اسلام كردار كے زور سے پھيلا ہے ، تلوار كے زور سے نہيں

  • 25 دسمبر 2018
اسلام  كردار كے زور سے  پھيلا  ہے ، تلوار  كے زور سے نہيں

               اسلام امن وسلامتى  كا دين ہے  جو كردار كے زور  سے پھيلا  ہے،تلوار كے زور نہيں. دوسرے  لفظوں ميں كہا جا سكتا ہے كہ  يہ دين جب رسولِ اكرم پر نازل ہوا اور آپ نے اس كى تبليغ شروع كى تو آپ نے  كسى كو زبردستى  اس پر ايمان لانے كو نہيں كہا بلكہ  حضور اكرم ص نے كفار ومشركين كو ايمان  كى دعوت ديتے  ہوئے  اپنے كردار كو پيش  كيا  تھا، قرآن حكيم ميں  ہے: "فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ" (میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں ) (يونس: 16)۔

              لوگوں ميں عمر گزارنا  سيرت  وكردار  كاپتا   ديتا ہے، حضور نبى اكرم ؐ صادق اور امين  جانے جاتے تھے اور كفار  ومشركين  كو حضور نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كے حسن اخلاق اور  كردار  كا  اس حد تك اعتراف  تھا  كہ بت پرستى  پر قائم رہنے   كے عوض  وہ   آپ كى  سارى  باتيں ماننے پر تيار  تھے،  جب وہ اس پر سمجھوتہ  نہ  كرنے  كے حوالے سے   مكمل  طور پر مايوس ہو گئے  تو انہوں نے مسلمانوں  پر  ظلم وستم  كى انتہا كردى ، حضور نبى اكرم صلى الله عليه وسلم  كى بار گاه  ميں   مسمان حاضر ہوتے  تو كوئى  زخمى   حالت ميں  ہوتا ،  كسى كو كوڑوں  سے  مار ا گيا  ہوتا ، تو كسى كو تپتى ريت  پر  گھسيٹا  گيا  ہوتا،  يہ درد ناك  صورت حال  ديكھ  كر حضور نبى ؐ صحابہ  كو صبر  كى تلقين  فرماتے۔

               بيعت عقبہ  اولى  كے موقعہ پر  حضور نبى اكرم  صلى اللہ عليه وسلم  نے حضرت مصعب  بن عمير  رضى اللہ عنہ  كو مدينہ روانہ فرمايا،  ان كى دعوت اس قدر پر  اثر ثابت  ہوئى  كہ اگلے سال حضرت مصعب  (75) مسلمانوں كو  بيعت عقبہ ثانيہ  كے لئے  مكہ  لے آئے ، سركار دو عالم  ؐنے آپ كے  ہمراه ( 12) انصار صحابہ كو نقبا ء  مقرر فرما  كر مدينہ  رخصت كيا، اور جب ہجرت مدينہ  ہوئى  تو مدينہ كے لوگوں  كى غالب  اكثريت اس  حال ميں مسلمان ہوچكى  تھى كہ  نہ تلوار اٹھائى گئ اور نہ  ہى  اذن قتال  نازل   ہوا تھا۔

               قرآنى تعليمات  اور حضور نبى اكرم ؐ  كى (63)سالہ انقلابى  جد وجہد  سے يہ حقيقت واضح ہو جاتى ہے  كہ آپ ؐ كى حيات طيبہ  ميں جتنے بھى معركے ہوئے ، ان ميں  كسى كو  زبردستى  مسلمان  بنانے  كى ايك  بھى مثال  نہيں ملتى،  اگرچہ ضرورت  كے وقت  دفعِ شر اور  فتنہ وفساد  كو  روكنے  كے لئے   جنگ  ميں  پہل  كى گئى ، ليكن زياده تر  معركوں   كى نوعيت  دفاعى رہى، تاريخ ہميں بتاتى ہے كہ جب بھى  مخالفين نے سر ِ تسليم  خم كيا  يا راه ِ فرار  اختيار كى ،  صلح كے  لئے  ہاتھ   بڑھايا   يا  ہتھيار   ڈال  دئيے ،   تو پھر مسلمانوں  نے  بھى  ان پر ہتھيار  نہ اٹھائے ، اسلام ميں جنگ  محض برائے جنگ نہيں  بلكہ قيام امن   كا ذريعہ ہے ، محمد بن القاسم سے  سندھ  دار السلام بن گيا ، يہ محض مسلمانوں كے كردار اور ان كے ثقافتى غلبہ  كا اثر  تھا  كہ  غير مسلم  حلقہ بگوش  اسلام ہوتے  گئے  اور دنيا ميں  ہر طرف  اسلام  كا ڈنكا   بجنے  لگا. ايك حقيقى مسلمان بننے كے لئے نہ صرف اسلام  بلكہ ايمان لانا ضرورى ہوتا ہے ، اور ايمان كا مركز دل ہے  اور دل ميں كوئى بهى جذبہ  زبردستى نہيں بستا . دلوں ميں ايمان اور عقلوں پر اسلام كى حكمرانى اسى وقت ہوگى جب الله  رب العزت كى طرف سے نازل شده اس عظيم دين كى صحيح  طرح تبليغ ہو، اور جو يقينا تلوار اور جنگ كے زور سے ہرگز نہيں ہوگا.  فرمانِ الہى ہے "ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ" ((اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔) (سورۂ نحل: 125)

