تم بہترين امت ہو

  • 3 جولائی 2017
تم بہترين امت ہو

             رمضان المبارک كے آخرى عشره يعنى آخرى دس دن كو ايک خاص اہميت حاصل ہے كيونكہ اسى ميں مسلمان اپنے خالق بارى سے جہنم كى آگ سے نجات كى دعا كرتے ہیں، لوگ اس ميں خصوصى عبادات كرتے ہیں. مسجدوں ميں اعتكاف كرتے ہیں، صدقے ديتے ہیں، قرآن مجيد كو ختم كرنے كى كوشش كرتے ہیں اور شب بيدارى اور ذكر وفكر ميں مزيد منہمک ہو جاتے ہیں. اس ماه مباركہ كے آخرى عشره كى طاق راتوں ميں اہل ايمان پر رحمتوں اور بركتوں كا نزول اپنے عروج كو پہنچ چكا ہوتا ہے.

نبى پاک نے ارشاد فرمايا: "يہ ايسا مہينہ ہے جس كى ابتدا ميں رحمت، درميان ميں مغفرت اور آخر ميں دوزخ سے نجات ہے".

ويسے تو الله تعالى كے ہاں گناه كبيره كسى بهى مہينہ يا گهڑى ميں گناه كبيره ہى كہلايا جائے گا ليكن اس مہینہ ميں ہر سچے مسلمان كى ايک ہى تمنا ہوتى ہے كہ وه كسى بهى طريقہ سے اپنے دامن كو گناہوں سے پاك ركهے اور اپنے جهولى كو اس مبارك ماه كے عظيم اجر اور اس كے ثواب سے مالا مال كردے رمضان المبارك كى بركت وفضيلت ہے كہ اس ميں شيطان كو جكڑ ديا جاتا ہے حضور پاك نے فرمايا "جب ماه رمضان كى پہلى رات ہوتى ہے تو شيطانوں كو بيڑياں پہنا دى جاتى ہيں جہنم كے دروازے بند كرديے جاتے ہيں ". (ترمذى، السنن، ابواب الصوم، باب ما جاء في فضل شہر رمضان، ۲: ۶۱، رقم ۶۸۲) معنى كہ شيطان لوگوں كو بہكانے سے باز رہتے ہیں اور اہل ايمان ان كو وسوسے قبول نہیں كرتے.

ليكن اس با بركت مہینہ كے آخرى دنوں ميں جمعہ الوداع كو تقريبا ۳۰ افراد كے خاندانوں نے ان كو ہميشہ كے لئے الوداع كہہ ديا.

۲۴ جون/​ ۲۸ رمضان كو كوئٹہ ميں ايكـ دهماكہ كے نتيجہ ميں ۱۳ افراد ہلاک ہوئے جن ميں پوليس اہل كاروں كے علاوه معصوم بچے بهى شامل تهے. اس كے كچه ہى دير بعد "فاٹا" كے علاقہ "پاراچنار" ميں يکے بعد ديگرے دو دهماكوں كے نتيجہ ميں ۲۵ افراد جاں بحق اور ۱۰۰ سے زائد زخمى ہوئے.

عيد الفطر سے دو دن پہلے یہ معصوم جانيں بغير كسى جرم كے اپنے خالق حقيقى سے جا مليں.

ان حادثوں كا ذمہ دار ہر حال ميں مسلمان كيا انسان بهى نہیں كہلايا جا سكتا اور حديث شريف كے مطابق كہ رمضان ميں شيطانوں كو بيڑياں پہنا دى جاتى ہیں كہ يہ ذات تو شيطان سے بهى آگے نكل  گئے ہیں.

بغير حق كے كسى كى جان لينا  گناهِ كبيره ہے- ہمارا دين امن وسلامتى كى تلقين كرتا ہے، نہ كہ جنگ يا دہشت گردى كى-  الله تعالى نے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان كا خون، عزت وآبرو اور مال حرام قرار ديا ہے- نہ صرف مسلمانوں كا بلكہ اہلِ ذمّت اور پناه مانگنے والے كافروں كا بھى-

ارشادِ بارى ہے: ﴿ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴾ "النساء: 93" (اور جو كوئى كسى مومن كو قصدا قتل كر ڈالے، اس كى سزا دوزخ ہے جس ميں وه ہميشہ رہے گا، اس پر الله تعالى كا غضب ہے، اس پر الله تعالى نے لعنت كى ہے اور اس كے لئے بڑا عذاب تيار ركها ہے۔) اسى لئے جو بهى الله سے ڈرتا ہے اور اس كے غضب، لعنت اور عذاب سے دور رہنا چاہتا ہے اس كو اس جرم يعنى قتل كے كسى بهى سبب  سے دور رہنا چاہئے-

       عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لزوال الدنيا أهونُ على الله من قتل رجلٍ مسلمٍ» (رواه الترمذي). (عبد الله بن عمرو رضى الله عنہما سے مروى ہے كہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا ہے كہ: الله كے نزديك ايك مسلمان كے قتل كے مقابلہ ميں تمام دنيا كى بربادى كچھ حيثيت نہيں ركهتى)-

          اس مختصر سى حديث ميں رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ايك مسلمان كى قدر وقيمت اور اسكى عظمت وبزرگى كو نہايت واضح طور پر بيان فرمايا ہے-  اگر ايك طرف ايك سچا مسلمان ہو، اور دوسرى طرف دنيا بهر كى بربادى تو اس مقابلہ ميں رسول الله صلى الله عليه وسلم مسلمان كى زندگى بچانے كے لئے دنيا كا برباد ہونا برداشت كر ليں گے-  اس لئے كہ رسول الله صلى الله عليه وسلم كے نزديك مسلمان كى زندگى تمام دنيا سے كہيں زياده قيمتى ہے-

دنيا  كى ترقى صرف اسى صورت ممكن ہے جب باہمى كش مكش كے  بجائے امن كى فضا ہو-  اور دنيا كا امن وامان بهى اسى صورت  ميں قائم ره سكتا ہے جب انسان كے پيش نظريہ بلند مقصد ہو-  وه  الله پر ايمان ركهتا ہو، اور اسكى خوشى اور رضاجوئى كے لئے اپنا سب كچھ قربان كرنے كو تيار ہو- الله پر ايمان ہى ايك ايسى صفت ہے جو امن برقرار ركھ سكتى ہے- ايماندار شخص ادنى جذبات سے بہت بلند ہو كر اجتماعى فائدے كے ليے سوچتا ہے- خود غرضى، دشمنى اور حسد كے جذبات كى بجائے اس كے اندر ايك دوسرے كى مدد، محبت اور ہمدردى كى صفات پيدا ہوتى ہيں-

الله تعالى كا فرمان ہے: "كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ" (آل عمران: 110). (تم بہترين امت ہو جو لوگوں كے لئے پيدا كى گئى ہے)

رمضان كے مبارك مہينے ميں ايسا گناه كرناايك حقيقى مسلمان سے قطعى سرزد نہيں ہوسكتا، اگر ايسا كام كرنے والوں كا مقصد اسلام كى نصرت ہے تو بهلا معصوم لوگوں كا  خون بہا كر اسلام كى نصرت كيسے  ہوسكتى!!!

 الله تعالى فرماتا ہے "وادعوا الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنى" (سورة النحل :125) "اپنے رب كى راه كى طرف لوگوں كو حكمت اور بہترين نصيحت كے ساتھ بلائيے اور ان سے بہترين طريقے سے گفتگو كيجئے"

الله تعالى اور اس كے دين كى طرف دعوت كا طريقہ  نا حق جانيں ضائع كر كے  نہيں بلكہ انسانى جان كى حفاظت كر كے ہوگا. ہم بهترين امت اس وقت تك نہيں ہوسكتے جب تك ہم  خير اور حق كى دعوت نہ ديں اور اس پر عمل نہ كريں، ہم بہترين امت اس وقت تك نہيں ہوسكتے جب تك ہم دوسروں كو اپنى ہاته اور زبان سے محفوظ نہ ركهيں، ہم بهترين امت اس وقت ہو گيں جب ہم اپنے قول وفعل سے اپنے نبى پاك كى پيروى كريں گيں ، اس نبى كى جس نے اذيت كے بدلے ميں اپنےدشمنوں سے نيك سلوك كيا، جس نے تمام مخلوقات كے ساته اچها سلوك كرنے كا حكم ديا، جو تمام دنيا كے لئے رحمت ہيں، پس ہم مسلمانوں سے يہى تقاضا ہے كہ ہم اس عظيم نمونہ كى پيروى كريں ، ارشاد بارى ہے " لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنه" ( تمهارے لئے رسول الله ميں بهترين نمونہ ہے) اور اسى عظيم نمونہ نے ہميں بار بار  امن وسلامتى پهيلانے كى دعوت دى ہے ، خوف وہراس كى نہيں.

