بیت المقدس اور الازہر الشریف ‏

  • 28 جنوری 2018
بیت المقدس اور الازہر الشریف ‏

"میری تجویز ہے کہ 2018ء کو قدس شریف کا سال قرار دیا جاۓ، جس میں بیت المقدس کے تعارف، اہلِ قدس کی مادی و معنوی حمایت اور اس سے متعلق  دعوتى اور ثقافتی سرگرمیوں کو مسلسل فروغ دیا جاۓ۔"

- فضیلت مآب امام اکبر شیخ الازہر احمد الطیب -

 

اسلام میں بیت المقدس کو ایک خاص مقام حاصل ہے، مسجد اقصى كو مسلمانوں كے قبلۂ اول ہونے كى حيثيت حاصل ہے، یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومعراج کے لیے مسجد حرام سے مسجد اقصی لے جايا گيا تھا اور جس کا ذکر اللہ تعالی نے اس آیت میں کچھ اس طرح فرمایا ہے" پاک ہے وہ اللہ تعالی جواپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گيا" (سورہ اسرا: 1)   یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ براء رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی ۔ معروف ومعلوم بھی ہےکہ وہ جگہ محبط وحی اور انبیائے کرام کا وطن ہے ۔ اس کے علاوہ بیت المقدس ان مساجد میں سے ہے جن کی طرف سفرکرنا جائز ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(تین مساجد کے علاوہ کسی اور کی طرف سفر نہیں کیا جاسکتا ، مسجد حرام ، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، اورمسجداقصی )

یہ ایک پاک اور با برکت زمین ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جتنے انبیا اور اولیا اس کی مٹی ميں دفن ہوئے ہیں وہ اس روئے زمیں پر کہيں اور دفن نہیں ہوئے، اسی علاقہ کواللہ تعالی نےموسی علیہ السلام کی زبان سے مقدس کا وصف دیا ، فرمان باری تعالی ہے :

{اے میری قوم اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالی نے تمہارے نام لکھ دی ہے } المائدۃ ( 21 ) ۔

ابوذررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا مسجد نبوی افضل ہے یا کہ بیت المقدس ؟ تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :" میری مسجد میں نماز وہاں ( بیت المقدس ) کی چار نمازوں سے افضل ہے اوروہ نمازی بھی بہت ہی اچھا ہے ، ایک وقت آۓ گا کہ کسی آدمی کے پاس اس کے گھوڑے کی رسی جتنی زمین کا ٹکڑا ہوگا جہاں سے اسے بیت المقدس نظرآۓ گا ، تویہ اس کے لیے ساری دنیا سے بہتر ہوگی ۔"

ليكن افسوس در افسوس يہ با بركت زمين ہمارے ہاتھوں سے اور ہماری نظروں کے سامنے لوٹی جا رہی ہے، اور ہم چپ چاپ کھڑے یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت مان کر امریکہ کے صدر نے پوری دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس دنیا میں جیت ہمیشہ طاقتور ہی کی ہوتی ہے چاہے وہ کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو، اس اعلان کے بعد   عالم اسلامی کے لیڈروں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ اس کے مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن وسلامتی پر منفی اثرات مرتب ہونے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی سنگین مضمرات ہوں گے۔ اور بات صرف تشویش کے اظہار تک ہی رک گئی!!

ازہر شریف نہ صرف ایک ہزار سال پرانا دنیا کا قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے بلکہ تعلیم کے ساتھ  ساتھ الازہر الشریف حق، انصاف، حریت اور انسانیت کے پیغام کی مشعل کا حامل بھی رہا ہے، اسی زمہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے

اعلان کے فورا بعد فضیلت مآب امام اکبر شیخ الازہر نے امریکہ کے وزیر خارجہ سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا "  میں تاریخ کے جعل سازوں، امتوں کے حقوق کے لٹیروں اور ان سے ملاقات ہرگز نہیں کر سکتا جو غیر مستحق لوگوں کو وہ دیتے ہیں جو اصل میں ان کی ملکیت ہی نہیں"

