دہشت گردى كے اسباب

  • | پير, 25 مارچ, 2019
دہشت گردى كے اسباب

دہشت گردى ... إرهاب ... ٹيررورزم ... دنيا كى تمام زبانوں ميں   اس  لفظ كا ايك ہى مطلب ہے ... يہ ايك       ايسا مجرمانہ عمل   كا نام ہےجس كا مقصد  دہشت اور خوف  پيدا كرنا ہو ،اور جس ميں  مخصوص لوگوں كو نشانہ بنايا جائے،  اس ميں كوئى شك  نہيں  كہ تمام مسلمان دہشت گردى كى مذمت اور مخالفت كرتے ہيں، اور اسلام كے ساتھ اس كا كسى بهى قسم كا كوئى  رشتہ بھى  قبول كرنے كو تيار نہيں ہيں.

اس مسئلہ كا خاتمہ كرنے  اور مقابلہ كرنے  كى حكمت  كا تقاضہ  يہ ہے كہ  اس كے وجوہات  كو واضح كيا جائے اور اس كے اسباب  كا پتہ  لگايا جائے،   اس كے اہم ترين  اسباب  اور وجوہات  درج ذيل ہيں:

1_ كتاب وسنت سے عدم واقفيت اور  مقاصد شريعت سے جہالت دہشت گردى ميں گرنے كا بنيادى  سبب ہے، خواه  يہ جہالت  ان ميں سے  بعض كے يہاں كلى جہالت ہو ، يا ناقص اہليت كے حامل  شخص  كى تاويل واجتہاد پر مبنى  جزوى جہالت  ہو.  يہاں  يہ بات قابلِ لحاظ ہے كہ جس شخص كويہ بھى نہ پتہ ہو كہ  قرآن كى تفسير  كيسے كى جاتى ہے،  اور نہ ہى اسے صحيح وضعيف احاديث كے درميان تميز ہو، يا جو صريح حديث پر اپنى جماعت  كى بات كو ترجيح  ديتاہو،تو بھلا  ايسے شخص سے اس بات  كى كيسے  اميد كى جا سكتى ہے كہ وہ حق پر ہو سكتاہے؟!

كيا  ايسا  شخص ذمہ دارى  اور شعور  كے ساتھ  مقاصد شريعت  كو سمجھ سكتا ہے،جو فتنے كو  بھڑكائے،امت كے خلاف ہتھيار اٹھائے،شدت پسندى كو اپنا  شعار بنائے اور  خون كو اپنا عنوان بنالے!!پھر معصوم  خون كوبہانےاور معروف  مقدسات كو پامال  كرنے  ميں كوئى  پرواه نہ  كرے،  جس كے نزديك عہد وپيمان كى كوئى اہميت  نہ ہو،جو  اطاعت سے نكل جائے،جماعت كے شيرازہ  كو پارہ پارہ  كردے،تكفير كو اپنا  منہج  بنا لے، اور تباہ كارى اپنا   مسلك  اور امت كے  امن واستقرار اور اس كے اتحاد  واتفاق  كى لڑى  كو  كوئى اہميت نہ  دے، ميرے خيال سے ايسے شخص  كے يہاں  ايسا بالكل نہيں ہو سكتا؟!.

2_فكرى انحراف:دہشت گردى  اور انتہا پسندى  كى ٹوليوں  كے پھيلنے كے سب سے  خطر ناك  اور نقصان  دہ اسباب  ميں فكرى انحراف ہے جو كہ  ان خونى بنيادوں ميں  سے ايك بنيادى حيثيت ركھتا ہے،جن پر يہ جرم قائم ہے،فكرى  انحراف ، آج   كے دور ميں   واقع ہونے والى  دہشت گردى ، اناركى اور اضطراب  كا اعلى ترين  درجہ  ہے،  ليكن فكرى انحراف  انسانى زندگى  كے تمام گوشوں  كو شامل  ہے. دہشت گردى ميں ملوث  گروہوں كے اندر  جو انحراف پايا جاتا ہے ، وہ تو  ان كى كوتاہ فہمى كى وجہ سے  ہے، ياشرعى نصوص پر ، ان كے كلى مقاصد  سے دور  ہے، جزوى وغير شمولى  نظر ڈالنے سے  ہے،  ياشرعى دلائل سے ناقص استدلال كى وجہ سے  ہے.

يقينا فكر سليم كا مسئلہ  جو ايك  مسلمان كو اللہ تعالى كے خوف كے احساس كے ساتھ  اقوال  وافعال ميں  ميانہ ر وى اور اعتدال  پسندى كى طرف لے جائے ان اہم ترين مسائل ميں سے  ہے جن پر توجہ دينے كى ضرورت  ہے.

 دہشت گردى  كے اس خطر ناك  رجحان،جس نے پورى دنيا  كے امن وسلامتى  كوتہہ وبالا كرديا ہے كا علاج  كرنے كے لئے ضروى ہے،  كہ  اس بيمارى  اور اس كےان  اسباب   كى تشخيص  كى جائے  جن كى وجہ سے  يہ خوفناك فكرى   انحراف سامنے آيا ہے ،  جس نے  امت اسلاميہ  كے افراد كے مابين  تہذيبى  وفكرى  كشمكش كى  شكل اختيار كر لى ہے،  اور ان كے داخلى ڈھانچہ  كو پاره پار ه  كرديا ہے.

آخر ميں ہم يہ كہنا پسند كريں گے كہ  لوگوں  كى جانوں كو  ضائع كرنے والى يہ دہشت گردى ، اور  پر امن معاشروں كے امن وسلامتى كے شعور كو برباد كرنے والى  اس آفت كا اسلام سے كوئى لينا دينا نہيں ہے ، دہشت گرد عيسائى بهى ہوسكتا ہے اور  يہودى بهى.. ہندو بهى ہوسكتا ہے اور سكھ بهى.. دہشت گردى سے تمام اديان ومذاہب اور معتدل انسانيت برى ہے ... اور رہے گى . 

 

Print
Categories: مضامين
Tags:
Rate this article:
2.0

Please login or register to post comments.