قرآن پاک کو جلانا نفرت کے جذبات کو ہوا دیتا ہے اور بین المذاہب مکالمہ کے نتائج کو نقصان پہنچاتا ہے

  • | جمعرات, 3 ستمبر, 2020
قرآن پاک کو جلانا نفرت کے جذبات کو ہوا دیتا ہے اور بین المذاہب مکالمہ کے نتائج کو نقصان پہنچاتا ہے

قرآن پاك کو جلانے كى جرات ركهنے والے مجرموں كو يہ اچهى طرح جان لينا چاہيےکہ یہ جرائم ہر معیار سے وحشیانہ دہشت گردی ہیں ، یہ ایک ايسى نفرت انگیز نسل پرستی اور دہشت گردى  ہے جس كو تمام انسانی تہذیبیں رد كرتى ہیں ، بلکہ يہى اعمال ہى  دنيا بهر ميں ہونے والى دہشت گردی کا ایندھن ہيں جس سے   مشرق اور مغرب كے رہنے والے تمام لوگ تكليف اٹهارہے ہيں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ گھناؤنے جرائم نفرت اور كراہيت کے جذبات کو جنم دیتے ہیں ، معاشروں کی سلامتی کو مجروح کرتے ہیں ، اور بين  المذاہب اور بين المسالك مکالمے  كى تمام اميدوں پر پانى پهير ديتے ہيں ۔
انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ قرآن مجيد  کو جلانے سے دنیا بھر كے تقریبا دو ارب مسلمانوں کے جذبات كو آگ لگى ہے ۔انسانی تاریخ ان جرائم کو انسانيت كى ذلت اور رسوائى کے صفحات پر درج کرے گی۔
 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.