انتہا پسند تنظيميں اور سوشل میڈیا کا استحصال

  • | بدھ, 3 فروری, 2021
انتہا پسند تنظيميں اور سوشل میڈیا کا استحصال

 

     آج كل كے  دور میں سوشل میڈیا کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ زياده تر لوگ  اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر  گزار  رہے ہیں جس کے نتيجہ ميں  کئی ایک نتائج ابھرکر سامنے آئے ہیں  اور جن  پر غور کرنا از حد ضرورى ہے  ۔يہ  ایک حقیقت ہے کہ انسان مكمل آزادی سے سوشل میڈیا پر جو کچھ تحریر کرنا چاہتا ہے تحریر کرتا ہے اور اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہے یعنی دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ اس کو آزاد فضا میسر ہے ۔ اور دوسرى حقيقت يہ بهى ہےكہ  آزادى بذاتِ خود ايك زمہ دارى ہے جس  كا  بہت سے لوگ  غلط استعمال   بهى كرتے ہيں۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا کا کردار مزيد  بڑھ گیا ہے، یہ لوگوں کے مابین  كميونيكيشن اور مواصلت كا ذريعہ  بننے تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ یہ رائے عامہ کو تشکیل دینے اور سیاسی طور پر نوجوانوں کو تربيت دینے كا ايك بہت ہى اہم وسيلہ بهى بن گئے ہيں.  یہاں تک کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عرب دنیا میں تبدیلی کی تحریک کی قیادت کرسکتا ہے۔ دوسری طرف، یہ انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں كا اپنے تباہ کن خیالات کو پھیلانے اور نوجوانوں کو بھرتی کرنے اور ان کا سیاسی طور پر برین واش کرنے کے لئے ایک مثالی پلیٹ فارم بهى بن گیا ہے۔ 
موجودہ دور میں جس طر ح دوسرے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے اسی طرح دور جدید کی جنگوں میں بھی جدت آئی ہے آج کل دنیا کو دہشت گردی كے خطره  کا سامنا ہے اور دہشت گردوں نے بھی جنگ لڑنے کے لئے روائتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کے لئے وہ سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔
اور جب سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بنیادی وجوہات کو تلاش کرتے ہیں تو  مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے  ہیں:
•    سوشل میڈیا صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جب اس  تعداد كا  گذشتہ چند برسوں کے تعداد كے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ بات واضح طور پر ظاہر ہوتی ہےكہ 2017‍‍ء میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 2.5 ارب سے بھی کم تھی۔ جبکہ 2019 میں یہ تعداد دنیا بھر میں 3.5 ارب صارفین تک پہنچ گئی ہے۔ يعنى یہ دنیا کی کل آبادی کے تقریبا 45 فیصد کے برابر ہے۔
•    سوشيل ميڈيا كو رائے عامہ پر اثر انداز کرنے کی صلاحیت ہے۔  كيونكہ يہ  دنیا کے مختلف خطوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد تك کسی خاص مسئلے سے متعلق نظریات اور خيالات کو منتقل کرنے میں معاون ہے۔ اس کا اثر اب کسی ملک کے داخلی نظام تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ اثر و رسوخ بین الاقوامی تعلقات کے میدان تک پہنچ گیا ہے، اور اب یہ بین الاقوامی سیاسی باہمی اثر اندازى  میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ 
ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا آگاہی پیدا کرنے ، رائے عامہ پر اثر انداز کرنے اور عوامی آزادی کے امور کا دفاع کرنے کے سلسلے میں بہت سارے مثبت کردار ادا کرتا ہے، تاہم ، ان کا غلط استعمال اس طریقے سے کیا جاتا ہے جس سے عرب ممالک میں سلامتی اور امن کو خطرہ لاحق ہے ، خاص طور پر کیونکہ وہ كسى فریم ورک یا قوانین کے تابع نہیں ہیں جو ان پر شائع كرده مواد کو کنٹرول کرسكيں، بلكہ در حقیقت یہ حالیہ دنوں ہی میں ایک ایسے آلے میں تبدیل ہوچکا ہے جو انتہا پسند تنظیموں کى                                                                                                    تباہ کن خیالات پھیلانے، تشدد بھڑکانے، افواہوں کو پھیلانے اور انتشار پیدا کرنے میں مدد ديتا ہے۔ اسے "سوشل میڈیا کا کانٹے دار اور خطرناک کردار" کہا جاسکتا ہے ، جن کا خلاصہ اس طرح  بيان كيا جاسکتا ہے:
•    اگرچہ سوشل میڈیا عوام کی رائے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن یہ بعض اوقات جعلی معلومات پهيلانے كے پلیٹ فارم میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ 
جس کے ذریعہ بعض ممالک میں رائے عامہ كو   اس طرح سے ہدایت دی جاسکتی ہے جو کچھ مخصوص ممالک یا گروہوں کے مفاد  ميں ہو۔
