"فتوى :آج كے مسائل اور مستقبل كے امكانات "كے انٹرنيشنل كانفرنس ميں امام اكبر شيخ الازہر پروفيسر ڈاكٹر احمد الطيب كا خطاب

  • | پير, 17 اگست, 2015
"فتوى  :آج كے مسائل  اور مستقبل كے امكانات "كے انٹرنيشنل كانفرنس ميں امام اكبر شيخ الازہر پروفيسر ڈاكٹر احمد الطيب كا خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحيم

الحمد لله والصلاۃ والسلام على سيدنا رسول الله صلى الله عليہ وسلم وبارك عليہ وعلى آلہ وصحبہ وسلم

السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

حكم الہى سے تا ابد محفوظ رہنے والى سرزمين مصر، ازہر شريف اور دار الافتاء المصريۃكے دامن ميں آپ سب كو بہت بہت خوش آمديد اس اہم كانفرنس كا عنوان: "آج كے دور ميں فتوى كی مشكلات ہے جس كا مسلمانوں كي زندگي  پر بہت بڑا  اثر ہے".

محترم حضرات.. ميں نے اس صدى كى  ابتدا كے تقريبًا ڈيڑھ سال دار الافتاء المصريۃ ميں  گزارے، جس ميں ،ميں نے فتوى كي مشكل ذمہ داري سنبھالي. ميں اس  ذمہ داري سے بہت ڈرتا تھا. فقہى اور علمى نقطۂ نظر سے نہيں كيونكہ ازہر شريف ميں ہم نو سال تك ہر ہفتہ پانچ دفعہ "فقہ" كا مضمون پڑھا كرتے تھے ليكن ڈر تو اس بات كاتھا  كہ ميں حرام كو حلال كرنے، يا حلال  كر حرام كرنے، مشكل كو آسان بنانے يا آسان كو مشكل بنانے كے دائرے ميں نہ پھنس جاؤں"-

مسلمانوں كے دلوں ميں اس عہدے كي بہت بڑي عزت ہے اور مفتي كے منہ سے نكلا ہوا  ہر لفظ مسلمانوں كے  لئے آخری  اور لازم ہوتا ہے۔ اسی لئے  یہ ایک بہت بھاری اور ثقيل  امانت اور مشکل ذمہ داری ہے جس سے ہر پرہیزگار ب انسان نہایت ڈرتا ہے۔

اس ميدان  میں كام  کرنے والے ہمیشہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ فتوى میں ہر ممکنہ طریقہ سے گناہوں سے اجتناب کریں اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوۓ ہر حال میں کسی بھی غلط حکم سے دور رہیں۔ کبھی فتوى دینے والا افراط اور تفریط کے پيچیدہ دائرہ میں بھی پھنس سکتا ہے۔ کبھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض آسان اور سہل راستہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض مشکل کی، کیونکہ اس کی نظر میں ایسا راستہ زیادہ صحیح ہوگا لیکن اسی "تعسیر" یعنی آسان کو مشکل بنانے  سےحضرت محمد –صلى اللہ علیہ وسلم- نے خبردار کیا تھا۔ انھوں نے فرمایا: "يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا"([1]) (آسانی کرو اور سختی نہ کرو۔ لوگوں کو خوشخبری سناو اور ڈرا کر انہیں متنفر نہ کرو)([2])- اور یہ بھی فرمایا کہ: "اللهُمَّ، مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ، فَارْفُقْ بِهِ" (اے اللہ ! جو شخص میری امت کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے اور وہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کرے ، تُو بھی اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کر اور جو کوئی میری امت کے کسی کام کا والی مقرر ہو اور وہ اُن پر سختی کرے تو تُو بھی اس کے ساتھ سختی کا برتاؤ کر۔)([3])-

حضرت محمد  eنے مسلمانوں کی زندگی کو آسان اور سہل بنانے کا حکم دیا اور یہ حکم صرف ان کی زندگیوں تک منحصر نہیں ہے بلکہ فتوى پر بھی منطبق ہے۔ بلا شک وشبہ فتوى کے سلسلہ میں کام کرنے والے فقہاء اور اصولیین تسلیم شدہ اصولوں کو اچھی طرح جاننے ہیں۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی حکم (شرعی حکم) سبب یا وجہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر وجہ ہوگی تو حکم ہوگا اور اگر وجہ نہیں ہوگی تو حکم بھی نہیں ہوگا۔ ان تمام وجوہات کے باوجود فتاوى کے بہت سے مسائل حلال اور حرام کے درمیان لٹک جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ حیرانی کے عالم میں رہ جاتے ہیں کچھ مطمئن ہوجاتے ہیں اور کچھ کے دلوں میں شک بیٹھ جاتا ہے۔

