جہاد كے معانى

  • | جمعرات, 5 نومبر, 2020
جہاد كے معانى

 

جہاد کو  دراصل مسلسل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس کی درجِ ذیل اقسام ہیں :
1۔ جہاد بالعلم
2۔ جہاد بالمال
3۔ جہاد بالعمل
4۔ جہادبالنفس
5۔ جہاد بالقتال
 اسلام ميں جہاد  بالنفس يا  جہاد بالقتال " فرض كفايہ"  ہے ـ اور اس فريضہ كو  كسى ملك كا مسلم حكمران انجام   ديتا ہے نہ كہ افراد اور جماعتيںـ مگر مسلم ملک پر جارحيت كى صورت ميں ہر صاحب استطاعت پرجہاد  "فرض عين"  ہو تا ہے.
 جہاد كا مقصد لوگوں كو اسلام ميں داخل ہونے پر مجبور كرنا نہيں. جيسا كہ ارشاد بارى ہے : ﴿لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ﴾ (البقرة 256 ،) ترجمہ : "دین میں کوئی زبردستی نہیں، بيشك ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے " . بلكہ جہاد كا مقصد تو صرف لوگوں كو دعوت اسلام دينا ہے انہيں اس پر مجبور كرنا نہيں . اگر پرأمن طريقے سے لوگوں كو دعوت اسلام دينا ممكن ہو تو لوگوں كو  جبرا مسلمان كرنے كے لئےجنگ كى ضرورت نہيں . مسلمان پر واجب ہے كہ وه اپنى استطاعت كے مطابق نيكى كا حكم دے اور برائى سے منع كرے اور كسى بهى آدمى خواه وه مسلم ہو يا غير مسلم كے ناحق قتل كى مذمت كرے كيونكہ انسانى جان كا احترام اسلام كا اعلى مقصد ہے . نبى كريم ـ صلى االله عليه وسلم ـ نے فرمايا : «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لاَ يُحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ بِمِلْءِ كَفِّهِ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ فَلْيَفْعَلْ » (صحيح بخاري 7152 ،)  ترجمہ : "جو شخص يہ قدرت ركهتا ہو كہ اس كے ہتهيلى بهر خون بہانے كى وجہ سے، اسكے اور جنت كے درميان كوئى چيز حائل نہ  ہو تو اسے چاہئے كہ وہ ايسا كرے ". ارشاد بارى ہے: ﴿وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ﴾ (البقرہ 190 )  ترجمہ : "اور الله کی راہ ميں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہيں مگر حد سے نہ بڑھو ".
اسلام  ايك عالمی  پيغام  ہے اورجہاں تک اسلام کی نشر و اشاعت کا تعلق ہے تو اسکيلئے کئی وسائل ہيں ، اسکے لئے سفر کی ضرورت نہيں اور نہ ہی راستے کے خطرات کا کوئی خوف ہے ، آج  تو مختلف اولر متنوع  قسم كے ذرائع ابلاغ سرحدوں کو پار کر رہے ہيں .چنانچہ لوگ اپنے گھروں ميں بيٹھے ہوئے معلومات حاصل کر سكتے ہيں ۔ اقتدار انہيں نہيں روک سکتا اور نہ سر حديں اور دروازے اسکی راہ ميں حائل ہوتے ہيں. اسلامی دعوت  كو كسى پر مسلط نہيں كيا جاسكتا  اور نہ ہى  عقائد کبھی زبردستی نہيں ٹھونسے گئے  ہيں .الله تعالی  حضرت نوح کے سلسلے ميں فرماتا ہے: ﴿أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ﴾ (ھود28 )ترجمہ:" کيا ہم اسے تم پر جبرا مسلط کر سکتے ہيں درآن حاليكہ تم اسے نا پسند کرتے ہو" حضرت محمد مصطفی ـصلی االله عليہ وسلم سے الله تعالی فرماتا ہے : ﴿أَفَأَنْتَ تُكرهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ﴾ ( يونس 99 ) ترجمہ:"تو کيا آپ لوگوں پر جبر کريں گے يہاں تک کہ وہ مومن ہو جائيں " جب حضور نبی کريم نے حضرت علی کرم الله وجھہ کو خيبر کے يہوديوں سے لڑنے کے لئے بھيجا تو آپ – صلی االله عليہ و سلم – نے ارشاد فرمايا : کيا تم ان سے لڑوگے يہاں تک کہ وہ ہماری مانند ہو جائيں ؟ يعنی کيا تم انہيں اسلام پر مجبور کروگے!؟ چنانچہ آپ – صلی االله عليہ و سلم – نے ان سے فرمايا : انفذ علی رسلک ...... ۔ اس حديث شريف کا مفہوم ہے  كہ تم اپنی اونٹی پر  بيٹھ جاؤ جب انکے علاقے ميں پہنچو تو انہيں اسلام کی دعوت دو اور انہيں االله تعالی کے حق سے اگاہ کرو خدا کی قسم الله رب العزت تمھارے ذريعے ايک شخص کو بھی ہدايت دے دے تو اس سے بہتر ہے کہ تمھارے ليئے عمدہ چنے ہوئے اونٹ ہوں( امام مسلم). اگر ايسی نصوص وارد ہوئيں جو بظاہر قتال کے مطلق حکم پر دلالت كرتی ہيں تو ايسی نصوص بھی ہيں جو اس حکم کو محدود کرتی ہيں جن ميں وقوع پذير جارحيت کا رد يا معاہدے کی خلاف ورزی کی جزاء يا مستقبل ميں ہونے والی جارحيت کو روکنے جيسی صورتيں ہيں. چنانچہ الله تعالی کے اس قول سے بھی امر مطلق محدود ہوتا ہے: " وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً  (التوبة 36 ) ترجمہ: اور تم (بھی) تمام مشرکين سےاس طرح (جوابی) جنگ کيا کرو جس طرح وہ سب کے سب (اكٹھے ہو کر) تم سے جنگ کرتے ہيں. مسلمان ہةنے كےناطےہمارا فرض ہے كہ ہم  اپنے دين كى حقيقى تعليمات سے اچهى طرح روشناس ہوں. مسلمان  نہ صرف ہو كر بلكہ بن كر دكهائيں، اور يقينا اسلام كى حقيقى صورت اتنى جميل ہے كہ وه ہر ذى عقل اور ہر ذى شعور كو اپنى طرف مائل كر سكے .   
 
Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.