نوجوان قوم كا قيمتى ‏اثاثہ

  • | اتوار, 10 فروری, 2019
نوجوان قوم كا قيمتى ‏اثاثہ

                     نوجوان كسى بهى  قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، معاشرے میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے،  اپنے معاشرے کا مغز ہوتے ہیں۔اپنے سماج کا آئینہ ہوتے ہیں اور سوسائٹی کا عظیم اثاثہ ہوتے ہیں۔معاشرے کی نشونما، معاشرے کی بقا اس کی صلاح و فلاح، اس کا مستقبل انہیں کے دامن سے وابستہ ہوتا ہے۔ نوجوان ايك اچهے  اور طاقتور  معاشرے کے معمار بھی بن سکتے ہیں اور اس کو مسمار بھی کرسکتے ہیں۔ اگر نوجوان کا ذہن گمراہ ہوگیا تو سارا معاشرہ گمراہ ہوجائے گا۔اگر نوجوان کا ذہن روشن نہ ہوا تو معاشرے کا دماغ کبھی روشن نہ ہوسکے گا۔ اگر نوجوان کا کردار غلط ہوا تو قوم کا کردار بھی صحیح نہیں ہوسکتا، معاشرے کی ذہنی نشونما اور فکری ارتقا کا دارومدار نوجوانوں  پر ہے۔

                     دورِ حاضر ميں نوجوانوں كوكئى دشوارياں پيش آئى  ہيں، ان مسائل  كا حل كرنا بہت ضرورى ہے، تعليم وتربيت ان مسائل  ميں سرفہرست ہے ،نوجوانوں كى تعليم وتربيت ميں   تعليمى ادارے  نہايت اہم كردار  ادا كرتے ہيں، تعليمى اداروں کی انتظامیہ کو یہ بات ذہن نشین رکھ لینی چاہیے کہ جب نوجوان نظریاتی انتشار و خلل کا شکار ہوتے ہیں تو یہ تباہی و بدنامی صرف اداروں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ نہیں بنتی بلکہ جب نوجوان اس چھوٹے معاشرے سے نکل کر بڑے معاشرے میں قدم رکھتے ہیں تو غلام ذہن ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ جب ذہن ایک بار غلامی قبول کر لے تو ملک و قوم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا اور ایسی ہی قومیں زوال کا جلد شکار ہوتی ہیں جن میں تعمیری ذہن تخریب کی اساس بننے لگیں۔ علمی احیا اور آزادانہ فکری ماحول ہی تعلیمی اداروں کی بقا کا ضامن ہے۔

                 تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس كے ذريعے بے روز گارى، جہالت،ناانصافی، دہشتگردی اور ظلم کا خاتمہ کر کے دنیا کو امن کا گہوارہ بنايا جاسكتا ہے. دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اپنے ملک و معاشرے کی ترقی، استحکام اور امن کے قیام کےلئے اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دیتی ہیں ، اور ان کے مسائل کے حل کے لئے خصوصی اقدامات کرتى ہے، کیونکہ اگر نوجوان صحيح راستہ سے ہٹ جائیں تو معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔

                 افسوس ہے كہ آج نوجوانوں كا دہشت گردى كے واقعات ميں شامل ہيں، كئى نوجوان دہشت گرد تنظيموں سے منسلك رہے ہيں، دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر دوڑ رہى ہے۔ اور نوجوان اس میں بہتے جا رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجیز کی مدد سے متشدد اور انتہاپسند نظریات کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور نوجوان دوسرے ملکوں میں جا کر مذہبی یا نظریاتی جنگوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

                  يہاں سوال  يہ  پيدا ہوتاہے كہ نوجوان دہشت گردی کی راہ پر کیوں چل نکلے ہیں؟ نوجوانوں کو دہشت گرد بننے سے کیسے روکا جا سكتا ہے؟،دہشت گردى كے انسداد كرنے كے لئے  ہميں چاہئے كہ   انتہا پسندى سے نمٹنے كے لئے ايك پاليسى وضع كريں جس ميں  مدارس اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے نصاب کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں اصلاحات وضع کرنے کی سفارش کی جائے۔ اس پالیسی میں ان عوامل کی نشاندہی بھی کی جائے جو معاشرے میں انتہا پسندانہ سوچ اور تشدد کی وجہ بن رہے ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات بھی تجویز کئے جا ئيں جن میں نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی شامل ہو۔ انتہا پسندى اور دہشت گردی کا خاتمہ اس وقت كا تقاضہ ہے تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو۔ اور وه  دنيا كے باقى ترقى يافتہ ممالك كى طرح آگے بڑھ سكے۔

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.