اسلام اور امن وامان

  • | بدھ, 13 ستمبر, 2017
اسلام اور امن وامان

          اسلام محض ايك مذہب يا عبادت كا نظام نہيں بلكہ آشتى كا، فتنہ وفساد سے نجات اور لڑائى جهگڑے سے اجتناب كا نام، اور روادارى، برداشت اور بردبارى، عدل ومساوات، حسنِ خيالات، احترامِ جذبات اور تحفظِ ذات كا نام ہے۔

         آج پورى دنيا ميں جنگ كا عالم ہے- مشرق وسطى ميں خون كى ندياں بہہ رہى ہيں- پاكستان، افغانستان اور ہندوستان بهى بدامنى كے اس ريلے سے محفوظ نہيں، چونكہ قرآن پاك ميں الله تعالى كا ارشاد ہے كہ: (دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے) (سورۂ آل عمران: 19) تو الله كے نزديك نظامِ حيات صرف سلامتى پر مبنى ہو سكتا ہے اور وه اسلام ہى ہے- اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ اسلام خود بھی امن وسلامتی والا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن وعافیت کے ساتھ رہنے کہ تلقین کرتا ہے، اسکی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے بھیجے ہوئے دین کا نام ہی اسلام پسند کیا ہے اسلام کے معنی ہی سلامتی اور امن وامان کے آتے ہیں۔

        اسلام اور دہشت گردی کے تعلق کی بات کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔  اسلام امن ، محبت، عدل و انصاف اور میانہ روی کا دین ہے اور اس کا دہشت گردی اور خون ریزی سے کوئی تعلق نہیں جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرتے ہیں، اسلام ميں غیر اسلامی ملک کے غیر مسلم افراد پر انفاق کرنا اور مصیبت و آفت میں ان کے ساتھ ہمدردی و تعاون کرنا تو مسلمانوں کا وصف خاص ہے- اسلام نے غیر مسلم افراد سے کاروبار، تجارت، لین دین اور معاملات کو درست رکھا ہے اسلام ميں  مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ کتنے پاکیزہ طریقہ پر معاملات کرتے آئے ہیں کہ ظلم و زیادتی اور حق تلفی کا کوئی شائبہ تک نہیں ، اسی طرح مسلمان غیر مسلموں سے رہن کا معاملہ بھی کرسکتے ہیں۔رسول اللهؐ نے فرمایا : «مومن وہ ہے جس سے تمام لوگوں کے خون اور مال محفوظ ہوں۔»  اس ارشاد نبوى مبارک سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ اسلام نے غیر مسلموں کے بھی جان و مال کو تحفظ دیا ہے اور انہیں باوقار زندگی مرحمت کی ہے اور کامل مومن کی علامت و شناخت بھی یہی رکھی کہ اس سے دوسرے لوگ خواہ مسلم ہوں کہ غیر مسلم، مامون ومحفوظ رہیں۔يہاں تك كہ  رسول الله نے مسلمان فرد كى نشانى بھى  يہى ركھى ہے، آپ ؐ كا ارشاد ہے كہ " مسلمان وه ہے جس كے زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہيں"۔

         خلاصہ يہ ہے كہ اسلام  دينِ امن وامان ہے، لوگوں كے درميان مہربانى اور شفقت  كى دعوت ديتا ہے  رسول ِ اكرم نے نجران كے عيسائيوں كے ساتھ جو معاہده كيا اس ميں واضح طور پر اس بات كا اعلان كيا  كہ ان كے جان ومال، عزت و آبرو، ان كى عبادت گاہيں، ان كى مورتياں الله كى امان اور ميرے يعنى محمد كى ضمانت ميں ہے ، ان تمام اشيا كو مد نظر ركھتے ہوئے  يہ بات واضح ہو جاتى ہے كہ سلام يعنى امن ہى ہمارے دينِ حنيف كى بنياد ہے اور اس كو پھيلانے كے لئے ہميں اس بات كو قبول كرنا ہوگا كہ ہم اس دنيا ميں اكيلے نہيں ہيں  اور جس طرح كہ فرمانِ الہى ہے كہ "لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ" ( تمہارے لئے تمہارا دين ہے اور ميرے لئے ميرا دين)  اللہ تعالى يہ بھى فرماتا ہے كہ "لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ" (دين ميں كسى قسم كى زبردستى نہيں) يعنى كہ ہم كسى كو اسلام لانے پر مجبور نہيں كر سكتے كيونكہ اس طريقہ سے اگر كوئى اسلام لايا  بھى تو وه سچا اور پكا اسلام ہرگز نہيں  ہوگا . اسلام تلوار يا قوت كى حد سے نہيں بلكہ  اخلاقِ حسنہ سے پھيلا اور اس كو مزيد  پھيلانے كے لئے ہميں دہشت گردى اور خوف كى نہيں بلكہ امن وسلامتى كى ضرورت ہے  ہميں بين المذاہب بلكہ بين المسالك مكالمہ كى ضرورت ہے  كيونكہ اگر مختلف مذاہب اور مسالك كے لوگوں كے درميان رابطہ ہوگا تو وہ غلط فہمياں جس كو بعض متشددين  پھيلاتے ہيں اور جو فسادات اور قتل وغارت كا سبب بنتى ہيں  بے بنياد  ہو جائيں گيں ۔

Image

Print
Tags:
Rate this article:
4.5

Please login or register to post comments.