امانت؛ جنت كى ايك راه

  • 29 اگست 2017
امانت؛ جنت كى ايك راه

ہماری انفرادى اور اجتماعي زندگى ميں امانت كو بہت اہميت حاصل ہے اور اسلام نے اس كا بہت زياده اہتمام كيا ہے، يہاں تک كہ اسے دين كا متبادل اور ايمان كى علامت قرار ديا ہے، مطلب يہ ہوا كہ امانت كا نہ پايا جانا ايمان كے نہ پائے جانے كى علامت ہے اور اس ميں تعجب كى كوئى بات نہیں ہے، كيوںكہ امانت کا  لفظ "ايمان" اور "امن"  سے مشتق ہے، اس مفہوم ميں نبى صل الله عليه وسلم كى حديث ہے: "خبر دار اس شخص كا كوئى دين نہیں جس ميں امانت نہ ہو، گرچہ وہ روزه ركهتا اور نماز پڑهتا ہو"-

جب امانت اور دين دونوں لازم وملزوم ہیں جيسا كہ ہم نے پہلے اشاره كيا ہے، تو امانت ميں خيانت كرنا منافق كى علامت ہے، جيسا كہ حديث نبوى ميں جب منافق كى طرف اشاره كيا گيا تو اس بات كى جانب بهى اشاره كيا گيا ہے، "جب اس كے پاس امانت ركهى جاتى ہے تو خيانت كرتا ہے". امانت ميں خيانت كے ساتهـ دوسرى بہت سى برائياں شامل ہو جاتى ہیں جو انسان كى قدر وقيمت نہ صرف الله تعالى كے سامنے بلكہ اپنے اور دوسروں كے سامنے بهى گراديتى ہے-

 

امانت كى متعدد صورتيں ہيں، جو زندگى كے تمام پہلووں كو شامل ہے، ان ميں سر فہرست وه امانت ہے جسے انسان نے اپنے نفس كے ليے اختيار كى ہے، اور وہ ہے اس وجود ميں الله تعالى كى جانب سے دى گئى ذمہ داريوں كو پورا كرنا -

امانت كى بہت سى شكليں ہیں جن كا احاطہ مشكل ہے، ان ميں سے بعض كو مثال كے طور پر بيان كيا جاتا ہے: مال كى امانت، عزت وآبرو كى امانت، دينى تعليم اور اس كے شعائر كى امانت، دينى تعليم اور اس كے شعائر كى امانت، رازوں كے حفاظت كى امانت، خاندان كى ديکھ بهال كى امانت، ماحول كو محفوظ رکھنے كى امانت، صحت كو نقصان سے بچانے اور زندگى كو خطره سے محفوظ ركهنے كى امانت، عقل كو ہر صورت بے ہوشي سے بچانے كى امانت، وطن كے امن وامان كو خطروں سے محفوظ ركهنے كى امانت، وغيره، يہ تمام امانتيں ہیں جن كے بارے ميں قيامت كے دن انسان سے سوال كيا جائے گا-

امانت كى ديگر صورتوں كو چار دائروں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے:

فردى امانت: جس كا تعلق فرد كى ذات اور اس كے اندرون سے ہے.

معاشرتى اور اجتماعى امانت: اس كا تعلق انسان اور دوسروں سے ہوتا ہے خواه قريبى ہوں يادور كے.

دينى امانت: جس كا تعلق انسان اور الله تعالى كے مابين ہوتا ہے.

عام امانت: جس كا تعلق انسان اور اس كائنات كے مابين ہوتا ہے، اس ميں جاندار اور بے جان چیزیں دونوں شامل ہیں، يہ تمام امانتيں ايک ساتھ مل كر مكمل ہوتى ہیں، آپس ميں ان کا کوئی تعارض نہیں.

اسلام نے امانت كو ايک مركزى حيثيت اور فضيلت سے نوازا ہے، اس حد تک كہ قيامت كا آنا اور دنيا كا فنا ہونا اس دنيا ميں امانت كى پاسدارى اور اسے پورا كرنے پر منحصر ہے، اس لئے رسول الله صل الله عليه وسلم نے فرمايا: "جب امانت ضائع ہوجائے تو قيامت كا انتظار كرو"-

مطلب يہ ہے كہ امانت كا ضائع ہونا قيامت اور دنيا كے فنا ہونے كى علامت ہے، اس سے ہمیں اس اقدار كى اہميت كا اندازه ہوتا ہے، جو ہمارى زندگى كے ہر معاملہ کا جز لا ینفک ہیں چاہے چهوٹے ہوں يا بڑے، فردى ہوں يا معاشرتى، دينى ہوں يا دنياوى اور ان سب سے با خبر ہونا ہميں امانت كى ذمہ دارى نبهانے پر مزيد ابهارتى ہے اور اسے آنے والى نسلوں كے دلوں ميں مزید اجاگر کرنے پر آماده كرتى ہے، يہ دين كا جوہر اور اخلاق كا مركز ہے اور اس كى حفاظت كا مطلب ہر اچهى خصلت وفضيلت كى حفاظت ہے، يعنى زندگى كے استمرار اور سلوک كى استقامت كى حفاظت ، اور حق وخير كى قيمت اور جمال ورعنائى كو ہر جگہ پهيلانا ہے.

Print

Please login or register to post comments.

 

فضيلتِ مآب امامِ اكبر شيخ الازہر پروفيسر ڈاكٹر احمد الطيب كا "اوراسیا" یونیورسٹی ميں خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبارک علیہ و علی آلہ و صحبہ ۔۔۔وبعد۔ عزت مآب پروفیسر ڈاکٹر یارلان باتا شیفیتش سیدیکون۔ صدر جومیلویف اوراسیہ نیشنل یونیورسٹی تعلیمی سٹاف کے معزز...

باطنى جہاد يا ظاہرى جہاد!!‏

              الله تعالى نے  مسلمانوں  كو دو  قسم كے جہادوں كى اطلاع دى ہے۔ ايك ظاہرى اور ايك باطنى، باطنى جہاد  سے مراد نفس وخواہش، انسانى  طبيعت اور شيطان سے لڑنا ، معصيتوں اور لغزشوں...

علم كى قيمت

           عوام ميں مشہور ہے كہ "علم نور ہے" اور يہ تعبير بالكل درست ہے كيونكہ علم عقل وفكر كى تاريكى كو زائل كرتا ہے، ايسى تاريكى جس كے باعث وه حقائق كو ديكهنے سے قاصر ہوتا ہے، فطرى ذہانت سے قطع نظر جہالت...

وقت كى قيمت

بلا شبہ وقت ايک بنيادى تہذيبى قدروقيمت ہے. ہمارے دين نے اس كے بارے ميں خبر دار كيا ہے اور ہمیں اس كى پابندى اور اچهے استعمال پر ابهارا ہے الله تعالى نے قرآن كى بہت سى آيتوں ميں وقت كى قسم كهائى ہے جس سے انسان كى زندگى ميں اس كى قيمت كا اندازه...

First45679111213Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
245678910Last

اشیاء میں اصل "جواز" ہے
         اشیاء میں اصل جواز ( اس كا جائز ہونا) ہے. ايك مشہور فقہى قاعده ہے كہ "الأصل في الأشياء الإباحة "، اس...
جمعه, 20 ستمبر, 2019
يتيموں كے حقوق
جمعرات, 19 ستمبر, 2019
فريضۂ حج
پير, 2 ستمبر, 2019
اولاد كے حقوق
پير, 2 ستمبر, 2019
245678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
245678910Last