علاوہ ازیں عالم عرب و اسلام میں الازہر الشریف کے فکری و روحانی حوالے، اور مختلف مسیحی حلقوں بلکہ تمام دنیا کے اصحاب حریت اور اہل دانش کے ہاں اپنے احترام و اعتماد کے پیش نظر، دینی و انسانی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوۓ، اور اس امانت کا پاس کرتے ہوۓ جسے ازہر اپنی شاندار تاریخ کی گیارہ صدیوں سے تھامے ہوۓ ہے؛ ازہر نے بیت المقدس کی نصرت و مدد کے لئے ایک عالمی کانفرنس منعقد کروائی؛ جس کا ہدف اصحاب فکر و دانش، اہل مذہب و سیاست اور دنیا کے مختلف بر اعظموں کے 86 ممالک سے آۓ امن و سلامتی کے خواہاں افراد کا باہمی تبادلۂ خیال تھا، تاکہ بیت المقدس کی شناخت، فلسطینی عوام کی عزت و وقار ، ان کی سرزمین کی حفاظت اور قدس شریف کی عربی و روحانی پہچان کو محفوظ بنانے کے لئے نۓ اسالیب اور جدید طریقہ ہاۓ کار دریافت کرتے ہوۓ اس صہیونی تکبر اور زعم برتری کو لگام ڈالی جاۓ جو بین الاقوامی فیصلوں کو للکارتا ہے، اقوام عالم اور خاص طور پر چار ارب مسلمانوں اور عیسائیوں کے جذبات کو بھڑکاتا ہے؛ اور تاکہ ان امریکی فیصلوں کو بھی مسترد کیا جاۓ ، جن کے باعث ظالم صہیونی استعمار کی طرف واضح طور پر اس کا جھکاؤ ثابت ہوتا ہے۔

 اس کانفرنس کے اختتام میں امام اکبر شیخ الازہر  احمد الطیب نے اپنے نصرت القدس کے  اعلامیہ میں  کہا : "ہم اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ بیت المقدس ہی فلسطینی ریاست کا دائمی دارالحکومت ہے، جس کے باقاعدہ رسمی اعلان، بین الاقوامی سطح پر اسے تسلیم کرنے اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں میں اس کی متحرک رکنیت کو قبول کرنے کے لئے سنجیدہ کردار ادا کرنا واحب ہے۔ بیت المقدس صرف کوئی مقبوضہ زمین یا کوئی فلسطینی یا عرب مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ معاملہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ ایک اسلامی و مسیحی مقدس مقام ہے، اور مسلمانوں اور عیسائیوں کا ایمانی مسئلہ ہے؛ اور جب مسلمان اور عیسائی مل کر اسے ظالم صہیونی قبضے سے آزاد کروانے کے لۓ جدوجہد کرتے ہیں تو وہ اس کے تقدس کو ثابت کر رہے ہوتے ہیں، اور تمام انسانی معاشروں کو اسے صہیونی استعمار سے چھڑانے کے لئے ترغیب دے رہے ہوتے ہیں۔" شیخ الازہر نے یہ بھی اعلان کیا کہ الازہر یونیورسٹی اور اس کے تمام اداروں میں بیت المقدس سے متعلق پڑھایا جانے والا نصاب تشکیل دینے کے لۓ الازہر الشریف  کے اس پہلے قدم کی کانفرنس مکمل حمایت کرتی ہے، تاکہ بچوں اور نوجوانوں میں مسئلہ فلسطین کی انگاری دہکتی رہے، اور ان کے ضمیروں میں یہ مسئلہ ہمیشہ جاگزیں رہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم و عرب ممالک سمیت  پوری دنیا کے تعلیمی اداروں اور تمام متحرک تنظیمات کو اسی طرح کا قدم اٹھانے کی دعوت دیتی ہے۔

ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ بیت المقدس کی بازیابی کے لئے اور اپنی آواز کو پر اثر بنانے کے لئے ہمیں ایک بننا ہوگا، کیونکہ اتحاد اور یکجہتی ہی وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے کل کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گیں۔

 

Print

Please login or register to post comments.

