اسلام میں شہید كا مقام و مرتبہ

  • | پير, 16 مئی, 2022
اسلام میں شہید  كا مقام و مرتبہ

شہید، اس پاکیزہ روح کا مالک ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے کلمے کو سربلند کرنے کےلیے اپنے آپ کو قربان کیا۔ شہادت ایک ایسا اعزاز ہے جو صرف وہی حاصل کر سکتا ہے جس کے دل میں ایمان ہو۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شہید کو بے شمار اعزازات سے نوازا ہے۔ قرآن پاك ميں اس بات پر تأكيد كى گئى ہے كہ شہید کبھی نہیں مرتا، بلکہ وہ  تا ابد زندہ رہتا  ہے وه  اپنے پروردگار کا مقرب ہے، اسے اپنے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے، وه  جنت کی ابدی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے، قرآن و سنت میں شہید کے مقام و مرتبے کے حوالے سے جو ارشادات ملتے ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ اسلام میں شہید کی عظمت اور شہادت کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے، ارشادِباری تعالیٰ ہے:  ’’وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ  بَلْ اَحْیَاءٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ‘‘ [البقرة: 154] ’’اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں ، بلکہ وہ تو (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں، لیکن تم (ان) حواس سے (اس حیات کا) ادر اک نہیں کرسکتے ۔‘‘.
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوا: ’’وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِہٖ ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ ۙ اَ لَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۔‘‘ [آل عمران: 169] "اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل کیے گئے ان کو مردہ مت خیال کر، بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے مقرب ہیں، ان کو رزق بھی ملتا ہے ۔وہ خوش ہیں اس چیز سے جو اُن کو الله تعالیٰ نے اپنے فضل سے عطا فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں، ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔‘‘.
 ’’ سورۃ النساء ‘‘ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہدائے کرام کوان لوگوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جن پراللہ تعالیٰ نے اپناخاص فضل وکرم اورانعام واکرام فرمایا اور انہیں صراطِ مستقیم اور سیدھے راستے کامعیاروکسوٹی قرار دیا ہے۔  شہادت كا يہ  عظیم رتبہ اور مقام قسمت والوں کو  ہى ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن  کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے جیسا کہ الله رب العزت نے ارشاد فرمايا:" وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا" [النساء: 69] " جوکوئی اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺکی(ایمان اورصدقِ دل کے ساتھ) اطاعت کرتاہے،پس وہ(روزِقیامت)ان لوگوں کے ساتھ ہوگا، جن پراللہ تعالیٰ نے (اپناخاص ) انعام فرمایا ہے، جوکہ انبیاءؑ، صدیقین، شہداء اورصالحین ہیں اور یہ کتنے بہترین ساتھی ہیں".
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں داخل ہوتا ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اسے دنیاکی ہر چیز دے دی جائے، مگر شہید (اس کا معاملہ یہ ہے)کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ واپس لوٹ جائے اور دس مرتبہ قتل کیا جائے۔ (راہِ خدا میں باربار شہید کیا جائے)  [صحیح بخاری، صحیح مسلم]
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہو – اور اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے – ،وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون کا فوارہ بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا اور خوشبو کستوری کی۔ [صحیح بخاری ومسلم]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بندے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ان سے خون بہہ رہا ہوگا وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے پوچھا جائے گا یہ کون ہیں ۔ جواب ملے گا یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی ۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ کے یہاں شہید کے لئے سات (7)کرامتیں ہیں ۔ پہلی بار اسکے بدن سے خون نکلتے ہی اسکی بخشش فرمادی جاتی ہے،  جنت میں وہ اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے ، ایمان کے زیور سے آراستہ کردیا جاتا ہے،  حوروں سے اسکی شادی کردی جاتی ہے،  عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے،  قیامت کی ہولناکیوں سے مامون رکھا جاتا ہے،  اسکے سر پر یاقوت کا تاج عزت رکھا جاتا ہے جو دنیا و ما فیھا سے بہتر ہوتا ہے بَہتَّر حوروں سے شادی کردی جاتی ہے اسکے اقربا سے ستر شخصوں کے حق میں اسے شفیع بنایا جائے گا۔ [سنن الترمزي]
اللہ عزوجل کی راہ میں شہید ہونا جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے ایک بہت اعلیٰ اور اطمینان بخش عمل صالح ہے، اور اگر شہید کی قربانی نہ ہوتی تو حق کی آواز بلند نہ ہوتی اور وطن کا پرچم بلند نہ ہوتا۔ شہید قوموں کی عزت وقار پیدا کرتا ہے اور قوموں کو عروج و سربلندی پر پہنچاتا ہے۔ شہید کا ہم سب پر ناقابل تنسیخ حق ہے۔ اس کے ساتھ وفادار رہنا اور اسے اپنے تمام لمحات میں ہمیشہ یاد رکھنا ہے۔ شہداء صرف نمبر یا نام نہیں ہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے اپنی جان کی اتنی پرواہ نہیں کی جتنی ان کا کام ہماری عزت اور اپنے ملک کی عزت کو بچانا ہے۔ اور ہمیں اوطان کی تعمیر میں شہید کی فضیلت سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ جو بھی وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے وہ ہر قسم كى عزت اور وقار  کا مستحق ہے۔ الله تعالى سے دعا ہے کہ  ہمارے شہدا کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
 

Print
Categories: اہم خبريں
Tags:
Rate this article:
2.0

Please login or register to post comments.