مثال كے طور  پر بعض لوگ بتوں كى شكل والے مجسموں، يا تصويروں  كو حرام قرار ديتے ہيں اور اسى بنا پر حال ہى ميں بعض لوگوں نے عراق ميں موجود تاريخى مجسموں كو توڑ دياتها ليكن ساتھ ساتھ عالمِ اسلامى  كى كئى ملكوں كى يونيورسٹيوں ميں فاين آرٹس اور اثارِ قديمہ كى فيكلٹياں موجود ہيں – اسى لئے بہت سے مسلمان اس شش وپنج  ميں پڑ جاتے ہيں كہ كيا مجسموں كو گهر ميں ڈيكوريشن كے طور پر ركهنا جائز ہے يا ہر حال ميں كسى مسلمان كے گهر ميں اِن كا ہونا حرام ہے!؟ فتوى دينے والے كچھ اس كو سراسر حرام قرار ديتے ہيں حالانكہ اس مسئلہ پر تناظر اور چهان بين كى جا سكتى ہے اور اس حكم كے سبب يا وجہ كو جانا جا سكتا ہے كيونكہ كوئى بهى حكم دينے سے پہلے وجہ كا جاننا ضرورى ہوتا ہے كيونكہ يہ احكام الہى ميں شامل نہيں ہيں- اسلام كى تبليغ كے شروع ميں بتوں كى صناعت كو حرام قرار ديا گيا تها كيونكہ اس زمانے ميں عرب ا نكى عبادت كرتے تهے دراصل رسالتِ توحيد اس زمانے ميں ايك نو زائيده جيسى تهى ليكن آج اسلام كو دنيا ميں آئے ہوئے پندره صدياں ہو چكى ہيں اور  اس كى رسالت اور پيغام  تمام مسلمانوں كے دلوں ميں اچهى طرح رچ بس گيا  ہے اور ہم نے يہ كبهى نہيں سنا كہ كوئى مسلمان الله كى عباد ت  كو  چهوڑ كر بتوں كى عبادت كر رہا ہے حضرت محمدe نے رفيقِ اعلى تك منتقل ہونے سے پہلے مسلمانوں كو اطمينان دلايا تها. عقبہ بن عامر سے بخارى اور مسلم كى روايت ہے كہ غزوۂ احد كے شہيدوں پر نمازِ جنازه پڑهنے  كے بعد منبر پر چڑھ كر انهوں نے فرمايا: «عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ سے) باہر تشریف لائے اور احد کے شہدا پر اس طرح نماز پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، میں تم سے پہلے جاکر تمھارے لئے شفاعت کا سامان کروں گا، اور تم سب پر میں گواہ (شاہد) بھی رہوں گا۔ اللہ کی قسم میں اس وقت یہاں (میدان احد) سے اپنے حوض (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کئی گئی ہیں (یا مجھے زمین کی کنجیاں عطا کئی گئی ہیں)۔ اللہ کی قسم، مجھے اس بات کا کوئی خوف تک نھیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس بات کا ڈر ہے کہ تم میرے بعد دنیا کی طرف راغب ہوجاو گے۔»([4])۔

حضرت محمد rكى  اس قسم  كے بعد بعض مبالغت كرنے والے افراد كا دعوى كہ مسلمانوں پر شرك  سے دُر ہے سراسر غلط ہے  جس سے  نہ صرف مال اور وقت ضائع ہوتا ہے بلكہ مسلمانوں كے مابين اختلافات  بڑھ جاتےہيں .

