شيشوں كے ساتھ نرمى سے پيش آو!

  • | منگل, 26 نومبر, 2019
شيشوں كے ساتھ نرمى سے پيش آو!

 

اسلام دين اور دنيا .. دونوں كا دين ہے ، اور دنيا كے  تمام امور كا انتظام صرف مرد يا صرف عورت نہيں كر سكتى، ايك اچهى زندگى گزارنے كے ليے دونوں كا مل كر رہنا اور كام كرنا از حد ضرورى بلكہ لازمى ہے ، دنيا كے كئى ممالك ميں خواتین کے بنیادی انسانی حقوق ہمیشہ سے نظر اندا زکیے جا تے رہے ہیں ،اکثر دیہاتی اور قبائلی نظام میں بسنے والی عورت پر آج بھی دور ِجاہلیت کے رسم و رواج کا اطلاق کیا جاتا ہے ،اسى بناپر خواتين پر  تشدد  پڑتا ہے،خواتین پر تشدد کی بہت سی اقسام ہیں ،یہ تشدد گھروں میں، گلیوں میں، کام کی جگہوں پر، اسکولوں  میں ہوتا ہے ،س کی سب سے زیادہ عام شکل گھریلو اور جنسی تشدد کی ہے ،اسقاطِ حمل، نوعمری کی شادیاں، کاروکاری اورغیرت کے نام پر قتل بھی دیکھنے میں آتا ہے، اس کے علاوہ مارنا ،پیٹنا،دھکا دینا،زخمی کرنا،درد پہنچانااورجسم پر تیزاب پھینک دینا ،لفظوں سے چوٹ پہنچانا،ذہنی ٹارچر کرنا،عزتِ نفس اور خودداری سے کھیلنا،حقیر سمجھنا،دوسروں کے سامنے بے عزتی کرنا، آزادی سلب کرنا اور دھمکی دینا ، ہتک آمیز الفاظ کا استعمال ، پیسہ نہ دینا ، زبردستی جنسی تعلقات قائم کرنا،جنسی طور پر ہراساں کرنااورچھیڑ چھاڑ کرناوغیرہ  بهى شامل ہیں۔

ان سب افعال  کا شریعتِ اسلامیہ  سے دور کا بھی واسطہ نہیں،یہ سب کچھ شعائر اسلامی کے سراسر خلاف ہے، بلکہ اسلام میں تو عورتوں کو اتنے حقوق دیئے گئے ہیں کہ کوئی اور مذہب ،معاشرہ پیش نہیں کر سکتا ، مثلاََجنت ماں کے قدموں کے نیچے ،بیوی كو شوہر کا اور شوہر  كو بیوی کا لباس قرار دیا گيا، اس کے علاوہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیوی کے متعلق فرمایا کہ ﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ﴾ ترجمۂ : "ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو،اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو"[النسا:19] ۔
نبی کریم ؐنے فرمایا: «تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہواور میں ،تم میں سے سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے چھوڑ دو یعنی اسے برائی سے یاد نہ کیاکرو»۔ ايك اور حديث ہے كہ: «مسلمانوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ ہے ،جو اخلاق میں سب سے بہتر ہے اور تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں(ان كے ساتھ اچها سلوك كرتے ہيں)»۔

اسلام كى نظر ميں عورت كا مقام

دين ِاسلام ميں جہاں  خاندانى  نظام اور حسن ِمعاشرت كے بارے  ميں بڑى فضيلت بيان كى گئى ہے ، انفرادى حيثيت سے عورت  كوبحيثيت ماں،بہن، بيوى اور بيٹى  وغيره كے رشتوں  ميں   پروكر  اسے ايك  كليدى اہميت دى گئى ہے۔

دين ِ اسلام ميں عورت اور مرد  دونوں كو ايك طرح  كى حيثيت  ومقام ديا گيا ہے، اس كى بنيادى وجہ يہ ہے كہ  دونوں نسلِ انسانى  كو پھيلانے ميں يكساں  كردار ادا كرتے  ہيں، جيسا  كہ  قرآن كريم  ميں  ارشاد ربانى ہے:﴿ يا أيها الناس اتقورا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالًا كثيرًا ونساءً﴾، ترجمۂ: "اے لوگو! اپنے رب سے  ڈرو جس نے  تمھيں  ايك جان  سے  پيدا كيا اور اس سے  اس كى  زوجہ  كو پيدا كيا، اور ان دونوں  سے بہت بڑى  تعداد ميں مردوں  اور خواتين كو پھيلا ديا"  [سورة النساء: 1]۔

