احترامِ انسانيت

  • | پير, 20 مئی, 2019
احترامِ انسانيت

     رسول رحمت حضرت محمدؐ كے احكاما ت كا ہر ہر پہلو انسانيت كى بهلائى كے لئے ہے۔ رسول اكرمؐ نے فرمايا كہ: «اپنے بهائى كى مدد كرو، خواه وه ظالم ہو يا مظلوم۔ صحابۂ كرام نے عرض كيا: يا رسول اللهؐ ظالم كى كيا مدد كريں؟ آپ ؐ نے فرمايا: اس كو ظلم سے روكو۔» اس حكم سے بهى اس بات كا واضح اظہار ہوتا ہے كہ مظلوم كا ساتھ دينا جہاں عبادت ہے وہاں ظالم كو اس كے ظلم سے روكنا بهى عبادت كا درجہ ركهتا ہے۔ كيونكہ  ظلم ايسا ناسور ہے جو معاشروں كو، خاندانوں كو، حكومتوں كو، ملكوں كو اور تہذيبوں كو لے ڈوبتا ہے- حضرت على كى كى طرف منسوب ايك قول ہے كہ كوئى ملك كفر وشرك كے ساتھ تو قائم ره سكتا ہے مگر ظلم كے ساتھ قائم نہيں ره سكتا۔

آپؐ كے صحابہ اور خلفائے راشدين كا غير مسلموں كے ساتھ حسنِ سلوك پورى دنيا پر واضح تها۔ سيدنا فاروق اعظم  حضرت عمر   كا خادم "اسبق " ايك عيسائى  تها اور سيدنا عمر بن خطاب  كى طرف سے اسلام كى دعوت دينے كے باوجود وه مسلمان نہيں ہوئے۔ سيدنا عمر بن خطاب نے كبهى انكو اسلام لانے پر مجبور نہيں كيا ، بلكہ ان كو آزاد كر ديا اور تاريخ كے كاغذات  بتاتے ہيں  كہ حضرت اسبق بعد ميں مسلمان ہوئے- جس سے يہ بات روز روش نكى طرح واضح ہو گئى كہ رسول اكرمؐ كى تعليمات كسى كو جبر كى بنياد پر اسلام ميں لانے كى اجازت نہيں ديتى- حتى كہ قرآن كريم ميں واضح طور پر كہا گيا ہے كہ تم كسى كے جهوٹے خدا كو بهى گالى نہ دو كيونكہ وه اپنى جہالت كى بنياد پر كہيں سچے خدا كو گالى نہ دے دے۔

مثال كے طور پر پشاور ميں معصوم سكول كے بچوں كو شہيد كر ديا گيا اور بنو قريضہ كے واقعہ سے استدلال كرنے كى كوشش كى گئى- انتہائى دكھ، كرب اور افسوس كى بات ہے كہ دين مصطفىؐ كو جو امن، محبت اور روادارى كا دين ہے، اپنى سوچ اور فكر كى غلاظتوں اور خباثتوں سے بعض لوگ داغدار كرنا چاہتے ہيں۔

رسول اكرمؐ كى سيرت طيبہ اور تعليمات كى روشنى ميں يہ بات واضح ہے كہ انسانيت كى محبت اور احترام دونوں ايك مبلغ كے لئے ضرورى ہيں اور جہاں تبليغ اور تعليم وتربيت ميں اسے ان باتوں كا خيال كرنا ہے وہاں پر اپنى ذات كے حوالے سے بهى اخلاص، علم، صبر وتحمل، حسن گفتار اور حسن كردا ركا خيال كرنا چاہيے۔ علماءكرام، مبلغين، ذاكرين، واعظين اس بات كو مد نظر ركهيں كہ ان كى ذمہ دارى انسانيت كو اچهے كاموں كى طرف لگانا اور برے كاموں سے روكنا ہے اور اگر وه اخلاص، علم، صبر وتحمل، حسن گفتار اور حسن كردار سے عارى ہو جائيں گے تو پهر ان كا كوئى عمل بهى قرآن وسنت كى تعليمات كے مطابق نہيں كہلائے گا۔

Print
Tags:
Rate this article:
4.0

Please login or register to post comments.