اہل اجتہاد اور فتوى كے محترم حضرات !ميں سمجھتا ہوں  كہ ہميں اس قسم كے  مسائل پر  نظر ثانى كرنى چاہيے اگر كوئى حكم قاطع يا آخرى ہے يا جس ميں كسى قسم كى تشريح كى كوئى گنجائش نہيں تو بغير كسى بحث كے اس كو قبول كرنا لازم ہوگا ليكن اگر اس سلسلہ ميں  حكم قاطع يعنى آخرى نہيں ہے تو اللہ تعالى كے سامنے ہمارى زمہ  دارى ہے كہ  مسلمانوں پر آسانى كريں اور اندهے تعصب سے دور رہيں آپ جانتے ہيں كہ تكفير ، تبديع اور تفسيق كے فتووں كى وجہ سےقتل اور خون ريزى كتنى عام ہوگئى ہے-

ايك اور اہم بات  عادات اور رواج كا فتوى پر اثر ہے ،قاعده ہے كہ "رواج كى تبديلى سے فتوى كى تبديلى جائز ہے"  ليكن اس قاعده پر زياده عمل نہيں كيا جاتا، اور اگر كيا بهى جاتا ہے تو ايك ملك اپنے رواج كے مطابق ايك فتوى جارى كرتا ہے جو كسى دوسرے ملك كے لئے نامناسب ہوتا ہے جس كى وجہ سے افراتفرى اور گہما گہمى پهيل جاتى ہے اور بات اس وقت زياده بڑھ جاتى ہے جب فريقين كے درميان اختلافات زياده ہوں اس حالت ميں ايك ہى ملك كے رہنے والے كچھ لوگ اپنے ملك اور معاشرے كے فتوى كو مانيں گے اور كچھ دوسرے لوگ كسى دوسرے ملك كے فتوى كو، بات صرف يہاں تك ختم نہيں ہوتى بلكہ ايك فريق دوسرے فريق پر كفر، فسق اور تشدد كا الزام بهى لگانا شروع كر ديتے  ہيں-

ہمارے عظيم جليل عالم اور فقيہ "احمد فہمى ابو سنۃ" اپنى كتاب "فقہاء كى رائے ميں عادات ورواج" ميں كہتے ہيں كہ اسلامى تشريع كى بنيت ميں رواج "اصل" كى اہميت ركهتا ہے وه كہتے ہيں كہ لوگوں كى عادات اور رواج حالات كے مطابق بدلتے رہتے ہيں- الله تعالى اپنے بندوں كو تكليف يا كسى قسم كى اذيت نہيں پہنچاتا بلكہ شريعت كى بنياد "قلۃ  اتكاليف" (فرائض يا واجبات كى كمى) ہے- اسى لئے الله تعالى بغير كسى تفاصيل كے مطلق احكام ديتے ہيں اور ہر معاشره كو اپنے زمان ومكان اور اپنى سہولت اور رواج كے مطابق اسلامى شريعت كے بعض احكام ميں آسانى يا سہولت برتنے كا حكم بهى ديتے ہيں([5])-

مجسموں كے مسئلہ كے علاوه آج كے زمانے ميں ايسے كچھ اور مسئلے بهى ہيں جن ميں سے كچھ بہت اہم ہيں اور چند كى اہميت اتنى زياده نہيں ہے ليكن ايسے مسئلوں ميں گرفتار ہو كر ہم مسلمانوں كا وقت صرف ضائع ہى ہوتا ہے- مثال كے طور پر عورت كا جج ہونے كا مسئلہ .. كيا عورت جج بن سكتى ہے؟ ہم اس سوال كا جواب ايسے زمانے ميں ڈهونڈ رہے ہيں  جب مسلمان عورت پائلٹ، پولس افيسر اور وزير بن گئى ہے تو كيا اس زمانےميں عورت پر عائد احكام اُسى زمانے كے احكام كى طرح ہوں گے جب كہا جاتا تها كہ اچهى عورت وہى ہوتى ہے جو اپنے گهروں ميں رہتى ہے- محترم دانشور حضرات! يہ ايك بہت بڑى زمہ دارى ہے كيونكہ ان غلط اور الٹے فتووں سے نہ صرف گهر بلكہ زندگياں بهى بربادہوئى ہيں-