دين ِ اسلام نے تخليق كےاعتبار سےمرد وخواتين كو ايك جيسا مقام عطا فرمايا ہے اور انسان كو اس حوالے سےروشناس كرايا  ہے كہ  دونوں ہى  اللہ كى تخليق ہيں ، قرآن كريم ميں كسى بھى مقام پر انسان كو پيدائشى    گنگہار ثابت نہيں  كيا گيا  جيسا كہ بعض مذاہب  كے پيروں كار كا عقيده ہے ، دينى   تعليمات جن كى بنياد قرآن وسنت ہے ، ان ميں  خاتون كو ايك   جيسا مقام ديا گيا ہے ، ارشاد بارى ہے: ﴿ من عمل صالحًا من ذكر أو انثى وهو مؤمن  ﴾ترجمۂ: " جو شخص  نيك عمل كرے مرد ہو يا عورت ، ليكن با ايمان ہو"[سورة النحل: 97]، اس آيت سے  واضح ہےكہ دين اسلام ميں عمل كى  حيثيت  كے حوالے سے مردوخاتون كا كوئى امتياز نہں ہے۔

شريعت اسلاميہ  ميں عورت كو ماں ، بہن ،بيٹى اور بيوى كا درجہ ديا گيا ہے،مرد وخاتون كو ايك دوسرے كے ليے لازم وملزم قرار ديا گيا ہے ،مياں  اور بيوى ايك دوسرے  كے ليے راحت  كا ساماں  پيدا كرتے ہيں اوراور خوشى  كا باعث بنتے ہيں اسى ليے قرآن ميں  انہيں ايك دوسرے  كا لباس قرار ديا ہے ،ارشاد بارى  تعالى  ہے:﴿هن لباس لكم وأنتم لباس لهن ﴾، ترجمۂ :"وه عورتيں تمھارا لباس ہيں اور تم ان كا لباس ہو "[سورة البقرة:187]

اسلام  ميں عورت  بحيثيت  انسان   ، مرد ہى كى طرح انسانى عزت  كى مستحق ہے، اس لحاظ سے  مرد وعورت كے درميان كوئى فرق نہيں،نبى كريم ؐ نے فرمايا:" عورتيں مردوں ہى كى شقيقہ (ہم جنس) ہيں"۔

يوں  اسلام نے عورت كے بارے ميں اس تصور كو كہ  وه  مرد كے  مقابلے ميں ذليل وحقير  مخلوق  ہے، باطل قرار ديا،اور واضح الفاظ ميں بيان كردىا  كہ تكريم آدميت اور شرفِ انسانيت كے لحاظ سے مرد   اور عورت  ميں فرق روا نہيں ركھنا چاہيئے، اسى بنياد پر اسلام ميں وجہ فضيلت  اور وجہ ذلت يہ نہيں ہے   كہ فلاں مرد ہے اس لئے بہتر ہے يا فلاں عورت ہے اس لئے ذليل ہے، بلكہ شرف وفضل كا معيار ايمان  اور تقوى ہے،ارشاد بارى ہے: ﴿إن أكرمكم عند اللہ أتقاكم﴾،[سورة الحجرات:13]

 ترجمۂ :"اللہ كے نزديك  تم ميں سب سے معزز  وه ہے جو تم ميں سب سے زياده متقى اور پرہيز گار ہے"۔

اسلام نے علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت کی تخصیص کے بغیر فرض قرار دیا، اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو اس وقت بلند حیثیت عطا کی ،جس وقت ساری دنیا نے اسے ایک جانور یا پھر صرف جنسی شے کا درجہ دے رکھا تھا ،مرد کی نگاہ میں اسکی کوئی انسانی حیثیت نہیں رہ گئی تھی ،تب اسلام نے عورت کو بہ حیثیت فرد کے برابر مقام دے کر اس کے مقام کو سربلندی عطا کی تھی ۔

اسلام ہی طبقہ نسواں کا اصل محسن ہے اور اس نے ہردو صنف کی اس فطرت اور جبلت کے عین مطابق احکامات دیے ہیں، جن پر عمل کرکے ہی معاشرہ خیر وفلاح کی منزل پاسکتا ہے۔

غرض اسلام نے عورت کو سب سے پہلے تو  بہ حیثیت فرد کے سماج میں مرد کے برابر مقام عطا کیا ،پھر رشتوں کے حوالے سے بھی اسے تقدس مآب  بنایا کہیں بیٹی کو آنکھوں کی ٹھنڈک اور بیوی اور شوہر کو باہمی الفت ومحبت کی ڈور میں باندھ کر ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم كرديا  ۔ عورت شيشے كى مانند شفاف  اور نازك ہوتى ہيں، رسولِ اكرم نے ان كے ساتھ شيشے ہى كى طرح پيش آنے كى وصيت دى ہے ، كيونكہ  وه آسانى سے ٹوٹ تو سكتى ہيں ، ليكن اس كا شفاف .. نازك   اور مفيد وجود كا كوئى ثانى بهى نہيں.

 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.