اسلام ميں مساوات

‏(خطبۂ حجۃالوداع كے تناظر ميں)‏

  • 21 فروری 2019
اسلام ميں مساوات

                   مساوات کا مطلب ہے " برابرى"سارے انسانوں کے حقوق برابر ہیں ، ان کا اپنا مقام ہے اور ان کے لیےیکساں مواقع فراہم ہیں،  کوئی شخص اپنے خاندان، قبیلہ، وغیرہ کی وجہ سے الگ نہیں ہے بلکہ سارے لوگ  ایک ہی  ہیں، اسلام لوگوں کے درمیان ان کی نسل، رنگ، لباس، زبان کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں کرتا، اگر فرق کرتا ہے تو بس ان کے تقوی اور پرہیزگاری کے اعتبار سے۔

                  اسلام میں مساوات، نرم مزاجی اور خوش اخلاقی پر بہت زور دیا گیا ہے،اسلام ميں  تمام انسان   برابر كے شريك ہيں، گورے کو کالے پر یا کالے کو گورے پر، امیر کو غریب پر یا غریب کو امیر پر، نہ عرب کو عجمی پر اور نہ عجمی کو عرب پر فوقیت حاصل ہے۔

                    خُطبہ  الوداع میں   انسانی عظمت و اقدار کے منافی تمام پہلووں کو منسو خ کر دیا گیا اور وہ تمام جاہلا نہ رسمیں جو کہ قبل از اسلام انسانیت کے منافی تھیں سب کو مو قوف کردیا گیا اسی لیے یہ خطبہ مکمل طور پر انسانیت کے تحفظ کیلئے بہترین ضابطہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک اچھی زندگی گزارنے کیلئے ایک مکمل ضابطہ حیات اور انسانی عظمت کا منشور ہے.

                    اس خطبۂ ميں  آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: «! لو گو ں! سن لو، زمانہ جاہلیت کے تمام رسم و رواج آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ لو گو ں !تمہارا رب ایک تمہارا باپ آدم ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر ،کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری نہیں ہے ، فضلیت کا معیار صرف تقوی ہے تم سب آدم کی اولاد ہو۔ تم سب پر ایک دوسرے کا خون عزتیں اور مال حرام ہے خبردار ! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ اک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو۔»

                    یہ خطبہ حُریت انسانی کا بین الاقوامی اور بین الا نسانی منشور ہے اس خطبے میں نوع انسانی کو پہلی مرتبہ برابری، مساوات اور مواخات کے زریں اور ابدی اصول فراہم کیے ہیں ،اس خطبے نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دی جو  ذلت، پستی، ظلم، تشدد  اور استحصال کا شکا ر تھے انہیں دوسرے انسانوں کے برابر بیٹھنے کا موقع ملا۔

                     اس کے ساتھ یہ خطبہ اسلام کے معاشرتی نظام کی راسخ بنیا د یں فراہم کر تاہے، معاشرتی مساوات نسلی افتخار و مباہا ت کا خاتمہ عورتوں اور غلاموں کے حقوق غلاموں سے حُسنِ سلوک ایک دوسرے کے جان و مال کا احترام سکھاتا ہے یہی وہ باتیں ہیں جوکہ اسلام کے معاشرتی نظام کی بنیاد یں ہیں جن پر یہ نظام قائم ہے۔

Print

Please login or register to post comments.

 

امن و سلامتی کے عالمی دن کی مناسبت سے الازہر آبزرویٹری: امن و سلامتی انسانیت اور انسانی رشتوں کی اصل بنیاد ہے

      ہر سال اکیس ۲۱ ستمبر کو دنیا بھر میں “امن کا عالمی دن” منایا جاتا ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۹۸۱ میں امن وسلامتی کی اہمیت اور ضرورت پر تاکید کرنے کے لئے منظور کیا تھا۔ قرآن مجید نے دسیوں برس...

روہنگيا مسلمان.... ايك حل طلب بحران

     12 مختلف زبانوں ميں روہنگيا مسلمانوں كے مسئلہ پر ايك بار پهر روشنى ڈالنے كے لئے الازہر آبزرويٹرى برائے انسداد انتہا پسندى  كى جانب سے اس شائع كرده ويڈيو كا ہدف دنيا كے ہر لہجہ ميں برادرى كى انسانى اور سياسى زمہ دارى كو...

قرآن پاک کو جلانا نفرت کے جذبات کو ہوا دیتا ہے اور بین المذاہب مکالمہ کے نتائج کو نقصان پہنچاتا ہے

قرآن پاك کو جلانے كى جرات ركهنے والے مجرموں كو يہ اچهى طرح جان لينا چاہيےکہ یہ جرائم ہر معیار سے وحشیانہ دہشت گردی ہیں ، یہ ایک ايسى نفرت انگیز نسل پرستی اور دہشت گردى  ہے جس كو تمام انسانی تہذیبیں رد كرتى ہیں ، بلکہ يہى اعمال ہى  دنيا...

وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ!! (اور ملك میں خرابی نہ کرنا)

          زندگى ايك نعمت ہے، اس كى حفاظت كے لئے او ر اس كرۂ ارض پر   ايك معزز اور مكرم طريقہ سے رہنے كے لئے الله رب العزت نے كچھ اصول وضوابط مقرر كئے۔ يہ اصول وضوابط الله سبحانہ وتعالى نے اپنے...

245678910Last