كيا فتوى دينے والے يہ لوگ الله اور اس كے رسول كى  اور   ان تعليمات كو بهول گئے ہيں الله تعالى فرماتے ہيں: "لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا" (خدا كسى شخص كواس كى طاقت سے زياده تكليف نہيں ديتا) (بقره: 286)،  اور يہ بهى فرمايا كہ: "وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ" (خدا تم پر كسى طرح كى تنگى نہيں كرنا چاہتا) (حج: 78)،  حضرت عائشہ سے مروى حديث مباركہ سے ثابت ہے كہ "مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِr، بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا"([6]) رسول كريمe كو «جب دو امور ميں اختيار ديا گيا تو آپe نے ان ميں سے آسان كو اختيار فرمايا بشرط يہ كہ وه گناه نہ ہو»-

فقہ  مالكى كے فيلسوف امام شہاب الدين القرافى المصرى اپنى كتاب "الإحكام في تمييز الفتاوى عن الأحكام وتصرفات القاضى والإمام" ميں كہتے ہيں كہ اگر كوئى مفتى كے پاس فتوى لينے كى غرض سے جائے تو ضرورى ہے كہ مفتى اُس سے اس كے  ملك اور اس كے عادات ورواج كے بارے ميں جانے كيونكہ اگر دو ملكوں كے عادات مختلف ہوں تو ہر ملك كا فتوى دوسرے ملك كے فتوے سے مختلف ہو گا([7])- اپنى كتاب "الفروق" ميں كہتے ہيں كہ كتاب ميں موجود سطروں كى طرح نہ ہو ،پس اگر كوئى غير ملكى شخص تم سے فتوى لينے آئے تو تم اُس كو اپنے ملك كے رواج كے مطابق فتوى نہ دو كيونكہ نقل شده امور پر ثابت رہنا ايك قسم كى گمراہى ہے([8])-

محترم حضرات! ہميں ان خزانوں (كتابوں) سے دهول ہٹانى ہو گى اور ان سے استفاده حاصل كرنا ہو گا اور فتوى دينے سے پہلے ان كتابوں ميں موجود قيمتى معلومات سے استفاده كرنا نہايت ضرورى ہے- كيونكہ اس طريقہ سے مفتى كے سامنے سہولت كے مزيد در كهلنے كے امكانات ہوں گے-

          اميد ہے كہ ہمارے اس كانفرنس سے فتوى كے ايك جديد عہد كى شروعات ہوگى جس ميں مقاصد اور اعراف كو سامنے ركھ كرم مسلم معاشرے كو مضبوط اور پرامن بنانے كے لئے شريعت كى رو سے صحيح فتاوى جارى كئے جائيں گے ......آپ كا بہت شكريہ-

                                                           شیخ الازہر

احمد الطیب

 

 

([1]) أخرجہ البخارى (4867)، ومسلم (1734) عن أنس بن مالك۔

([2]) أخرجہ البخارى (4867)، ومسلم (1734)، عن أنس بن مالك۔

([3]) أخرجه مسلم (1328) مرفوعًا عن السيده عائشہرض۔

([4]) رواه البخارى (1344)، ومسلم (2296)۔

([5]) العرف والعادة، ص 44۔

([6]) رواه مسلم (4294)۔

([7]) ص: 232، ط: الشيخ- عبد الفتاح أبو غدة، حلب۔

([8]) الفروق: 1/ 176: 177۔

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
12345678910Last

مذہبى آزادى
  اپنے مذہب اختيار كرنے كا حق انسان كا اولين حق ہے۔ ڈاكٹر سعيد كامل معوض كہتے ہيں كہ "اسلام ميں اپنا عقيده (اختيار كرنے) كى آزادى...
منگل, 13 اکتوبر, 2020
اسلام ميں اقليتوں كےحقوق
منگل, 28 جولائی, 2020
معلمّ انسانيت
بدھ, 22 جولائی, 2020
اسلام دین رحمت ہے
منگل, 7 جولائی, 2020
12345678910Last

انسان اور عقل (2)‏
             اسلام ميں اگر عقل وخرد كو استعمال كرنا دينى فريضہ شمار ہوتا ہے تو دوسرى جانب يہ ايك حتمى ذمہ دارى...
جمعرات, 13 دسمبر, 2018
تواضع كى قوت
منگل, 11 دسمبر, 2018
انسان اور عقل (1)‏
منگل, 11 دسمبر, 2018
اسلام ميں حقوقِ انسان
پير, 10 دسمبر, 2018
زندگى كى حفاظت كا حق
پير, 10 دسمبر, 2018
135678910Last