كيا غير مسلمانوں سے دوستى ركهنا گناه ہے؟؟

  • | جمعرات, 12 نومبر, 2020
كيا غير مسلمانوں سے دوستى ركهنا گناه ہے؟؟

 

 
غير مسلمانوں كے ساتھ معاملات ميں كبهى كبهى ہمارے  ذہن ميں كئى سوال نمودار ہوسكتے ہيں ، جيسے كہ  دوستی اور عدم تعلقی کس کيلئے ہو !؟ اور کفار سے دوستی کا کيا حکم ہے!؟كچھ لوگوںكا كہنا ہے كہ  کافروں سے ايسی دوستی جسکی وجہ سے اس شخص (دوست کی) کی تکفير کی جاتی ہے، وہ در حقيقت کافروں کيلئے اسکی محبت اور اسکی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنے كے مترادف ہے ، اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان سے سخت نفرت کرے. ان سے عداوت رکھے اور ان سے بيزار رہے(علمی تحقيقات کی دائمی کميٹی اور افتاء ج 2 / 47) ليكن كيا يہ بات صحيح ہے!؟ كيا  اس قسم كى سوچ ركهنے والے ﴿ وقولوا للناس حسنى﴾ (البقرة:83) جيسى آيت كى خلاف ورزى تو نہيں كررہے!؟ الله رب العزت نے اس آيت كريمہ ميں تمام لوگوں كو اچهى بات اور اچهے طريقہ سے بات كرنے كا حكم ديا ہے،صرف مسلمانوں كےساتھ نہيں. دنيا بهر ميں بہت سےمسلمان  غير مسلم معاشروں ميں ره رہے ہيں. وہاں  كام يا  كاروبار كر رہے ہيں، ان كے اسكولوں اور يونيورسٹيوں ميں تعليم حاصل كررہے ہيں، وہاں كى زمين كے خيرات سے فائده اٹها رہے ہيں.. تو كيا ان معاشروں كے غير مسلم افراد سے معاملات كرنا گناه ہوگا؟ ان سے اچهى طرح بات كرنا ، ان كو سلام كرنا حرام ہوگا؟ اور يہى سوال مسلم معاشروں ميں غير مسلم افراد كے ساتھ  معاملات ميں بهى اٹهتا ہے..
قرآن كريم نے  دراصل  اہلِ كتاب  كے ساتھ معاملات كرنے، رہنے سہنے، كهانے پينے اور انکے ساتھ شادی بياہ کی اجازت دی ہے، ان (شادی) کے لوازمات ميں شوہر اور بيوی کے درميان محبت، جذبۂ مامتا، اور اسکے مسلم بيٹے پر اس (ماں) کے يقينی حقوق ہيں . 
قرآن پاك  كى بہت سى آيات کريمہ غير مسلموں کے ساتھـ معاملات کرنے کی اجازت ديتی ہيں . جيسا کہ االله رب العزت کا يہ ارشاد ہے : ﴿لا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّـذِينَ لَـمْ يُقَـاتِلُوكُمْ فِـي الـدِّينِ وَلَـمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (8)إِنَّمَا يَنْهَاكُمْ اللَّـهُ عَـنْ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَـارِكُمْ وَظَـاهَرُوا عَلَـى إِخْـرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّـوْهُمْ وَمَـنْ يَتَـوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ﴾ (الممتحنة 9-8 )، ترجمہ: الله تمھيں اس بات سے منع نہيں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دين (کے بارے) ميں جنگ نہيں کی اور نہ تمھيں تمھارے گھروں سے (يعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور ان سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بے شک الله عدل وانصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے . الله تو محض تمھيں ايسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دين (کے بارے) ميں جنگ اور تمھيں تمہارے گھروں (يعنی وطن) سے نکالا اور تمھارے باہر نکالے جانے پر (تمھارے دشمنوں کی) مدد کی ۔ اور جو شخص ان سے دوستی کريگا تو وہی لوگ ظالم ہيں ۔ 
حضور نبى كريم  صلى الله عليه وسلم  غير مسلموں کے ساتھ معاملات کرتے تھے امام بخاری نے حضرت انس ـ رضی الله عنہ ـ سے روايت کی ہے كہ انہوں نے کہا: ايک يہودی غلام نبی پاک ـ صلی الله عليہ وسلم ـ کی خدمت کيا کرتا تھا ـ جب وہ بيمار ہوا تو رسول کريم ـ صلی الله عليہ وسلم ـ اسکی عيادت کيلئے تشريف لے گئے . ام المؤمنين حضرت عائشہ صديقہ ـ رضی الله عنھا ـ سے مروی ہے کہ رسول الله ـ صلی الله عليہ و سلم – نے ايک يہودی سے قرض پرکھانا خريدا اور اسکے پاس اپنی ذرہ بطور رہن رکھی . (فتاوی الازہر. نمبر 10 ۔ ص 69 ۔ فضيلہ الشيخ عطيہ صقر ۔ مئی 1997 ۔ القرآن و السنہ)
 حضرت جابر بن عبدالله  رضى الله عنہ سے مروى ہے كہ ہمارے پاس سے ايک جنازہ گزرا حضور نبى كريم  صلى الله عليه وسلم اس كيلئے كهڑے ہوگئے اور ہم بهى انكے ساتھ كهڑے ہوگئے، ہم نے عرض كى يا  رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ يہ يہودى كا جنازہ ہے، آپ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نے فرمايا: "جب تم جنازہ ديكهو تو كهڑے ہوجايا كرو " ان نصوص (قرآن و احاديث) اور حوادث کے علاوہ ايسے واقعات بھی ہيں جن ميں ہے كہ صحابہ كرام غير مسلموں کے ساتھ معاملات کرتے تھے۔ان كے ساتھ ساتھ ايسى آيات بهى ہيں جو غير مسلموں كے ساتھ معاملات كو مقيد كرتى ہيں جيسا كر ارشاد بارى ہے : ﴿لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَـوْمِ الآخِـرِ يُـوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ﴾ (المجادلة 22 )  ترجمہ: آپ ان لوگوں کو  جوالله پر اور يوم آخرت پر ايمان رکھتے ہيں کہيں  اس شخص سے دوستی کرتے ہوتے نہ پائيں گے جو الله اور اسکے رسول ـ صلی االله عليہ و سلم ـ سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ انکے باپ (اور دادا) ہوں يا بيٹے (اور پوتے) ہوں يا انکے بھائی ہوں يا انکے قريبی رشتہ دار ہوں ۔ 
