خدمتِ خلق

  • | منگل, 23 جولائی, 2019
خدمتِ خلق

     حقوق العباد كا محور اور مركز"مخلوقِ خدا" ہے، ان حقوق كى ادائيگى ہى در حقيقت  خدمتِ خلق ہے،عام معنوں  ميں خدمت ِ خلق  ايسے كام يا عمل  كو كہتے ہيں جس سے ہر شخص  كو يكساں فائده پہنچے، جس ميں كسى خاص گروه يا مذہب كو فائده  پہنچانا مقصود نہ  ہو بلكہ اس كا دائره خدمت جانوروں تك بھى پھيلے، اس جذبہ كے ساتھ جو كام كيا جائے گا وه خدمتِ خلق كى تعريف كے ضمن آئے گا۔

خدمتِ خلق كے لئے شرعى اصطلاحات ميں "صدقہ" اور "انفاق فى سبيل اللہ"  شامل ہيں۔حضورؐ   كا ارشاد گرامى ہے:

( إماطة الأذى عن الطريق صدقة)،ترجمة:"راستے سے تكليف  ده چيز  كو ہٹانا بھى صدقہ ہے"۔

 خدمتِ خلق  كے اصولوں ميں سے ايك  اصول " انفاق فى سبيل اللہ" ہے، در اصل  يہ خدمتِ خلق كا جزو اعظم ہے،سورہء بقره كى ابتدا آيات ميں ہدايت  يافتہ لوگوں كى تعريف ان الفاظ  ميں  كى گئى ہے:

" هدى للمتقين الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما  رزقناهم ينفقون"[البقرة:2،3]، ترجمہ: (ہدايت ہے ان پر ہيز گاروں كےلئے جو غيب پر ايمان لاتے  ہيں ، نماز قائم كرتے ہيں اور جو رزق ہم نے ديا ہے اس ميں سے خرچ كرتے ہيں)

ہميں چاہئيے كہ ہم  اللہ  تعالى كى راه ميں دل پسند مال خرچ كريں،  يہ نہيں كہ  حاجت مندوں كو بوسيده گھٹيا اشيا  دے، قران حكيم ميں ايك نہايت پر حكمت آيت ہے :

" يسالونك ماذا ينفقون كل العفو"[البقرة: 219]، ترجمہ: ( وہ پوچھتے ہيں كہ راهِ خدا ميں كيا  خرچ كريں، كہو جو كچھ تمہارى ضرورت سے زائد ہو) ۔

ضرورت  كا مفہوم ہر زمانے اورہر معاشرے ميں بدلتا رہا ہے، علاوه ازيں ضرورت معاشرے كے مختلف طبقوں ميں مختلف معانى كى حامل  ہے، ارشاد نبوى كى روشنى ميں ضرورت كى تعريف يہ ہے كہ انسان كفايت شعارى سے كام ليتے ہوئے اپنے اور اپنے اہل وعيال كے لباس اور  قيام پر كم سےكم خرچ كرے اور باقى زكوة  اور فرائض كى ادائيگى كے بعد جو بچے وه تمام خدمتِ خلق ميں دے دے۔

اللہ تعالى نے اس بات پر زور ديا ہےكہ لوگ اپنى ملكيت كا بہترين حصہ  الله كى راه ميں خرچ كريں ، ارشاد ہے :

"لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون"[آل عمران: 92] ، ترجمۂ: ( تم نيكى كو ہر گز نہيں پہنچ سكتے جب تك اپنى  وہ چيزيں (خدا كى راه ميں ) خرچ نہ كرو جنہيں تم عزيز ركھتے ہو)

بہترين مال خدا كى راه ميں دينے  ميں حكمت يہ بھى ہے كہ انسان كى مال وزر سے محبت كم ہو جاتى ہے،جذبہ ايثار بڑھتا ہے اور اچهى چيز كا رآمد ہونے كى وجہ سے  زياده ضرورت مند لوگوں يا معاشره كے كام  آتى ہے، صحابۂ كرام انفاق فى سبيل اللہ سے متعلق ايك دوسرے سے مسابقت كرتے تھے اور  اپنى خواہشات كو نظر انداز كر ديتے تھے۔

اللہ تعالى       نے جامع اور مختصر ارشاد ميں بتايا ہے كہ مال كن لوگوں پر  خرچ كيا جائے، ارشاد ہے:

" وفي أموالهم حق معلوم للسائل والمحروم"[الذاريات:19]، "،ترجمۂ (اور ان كے مالوں ميں حق ہے سائل اور محروم كے لئے ) ۔

خدمتِ خلق كى نہايت  اعلى، ارفع قسم "ايثار "ہے، ايثار كا مطلب اپنى ضرورت كے وقت دوسرے كو ترجيح دينا ہے،حضور پاك ؐ سراپائے ايثار اور مرقع رحمت تھے، صحابہ كرام  رضہ  كے كردار واعمال ميں اس  كا پورا پورا پرتو موجود تھا، غزوه تبوك كے موقع پر  حضرت عمر فاروق رضہ نے اپنے گھر كا نصف اثاثہ ديا تھا،حضرت عثمان رضہ نے مسلمانوں كے مفاد كےلئےميٹھے پانى كا كنواں  خريد كر وقف كرديا تھا،حضور پا كؐ  نے اس پر خوش ہو كر فرمايا تھا كہ عثمان رضہ جنت خريد لى۔

خدمتِ خلق كا تقاضا يہ بھى ہے كہ كوئى شخص بيمار  ہو  تو اس كى عيادت كى جائے، فوت ہوجائے تو اس كى  تعزيت كى جائے ،  رشتہ داروں كے معاملے ميں تو يہ امور فرض كا درجہ  ركھتے ہيں، عام مسلمانوں كى عيادت يا تعزيت بھى باعث ثواب ہے ، بلكہ بعض اوقات واجب ہوجاتى ہے، رسول اللہ ؐ كے فرمان كے مطابق ايك مسلمان كے دوسرے مسلمان پر يہ حقوق ہيں،" سلام كا جواب دينا، مريض كى  عيادت كرنا، جنازه كے ساتھ جانا اور دعوت قبول كرنا"۔اس حديث سے ظاہر ہوگا كہ اللہ تعالى كے نزديك اس كى مخلوق كے ساتھ احسان كرنا اور اس كے ساتھ اچها سلوك  كرنا اور مريض كى عيادت كرنا كتنا مستحسن عمل ہے۔خلاصۂ كلام ہے كہ مذہب كا نچوڑ حقوق  العباد ہے، الله رب العزت اپنے حقوق ميں كوتاہى كو تو معاف كرسكتا  ہے ليكن اپنے بندوں كے حقوق كو بهلانے والوں كو سخت ناپسند كرتا ہے ، اور  ان كو دنيا اور آخرت ميں شديد عذاب كا مستحق قرار ديتا ہے ۔

 

 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.