•    انتہا پسندی پھیلانے اور نفرت انگیز تقریر کو فروغ دینے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال كرنا،  جہاں اکثر دہشت گرد تنظیمیں اپنے انتہا پسندانہ خیالات کو پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا كے پلیٹ فارم اور ویب سائٹوں کا استعمال کرتی ہیں۔ شاید وہی چیز جو انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کو بھی سوشل میڈیا کا استحصال کرنے میں مدد دیتی ہے وہ نام نہاد "گمنام افراد" ہیں جو جعلی ناموں سے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن در اصل وہ انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ ہیں اور اپنے تباہ کن اور تخریبی نظریات کو فروغ دیتے ہیں ، اور یہ "گمنام افراد" یا "جعلی اکاؤنٹس" سوشل میڈیا پر ایک خوفناک خطرہ بن چکے ہیں۔ خاص کر وہ سوشل میڈیا کا اس طرح استعمال کرتے ہیں جس سے ایسی غلط خبریں اور بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلانے سے ممالک اور معاشروں کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہے جو ان ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان میں افراتفرى پھیلاتے ہیں۔ سوشل میڈیا انتہا پسند تنظيموں  کا اہم ہتھیار بن گیا ہے ۔ انتہا پسند بڑے منظم انداز میں، منصوبہ بندی کے ساتھ اسے محاذ جنگ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ وہ اسے نظریاتی، علمی اور نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے بڑے خوش کن تصورات، خیالات اور دلائل سے نوجوان نسل کو متاثر کررہے ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرکے اپنی طرف مائل کرتے ہیں جبکہ نوجوان نہیں جانتے کہ یہ لوگ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے ہیں اور دوا کی شکل میں زہر بانٹ رہے ہیں۔ لیکن بدقسمی سے تیسری دنیا کے ممالک میں نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ وہ اپنی کم علمی، کم مائیگی، بیچارگی، احساس محرومی کے سبب انتہا پسندوں کا محبوب ہدف ہیں اور بآسانی ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ 
اس خطره كا مقابلہ كرنے كے لئے ہم سب کو ایک جماعت ہو کر انتہا پسندی کی اس جنگ کے خلاف لڑنا ہو گا۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کہیں یہ جنگ ہمارے گھروں، دفتروں، سکولوں اور کالجز تک تو نہیں پہنچ رہی۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں نہایت تدبر ، پورے وسائل اور قوت سے اسے روکنا ہوگا۔ داعش انتہا پسند نام نہاد گروپوں میں سے ایک بہت بڑا گروہ ہے جس نے لالچ دے کر 25 ہزار غیرملکی افراد کو شام اور عراق میں جنگ کیلئے آمادہ کرلیا ہے ۔ امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 4500 کا تعلق شمالی امریکہ اور یورپ سے ہے۔ واٹر لو یونیورسٹی (Waterloo University) کے محقق (Amarnath Amarasingam) کہتے ہیں کہ داعش کی سوشل میڈیا پر مہم نے لوگوں کے خیالات انتہاپسندی کی طرف موڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  گوگل کی پالیسی ڈائریکٹر وکٹوریہ گرینڈ(Victoria Grand) نے اسی موضوع پر یورپ میں ہونے والی کانفرنس میں بتایا کہ 80 سے 90 ممالک کے غیرملکی جنگجو داعش میں شامل ہیں۔ رنگ ونسل اور تعداد کے لحاظ سے ان کے اعدادوشمار حیران کن ہیں۔ سوشل میڈیا پر داعش زہریلا پراپیگنڈہ پھیلا رہی ہے جبکہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے مضبوط دلائل کہیں نظر نہیں آتے تاکہ ٹھوس بنیادوں پر ان کی مخالفت کی جاسکے۔ 
عام طور پر دنيا کے تمام ممالک میں سوشل میڈیا کے کردار کو کنٹرول کرنا ہيت ضرورى ہے،  تاکہ وہ انتہا پسندی اور پرتشدد نظریات  کو پھیلانے یا معاشروں کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ بنانے والی افواہوں کو پھیلانے کے پلیٹ فارمز میں تبدیل نہ ہوں ، اور ایسی بہت ساری تجاویزات ہیں جو اس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں ، جن میں سب سے نمایاں یہ ہیں:
•    ماہرین کے زیر نگرانی خصوصی کورسز کے ذریعے عرب ممالک میں نوجوانوں کو سوشل ميڈیا کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کی تربیت فراہم کرنا،  اور ان سائٹوں پر انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کے ذریعہ پائے جانے والے نظریات کی سنگینى کے بارے میں شعور اجاگر کرنا۔
•    سوشل میڈیا پر افواہوں کا مقابلہ كرنا، لہٰذا موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے افواه پھیلانے والوں كو  سخت سزا دینا ۔
سوشيل ميڈيا كےمختلف پليٹ فارمز پر سخت نگرانى فرض كرنا تاكہ انتہا پسند اور ہر قسم كى غير انسانى اور پر تشدد مواد كو  پہلےہى سے نشر كرنے سے روك ديا جائے ،  اسى لئے دنيا كى تمام زبانوں ميں ايسے اكسپرٹس كا ہونا ضرورى ہے جو  ديگر قسم كے خطرناك مواد كى فلٹريشن ميں ماہر ہوں. جو مكمل زمہ دارى سے اس فريضہ كو ادا كريں اور يہ جان ليں كہ لوگوں كے اور خاص طور پر نوخيز عقلوں كى حفاظت كرنا ايك امانت ہے اور اس ميں كسى بهى قسم كى خيانت كرنے كے نتائج نہايت سنگين ہوسكتے ہيں اور اس كى قيمت بعض افراد ہى  نہيں بلكہ بڑے بڑے معاشرے ادا كرتے ہيں.  

 

 
 
Print
Tags:
Rate this article:
5.0

Please login or register to post comments.