ايک اور مقام پر  فرمايا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَـاءَ تُلْقُـونَ إِلَـيْهِمْ بِـالْمَوَدَّةِ﴾(الممتحنة :1) ترجمہ: اے ايماں والو ! تم ميرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم (اپنى) دوستی کے باعث ان تک خبريں پہنچاتے رہو۔ 
ان اجازت دينے اور ممانعت کرنے والی آيات کريمہ ميں مطابقت لانے کيلئے علماء کرام کا کہنا ہے کہ قطعی ممانعت در حقيقت غير مسلموں کے عقائد اور قوانين کو پسند کرنے کی صورت ميں ہے،  اسی طرح مسلمانوں كے خلاف ان سے دوستی اور انكى مدد بھی ہے  ۔ ان دونوں امور سے روکنے ميں جنگ کرنے والے اور جنگ نہ کرنے والے کفار دونوں شامل ہيں۔ جہاں تک ايسے ظاہری معاملات جو کہ پسنديدگی اور دوستی کے بغير ہوں تو ان سےمعاملات کرنے ميں کوئی ممانعت نہيں. قرآن کريم نے اہلِ کتاب کے کھانوں اور انکے ساتھـ شادی بياہ کی اجازت دی ہے، ان (شادى) کے لوازمات ميں شوہر اور بيوی کے درميان محبت ، جذبۂ مامتا، اور اسکے مسلم بيٹے پر اس (ماں) کے يقينی حقوق ہيں ۔
غرضيكہ حالت جنگ ميں (مسلمانوں كيلئے) غير مسلوں سے دوستى حرام ہے اور يہى آيات قرآنيہ كے اسباب نزول كى تحقيق سے ثابت ہوتا ہے اور سيرت نبوى كے تمام واقعات بهى اسى كى تائيد كرتے ہيں،  اور يہ بهى ثابت ہے كہ نبى كريم ـ صلى الله عليه وسلم- نے يہوديوں اور مشركين سے معاہدے كئے تهے اور يہوديوں كے ساتھ معاہدے ميں ہر بيرونى دشمن كے ساتھ جنگ ميں تعاون پر اتفاق ہوا تها اور يہ دوستى كى ہى قسم ہے ليكن يہ )دوستى) مسلمانوں كے خلاف نہيں ہے جبكہ (ان سے) لاتعلقى كا مفہوم يہ ہے كہ مسلمان ہر غير مسلم عقيدے سے لا تعلقى اور دستبردارى كا اظہار كريں،ليكن يہ لاتعلقى غيرمسلمانوں  كے ساتھ   اچهے انداز ميں رہنے سے منع نہيں كرتى. جيسا کہ االله رب العزت کا يہ ارشاد ہے: ﴿لا يَنْهَـاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَـارِكُمْ أَنْ تَبَـرُّوهُمْ وَتُقْـسِطُوا إِلَـيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (8)إِنَّمَا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَـاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّـالِمُونَ﴾ (الممتحنـة 9-8) ، ترجمہ: الله تمھيں اس بات سے منع نہيں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دين (کے بارے) ميں جنگ نہيں کی اور نہ اور اسکے بعدتمھيں تمھارے گھروں سے (يعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور ان سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو ، بے شک  الله عدل وانصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ الله تو محض تمھيں ايسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دين (کے بارے) ميں جنگ كى اور تمھيں تمھارے گھروں (يعنی وطن) سے نکالا اور تمھارے باہر نکالے جانے پر (تمھارے دشمنوں کی) مدد کی ۔ اور جو شخص ان سے دوستی کريگا تو وہی لوگ ظالم ہيں ۔ 
چنانچہ ہر غير اسلامى عقيدے سے لاتعلقى، غير مسلموں كے ساتھ رہائش اختياركرنے كے امكان اورہر اس معاملے ميں جس كى اسلام نے تائيد كى ہے، اس ميں ان سے تعاون كى ممانعت نہيں ہے . پس وه مسلمان جومذہبى اور تہذيبى طور پر مخلوط معاشرے ميں رہائش پذير ہے، اسے معلوم ہونا چاہئے كہ اسلام اسے ترغيب ديتا ہے كہ جس معاشرے ميں وہ رہتا ہے اسكے غير مسلم باشندوں سے حسن ِسلوك اور اچهے تعلقات قائم كرے اور انكا احترام كرنے كے ساتھ ساتھ كسى مسلمان يا غير مسلم شخص كو نقصان پہنچائے بغير نيک كاموں ميں انكى مدد اور معاونت بهى  كرے .. 
ياد ركهئيے کہ رسول کريم – صلی االله عليہ و سلم – مکہ مکرمہ ميں قريش اور بت پرستوں کے سرغنوں ، اور مدينہ منورہ ميں يہوديوں اور مشرکوں سے کس طرح معاملات فرمايا کرتے تھے۔ اب آپ بتائے کيا اچھے اخلاق اور دوسروں کے ساتھ ربط قائم کئے بغير دعوت اسلام دی جا سكتى ہے؟؟!!

  
 

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.