علمائے مشرق ومغرب كے جلسۂ عام ميں شيخ الازہر كا خطاب

  • | اتوار, 7 جون, 2015
علمائے مشرق ومغرب كے جلسۂ عام ميں شيخ الازہر كا خطاب

"اٹلی" کے شہر "فلورنس" میں امام اکبر شیخ الازہر اور "مسلم علما كونسل" کے سربراه پروفیسر ڈاکٹر "احمد الطیب کا "علمائے مشرق ومغرب" کے جسلۂ  عام  میں خطاب

الحمد لله والصلاۃ والسلام على سيدنا رسول الله صلى الله عليہ وسلم وبارك عليہ وعلى آلہ وصحبہ وسلم

السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

           آج کل ہماری دنیا پر نا امیدی اور یاس کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں  جس سے عالمی تہذیبیں  سخت  متاثر ہوئی ہیں۔اس حالت میں مغرب اور مشرق کے ما بین  وصل  کا خیال آیا ، جس میں مشرق ومغرب کے بعض علماء ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ مسئلہ پر تحقیق کریں گے، ان کی صرف ایک ہی امید ہے اور وہ یہ کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے امن وسلامتی کا بیچ بویا جائے جو کہ ایک نہ ایک دن پھل ضرور دے گی۔

مشرق اور مغرب كى تعريف

          میں سمجھتا تھا کہ کوئی بھی ریسرچ اسکالر مشرق اور مغرب کے درمیاں فرق کو صحیح طرح سمجھ سکتا ہے ، لیکن علمائے منطق کے بقول ، میں مشرق یا مغرب کے صحیح معانی تک پہنچنے میں نا کام رہا۔ یہ دو ایسے قطب ہیں جو جغرافیائى طور پر تو دور ہیں لیکن تاریخی اور تہذیبی حیثیت سے قریب۔

فلورنس

          آج "فلورنس" ہماری میزبان ہے، اس شہر کا تہذیب،  ثقافت اور فن کے ساتھ رشتہ بہت پرانا ہے، اور یہ مشرق ومغرب کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے میں مرکزی حیثت رکھتا تھا۔

اہل مشرق كے ہاں مغرب كا مفہوم

          ہم جاننا چاہتے ہیں کہ مشرق کے لئے مغرب کیا حیثیت رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا مشرق کے لئے مغرب عیسائیت، سیکولرزم اور لا دينیت کا نام ہے؟ کیا مغرب مشرق کے لئے ایک ملٹری اور اقتصادى  طاقت ہے ؟ کیا وہ حقوق انسانیت اور تنویر ہے یا نسل پرستی اور فاشزم؟

 

مشرق پر مغرب كى تاثير

مغربی تہذیب کا مشرق اور اسلامی تہذیب و ثقافت پر اثر بہت نمایاں ہے اور اس کی تاثیر  اسلامی ممالک پر نہایت واضح ہے۔میری رائے میں مشرق اور مغرب کے تہذیبوں کے درمیان کئی مشترکہ علمی، ثقافتی، اور فنی عناصر شامل ہیں جو کہ ان دونوں تہذیبوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مغربی انسان کی طرح مشرقی انسان کو بھی ایک اچھی اور پر امن زندگی گزارنے کا مکمل حق ہے اسی لئے میری امید ہے کہ دنیا کے طاقتور ملک مشرق اور مغرب کو ایک ہی نظر سے دیکھیں اور وہ کمزور اور کم طاقتور ملکوں کی جانب اپنی سیاست میں تبدیلی لائیں کیونکہ اسی سیاست کی وجہ سے  دنیا دو حصوں میں بٹ گئی ہے: ایک حصہ میں مادی تہذیبی ، فنی اور ثقافتی ترقی اور دوسرے حصہ میں جنگ، خون، دہشت گردی، غریبی، جہالت اور امراض۔

          نہ صرف مشرق کے مسلمان بلکہ مغربی دنیا میں عدل وامان کے قائل بھی اس سیاست کے سخت خلاف ہیں۔ مشرق کے مسلمانوں اور عیسائیوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ مغرب کے لوگوں کی رائے بدلنے کی کوشش کریں۔ دین اسلام نے لوگوں کے درمیان تعارف کو سراہا ہے، اسی لئے دین کی پوشاک پہن کراپنے دین کو قتل یا لوٹ مار کی غرض سے استعمال کرنا ایک جرم ہے اور ہمیں اس کو روکنے کے لئے ایک بننا ہوگا۔آ پ كے حسن استماع كا شكريہ

                                                           شيخ الازھر

احمد الطیب

 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.