جو بچوں اور خواتين كوبے رحمى سے قتل كرتے ہيں، مردوں كے سر قلم كرتے ہيں اور اُن كى ناموس كى آبروريزى كرتے ہيں  اور افسوس در افسوس يہ نفرت انگيز جرائم وه اس دين كے نام پر كرتے ہيں جس نے حالتِ جنگ ميں بهى بچوں، عورتوں اور بوڑهوں كو قتل سے منع كيا ہے۔ وه دين جو جانوروں، پودوں اور ہر جاندار چيز كے حقوق كا قائل ہے۔ وه دين جس كے نبى دنيا كے لئے رحمت بنا كر بهيجے گئے ہيں۔ جہاں بحث وتكرار اور تلخ كلامى بهى ممنوع ہے، مسلمان كيسے ہوسكتا ہے!!!!

مسلمان ہونا اتنا اہم نہيں ہے جتنا مسلمان بن كر اسلام كى عملى تطبيق ہے اور اسلام دنيا كو برباد كرنے كا نہيں بلكہ اس كو آباد كرنے كا حكم ديتا ہے .

 

 

Print

Please login or register to post comments.

 

نیوزی لینڈ كى مسجد ميں نمازيوں پر خوفناك دہشتگردانہ حملے كے بارے ميں فضيلتِ مآب شيخ الازہرڈاكٹر احمد الطيب كا بيان

نمازِ جمہ كے دوران نيوزيلينڈ كے  كرائسٹ چرچ ميں ايك  مسجد پر  دہشت گرد حملہ   كى خبروں كو ميں نہايت  غم واداسى سے ديكھ رہا ہوں،جس كے نتيجہ ميں   پچاس افراد ہلا ك اور  اتنى ہى تعداد ميں  لوگ زخمى...

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏

                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا  تنظيمو ں  يا ملكوں  كى جانب سے انسان كے دين، جان، عقل، مال، اور عزت  وآبرو  كے...

اسلام ميں مساوات

                   مساوات کا مطلب ہے " برابرى"سارے انسانوں کے حقوق برابر ہیں ، ان کا اپنا مقام ہے اور ان کے لیےیکساں مواقع فراہم ہیں،  کوئی شخص اپنے خاندان، قبیلہ، وغیرہ کی وجہ سے...

اسلام اور بنیادی انسانی حقوق

                       دنيا ميں ہر انسان كے حقوق بهى ہوتے ہيں اور واجبات بهى، وه ليتا ہے، لينا جانتا ہے اور اسى طرح دستورِ الہى اور انسانى  كو مدِّ نظر ركهتے ہوئے اس كو دينا بهى آنا...

12345679Last

حکومتی سطح پر ایک عظیم الشان جلسہ عام انڈونیشیا کی طرف سے امام اکبر کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز کیا گیا -
جمعرات, 25 فروری, 2016
ازہر شریف کا پیغام اہل السنت والجماعت کے مسلک  پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے - حکومتی پیمانہ پر ایک خاص اہتمام اور استقبال انڈونیشیا کے مشرقی صوبے جاوہ کے شہر ما لانج میں واقع مولانا مالک ابراہیم نامی سرکاری اسلامی یونیورسٹی نے اپنے احاطہ میں...
ازہر شريف سے بيان
منگل, 29 دسمبر, 2015
ازہر شريف اپنى دستاويزوں ميں آزادى اور خاص طور پر عقيده كى آزادى كے متعلق آنے جانے والے بيانات پر ان قرآنى نصوص كى بنياد پر تاكيد كرتا ہے  لا إكراه في الدين دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے (سورة البقرة: 256) اور ارشاد بارى تعالى ہے لكم دينكم...
سكاى نيوز كے ساتھ انٹرويو ميں امامِ اكبر شيخِ ازہر نے كہا ..
پير, 16 نومبر, 2015
سكاى نيوز كے ساتھ  انٹرويو ميں امامِ اكبر شيخِ ازہر نے كہا : پارس ميں جو ہوا ہے  ايك سنگين جرم ہے جس سے ہر مذہب انسان يا تہذيب برى ہے . ہم فرانس كے صدر،  فرانسيسى قوم اور خاص طور پر  متاثرين كے اہل كاروں كو تعزيت پيش كرتے...
First4567891113

عيد الفطر
     پيغمر اسلام ؐ جب ہجرت كر كے مدينہ آئے تو وہاں كے لوگ ايك سالانہ تہوار منايا كرتے تھے،  اس ميں كھيل تماشا ...
منگل, 4 جون, 2019
زكات
پير, 27 مئی, 2019
12345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
12345679Last