹی،  تو کہیں ماں اور بیوی کی حیثیت سے معاشرتی ترقی و تعمیر میں اپنا کردار نبھارہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عورت نئى  نسل کی کردار سازی میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آئندہ نسلوں کی ترقی اور نشو ونما کی بنیاد اسی کے دم سے ہے۔
آج دہشت گردی کا بنیادی محرک یہی ہے کہ ہم ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے آرزومند ہیں۔اگر عورت اپنی اولاد کی تربیت ایسے کرے کہ اسے یہ باور کرادے کہ جینے کا حق ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔تو پھر یہ اختیار کیوں چھینا جاتا ہے اور لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نبی کریم ؑنے مسلمان ہی کے لیے فرمایا کہ مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے دوسروں کی عزت و آبرو محفوظ رہے۔
آج کے دور میں اگر دیکھا جائے تو شدت پسندی اور دہشت گردی زیادہ تر مذہبی بنیادوں پر نظر آتی ہے جس کی روک تھام کے لیےضروری ہے کہ انسانی ذہن کی بہت ہى  پہلے ہی سے ایسی پرورش کی جائے کہ وہ آگے کی زندگی میں مثبت انداز اپنائے اور معاشرے کے لیے کسی قسم کے نقصان کا باعث نہ بنے۔ بچپن ہی سے ماں بچوں کو چھوٹی سے چھوٹی برائی اور غلطی کا احساس دلائے اور انھیں برائی سے منع کرے اور اچھا كام كرنے  پر ان كى  حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ اچھے برے کا فرق بخوبی سمجھ سکیں اور وہ کسی بڑی غلطی یا برائی کی جانب  پہلے سے راغب ہی نہ ہو سکیں۔ بچوں کو خیر و شر میں فرق سکھانے کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں  سچائى ، انصاف پسندى  ، اتحاد اور دوسروں سے محبت  کا درس بھی دیا جائے۔اس کے علاوہ ماں بچوں کے دوستوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی خصوصی توجہ دےتاکہ ان کو اپنے بچوں کے حوالے سے یہ معلوم ہو کہ وہ کس قسم کی صحبت میں اپنا وقت گزار رہے ہیں، اور صحبت کے لحاظ سے بچوں پر خاص توجہ دی جائے۔اس طرح بچوں کی مضبوط ذہنی و فکری نشوونماہو سکے گی۔ اس کے لیے گھر کے ماحول کا مثبت اور محبت و شفقت بھرا  ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کی رائے کا احترام کریں اور ان کے ساتھ پیارومحبت سے پیش آ  ئیں تاکہ ان میں کسی قسم کا غصہ اور منفی احساس جنم نہ لے اور وہ خود پر اعتماد بننے  کے قابل ہوسکیں۔ اس طرح بچے میں ایک مثبت فکر پروان چڑھے گی اور وہ ملک و قوم کے لیے مفید ثابت ہو گا۔
ماں کی تربیت سے ہی بچے کی شخصیت بنتی ہے اور وہ معاشرے میں انھی اقدار کی ترویج کا باعث بنتا ہےجو ماں سے ورثے میں ملتی ہیں۔ سائنس ثابت کرتی ہے کہ ابتدائی سالوں میں ذہن پر نقش ہونے والی باتیں زیادہ دیرپا  اور  پر اثر رہتی ہیں۔ لہٰذا  ماں کا کردار  اگر مثبت اور تعمیری ہو گا تو یقینا ہمیں اعتدال پسند معاشرے کے قیام میں مدد ملے گی۔
بے شك خاندان، نوجوانوں كى ديكھ  ريكھ كا  اور استقامت ، اعتدال، رحم، نرمى، اور غلو  وانتہا پسندى كے ترك كى بنيادووں  پر ان كى پرورش كا پہلا گہوارہ ہوتا ہے، جب يہ پہلى درسگاه اپنا تربيتى وحفاظتى اثر كھو بيٹھے گى، تو انتہاپسند اور تباه كن افكار وخيالات كے حامل افراد  نوجوانوں كو ہاتھوں ہاتھ  لے ليں گے، اور اپنى خواہشات اور افكار كے سانچے ميں ان كو ڈھاليں گے، پھر وہ بربادى كى كلہاڑى اور آگ كے فتيلے  بن جائيں گے، اسى ليے خاندان سے وابستہ تربيتى ذمہ دارى كو پورے طور پر ادا كرنے كى نبى ؐنے تلقين  كى ہے، آپ ؑنے فرمايا :" كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته"ترجمہ:" تم ميں كا ہر ايك ديكھ ريكھ كا ذمہ دار ہے اور تم ميں كا ہر ايك اپنى متعلقہ ذمہ دارى كے بارے ميں پوچھا ئے گا"۔
خاندان كے افراد اگر قرآن وسنت اور علما كے طريقہ كے مطابق اپنے بچوں كے تئيں  اپنى  ذمہ دارى اچھى طرح ادا كريں  ،تو وہ ايك ايسے شريف معاشره كى تشكيل ميں شريك ہونگے  جو انحرافات سے اور جرم ودہشت گردى كے ميلان سے دور ہوگا، ليكن اگر اس ذمہ دارى كو ادا كرنے ميں كوتاہى وسستى سے كام ليا تو  ان كے بچے سلوك وفكر ميں انحراف كے شكار ہوں گے اور انتہا پسندى ،غلو اور دہشت گردى كى جانب مائل ہوں گے۔

 

Print
Categories: مضامين
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.