پُرامن معاشره كى تشكيل ميں تعليم كا كردار

  • | پير, 9 ستمبر, 2019
پُرامن معاشره كى تشكيل ميں تعليم كا كردار

     تعليم ہر انسان  چاہے وہ  امير ہو يا غريب ، مرد ہو يا عورت  كى بنيادى ضرورتوں ميں سے ايك  ہے،يہ ہر انسان كا حق ہے جو كوئى اسے  نہيں  چھين  سكتا، تعليم  كسى بھى قوم يا معاشرے كےلئے ترقى كى ضامن ہے، يہى قوموں كى ترقى يا  زوال كى وجہ بنتى ہے، انسانی ذہن کو اگر اوائل عمری میں تعلیم و تہذیب کی اعلی روایات کے احیاء و تشکیل کی جانب مائل کر دیا جائے تومعاشرتی و سماجی امن و استحکام کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی۔ تعلیم و تربیت دراصل اصلاح معاشرہ کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے معاشرہ میں معاشرتى امن و برداشت کا سلیقہ پید اکرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔

اسلام نے حصولِ تعليم  كو فرض  قرار ديا ہے، تعليم كى اولين  مقصد انسان كى ذہنى ، جسمانى اور روحانى نشو  ونما كرناہے،دورِ حاضر ميں جديد علوم حاصل كرنا آج   كا  لازمى  تقاضہ ہے،جديد علوم  كے  ساتھ ساتھ  دينى تعليم  بھى بہت ضرورى ہے،ان دونوں   كے ساتھ  ساتھ اخلاقى تعليم بے حد ضرورى ہے ، كيونكہ  اسى تعليم كى وجہ سے   زندگى ميں خلوص، ايثار، خدمتِ خلق اور وفادارى  اور ہمدردى كے جذبات  بيدار ہوتے ہيں،جديد علوم سے مسلمان كو دور رہنا نہيں چاہئے ،بلكہ  جديد زمانے  كے جتنے بھى علوم  ہيں زياده تر  كےبانى مسلمان  ہى ہيں، تاريخ گواہى ديتا ہے كہ ہر زمانے ميں مسلمانوں نے  تعليم وتربيت  ميں معراج پا كر دين ودنيا ميں  بلندى اور ترقى حاصل كى۔

 اگر كوئى ملك ترقى  كرنا چاہتاہے تو    ان كو چاہئے كہ  وه اپنى تعليمى اداروں كو مضبوط كريں ،آج تك جن  قوموں نے ترقى كى ہے وه  صرف علم  كى بدولت  كى ہے،علم كى اہميت سے صرف نظر كرنا ممكن نہيں ،زمانۂ قديم سے دور ِحاضر تك ہرمتمدن ومہذب معاشره علم كى  اہميت سے واقف  ہے، اسلام  نے بھى علم  حاصل كرنے كى حوصلہ افزائى كى ہے، ہميں اس كے ابتدائى نمونے اسلام  كے عہد مبارك ميں ملتے ہيں،غزوۂ بدر كے قيديوں كى رہائى كے لئے فديہ كى رقم مقرر كى گئى تھى ، ان ميں سے جو لكھنا پڑھنا جانتے  تهے  ، انھيں حكم ہوا كہ دس دس بچوں كو لكھنا سكھا ديں تو چھوڑ ديئے جائيں گے، اس  سے  اندازه لگا يا جاسكتا ہےكہ  تعليم كى  كيا اور كتنى اہميت تهى؟؟

بےشك تعليم  دہشت گردى اور انتہا پسندى  جيسے ناسور سے  چھٹكارا حاصل كرنے كا بہترين ہتھيار ہے،تشدد پسندی بیمار ذہنوں کی علامت ہے۔ ایک متوازن ذہن ہمیشہ امن واستحکام کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے اور انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے مامور ہوتا ہے۔ نوجوان طلبہ کے لیے مختلف علوم کی تحصیل تعلیم و تربیت کا ایک اہم حصہ ہے ،مگر ان سب سے بڑھ کر ان میں انسانیت کے احترام کے شعور کو اجاگر کرنا تدریسی عمل کا لازمی جزہے،دانشوروں اور اساتذہ کا اولین فریضہ یہی ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو ان اعلى سماجی اقدار سے روشناس کروانے کی از حد سعی کریں جو مستقبل میں ایک متوازن معاشرہ کی تشکیل کی خشت اول ثابت ہو، ہم آہنگی، برداشت، توازن ، طبقاتی مساوات، بہتر روزگار ایسے عناصر ہیں جو کسی بھی معاشرہ کو جنت نظیر بنانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

خلاصہ كلام ہےكہ تعليم ايك مخلص اور امن پسند  معاشره كى تشكيل ميں  نمايا ں كردار ادا كرتى ہے، ہر استاد    كى ذمہ دارى ہے كہ وه اپنے طالب علموں كے ذہنوں ميں معاشرتى امن  اور سماجى استحكام جيسے اعلى اہداف كو حاصل كرنے كے لئے  مثالى جذبہ  پيدا كرنے كى كوشش كرديں تاكہ وه نہ صرف اپنى زندگياں سنوارنے كے قابل ہوسكيں بلكہ سماجى سفير كى حيثيت سے اپنے ساتھى  انسانوں كى زندگيوں كو بھى آسان بنانے كى كوشش كريں۔

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.