 

نئى تاريخى دستاويز ات ... فلسطينى عوام كے خلاف قابض صہيونى جرائم كى گواه

صہيونى  اخبار"ہارٹس" نے   اپنے  گزشتہ ہفتہ وارضميمہ ميں   چند  تاريخى دستاويزات كے حوالے سے ايك رپورٹ  شائع كى،   يہ  دستاويزات- 1948ء سے  فلسطينى   زمين پر...

كهيل... تعارف اور ہم آہنگى

     مرصد الازہر برائے انسدادِ انتہا پسندى  نے  مصر ميں منعقد ہونے والے افريكان ورلڈ كپ كى مناسبت سے "كهيل ... تعارف اور ہم آہنگى" كے نام سے آج صبح ايك آگاہى  مہم  كا آغاز كيا،  جو 12 زبانوں...

انسانيت كے نام ايك دستاويز

     "انسانى بهائى چاره (اخوت) كى دستاويز" كہہ ديں يا "انسانيت كى  دستاويز"، شيخ الازہر اور وٹيكن كے پوپ نے چند مہينوں پہلے  فرورى ميں ايك عالمى اور تاريخى دستاويز پر دستخط كى، جس كا مقصد دنيا...

نیوزی لینڈ كى مسجد ميں نمازيوں پر خوفناك دہشتگردانہ حملے كے بارے ميں فضيلتِ مآب شيخ الازہرڈاكٹر احمد الطيب كا بيان

نمازِ جمہ كے دوران نيوزيلينڈ كے  كرائسٹ چرچ ميں ايك  مسجد پر  دہشت گرد حملہ   كى خبروں كو ميں نہايت  غم واداسى سے ديكھ رہا ہوں،جس كے نتيجہ ميں   پچاس افراد ہلا ك اور  اتنى ہى تعداد ميں  لوگ زخمى...

12345679Last

ميڈيا كے چند وسائل كے فضيلت امام اكبر كے ايك سوال كے جواب ميں جو جامعہ قاہره كے ايك طالب نے "داعش" سے ازہر كے موقف كے بارے ميں پوچها تها كے اقتطاع كے بارے ميں
اتوار, 3 جولائی, 2016
فضيلت امام اكبر نے كئى دفعہ واضح كيا كہ "داعش" باغى ہيں، الله اور اُس كے رسول كى محاربت كرتے ہيں اور زمين ميں فساد پهيلاتے ہيں، لہذا ولاة الامر پر اُن كا قت كرتا اور دنيا ك واُن كى برائيوں اور شروروں سے واجب ہے اور قرآن پاك ميں ا سكا...
فرانس
جمعرات, 2 جون, 2016
•    كهارہے  ہيں اس قسم كےحادثے پر فيصلہ ساز شخص پر يہ ذمہ دارى عائد كرتى ہے كہ وه تاريخ اور عالم وانسانى ضمير كے سامنے جواب ده ہو اور وه پر ممكنہ طريقہ سے اس دہشت گردى كاس امنے كرے اور معصوم بچوں اور عورتوں كے خون كے اس...
فضيلت مآب امامِ اكبر كے دورے كے موقع پر : كيتهولك يونيورسٹى پيرس ميں اور ازہر يونيورسٹى نے تعاون پروٹوكول پر دستخط كيے
جمعرات, 26 مئی, 2016
فرانس كے دارالحكومت پيرس میں فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ  ازہر اور مسلم علما كونسل كى سربراه پڑوفيسر ڈاكٹر احمد الطيب نے جامعہ ازہر كى سرابراه پڑوفيسر    ڈاكٹر ابراہيم  كو ثقافت، ترجمہ ، ادب اور بين العقائد...
123468910Last

اشیاء میں اصل "جواز" ہے
         اشیاء میں اصل جواز ( اس كا جائز ہونا) ہے. ايك مشہور فقہى قاعده ہے كہ "الأصل في الأشياء الإباحة "، اس...
جمعه, 20 ستمبر, 2019
يتيموں كے حقوق
جمعرات, 19 ستمبر, 2019
فريضۂ حج
پير, 2 ستمبر, 2019
اولاد كے حقوق
پير, 2 ستمبر, 2019
123457910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
123468910Last