              ہم مسلمانوں كو  مسلمان ہونےپر فخر ہے .. " الحمدلله على نعمة الإسلام" ( اسلام كى نعمت پر الله كا شكريہ)، ايك مسلمان گهر ميں پيدا كركے الله رب العزت نے ہم پر ايك عظيم احسان كيا ہے ، دنيا ميں بہت سے لوگ  اس نعمت سے صرف اسى لئے محروم ہيں كہ وه ايك مسلمان ماں باپ كى اولاد نہيں ہيں، اور ان غير مسلمانوں  ميں بہت سے ايسے بهى ہيں جو اسلام كى تعليمات سے متاثر ہوتے ہيں، ان كو اس دين ميں نجات كى راه نظر آتى ہے ، اور وه ايسے مسلمانوں كى تلاش  ميں ہوتے ہيں جو ان كا ہاتھ پكڑ كر آہستہ آ ہستہ انہيں آگے لا سكے. .. جو انہيں يقين دلائے كہ اسلام لانے كا مطلب دين اور دنيا ميں سرفراز ہونا ہے.. جو ان كو بتائے كہ حقيقى مسلمان وه ہے جو اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسروں كو محفوظ ركهے .. جو صرف " نام" كا نہيں بلكہ " كام" كا مسلمان ہو...  قرآن مجيد كى تعليمات اور رسولِ اكرم كے  نيك افعال اور اخلاقِ حسنہ كى پيروى  كركے  ہى  ہم اسلام كى   تبليغ كرنے ميں كامياب ہوں گے. اسلام كردار كے زور سے پهيلتا ہے .... تلوار كے زور سے نہيں ۔

Print

Please login or register to post comments.

 

نئى تاريخى دستاويز ات ... فلسطينى عوام كے خلاف قابض صہيونى جرائم كى گواه

صہيونى  اخبار"ہارٹس" نے   اپنے  گزشتہ ہفتہ وارضميمہ ميں   چند  تاريخى دستاويزات كے حوالے سے ايك رپورٹ  شائع كى،   يہ  دستاويزات- 1948ء سے  فلسطينى   زمين پر...

كهيل... تعارف اور ہم آہنگى

     مرصد الازہر برائے انسدادِ انتہا پسندى  نے  مصر ميں منعقد ہونے والے افريكان ورلڈ كپ كى مناسبت سے "كهيل ... تعارف اور ہم آہنگى" كے نام سے آج صبح ايك آگاہى  مہم  كا آغاز كيا،  جو 12 زبانوں...

انسانيت كے نام ايك دستاويز

     "انسانى بهائى چاره (اخوت) كى دستاويز" كہہ ديں يا "انسانيت كى  دستاويز"، شيخ الازہر اور وٹيكن كے پوپ نے چند مہينوں پہلے  فرورى ميں ايك عالمى اور تاريخى دستاويز پر دستخط كى، جس كا مقصد دنيا...

نیوزی لینڈ كى مسجد ميں نمازيوں پر خوفناك دہشتگردانہ حملے كے بارے ميں فضيلتِ مآب شيخ الازہرڈاكٹر احمد الطيب كا بيان

نمازِ جمہ كے دوران نيوزيلينڈ كے  كرائسٹ چرچ ميں ايك  مسجد پر  دہشت گرد حملہ   كى خبروں كو ميں نہايت  غم واداسى سے ديكھ رہا ہوں،جس كے نتيجہ ميں   پچاس افراد ہلا ك اور  اتنى ہى تعداد ميں  لوگ زخمى...

123456810Last

شاہ بحرین کے استقبال کے دوران : ہم بحرینی قوم کی یکجہتی اور اس کی استقلالیت کی تایید کرتے ہیں اور اس کے اندرونی مسائل میں دخل اندازی نہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
جمعرات, 28 اپریل, 2016
شاہ بحرین : حقیقی اسلامی ثقافت کی حفاظت کے لۓ ازہر شریف کے کردار کی اہمیت کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ آج فضیلت مآب امام اکبر نے شاہ بحرین "حمدین عيسى آل خلیفہ" اور ان کی رفقت میں موجود وفد کا استقبال کیا جو آج کل قاہرہ کے دورے پر ہیں۔...
امام اکبر کے مونستر شہر میں تاریخی ہال "السلام" کے دورے کے دوران: "معاشروں کے مابین امن وامان، انٹر ریلجس ڈائیلاگ سے شروع ہوتا ہے"
جمعرات, 17 مارچ, 2016
جرمن شہر مونستر کے میئر کی دعوت پر فضیلت امام اکبر شیخ ازہر اور مسلم علماء کونسل کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب  نے  تاریخی "السلام" ہال کا دورہ کیا جس میں 1648ء میں عقائدی جنگ کو ختم کرنے کے لۓ امن وسلام کے معاہدے پر...
مونسٹر یونیورسٹی میں امام اکبر کا خیر مقدم..
جمعرات, 17 مارچ, 2016
امام اکبر کچھ دیر بعد "مذاہب میں امن وامان کی بنیادیں" کے عنوان سے ایک تقریر پیش کریں گے۔ فضیلت امام اکبر شیخ ازہر اور مسلم علماء کونسل کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب  "مذاہب میں امن وامان کی بنیادیں" کے عنوان سے ایک...
First45679111213

مذہب كى آزادى كا حق
آزادى كا مطلب:  آزادى      ايك ايسى اصطلاح ہے جس كو بہت سے معنوں ميں استعمال  كيا جاتا ہے ليكن  اگر ہم...
بدھ, 20 نومبر, 2019
علما كے حقوق اورفرائض
بدھ, 9 اکتوبر, 2019
قرآن ميں عورت
منگل, 8 اکتوبر, 2019
1345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
1345678910Last