اسلام اور جنگ

  • 15 اکتوبر 2017
اسلام اور جنگ

         اسلام کی ائڈیالوجی توحید ہے، اور اسلام کی تمام تعلیمات دراصل توحید کے بنیادی تصور پر مبنی ہیں ۔ اسلام کی دوسری تعلیم امن ہے۔ امن کی اہمیت عملی ضرورت کے اعتبار سے ہے۔ اسلام کا اصل مقصد اصلاح انسان  اور انسانيت كى فلاح و ببود ہے، ايسا  مقصد  صرف امن کے حالات میں حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ امن معتدل حالات کا ذریعہ ہے ۔ اور معتدل حالات عمل کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ 

          اسلامی قانونِ جنگ کا ایک حسین اور خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے دورانِ جنگ بے قصور ، نہتے اور کمزور لوگوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کی ہے ، عملاً جن لوگوں نے جنگ میں حصہ لیا ہے یا جنھوں نے مشوروں اور خدمات کے ذریعے ان کو مدد پہنچائی ہے، یہی لوگ قتل کے مستحق ہوں گے ، جبكہ بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور خلوت نشیں عابدوں ، زاہدوں سے ہرگز تعرض نہ کیا جاتا ، دورانِ جنگ بے قصور لوگوں کے قتل کو تو در کنار ، اسلام نے سرسبز وشاداب کھیتوں ، پھل دار درختوں اورباغات کو بھی نقصان پہنچانے سے روکا ہے ، چنانچہ ارشاد نبویؐ ہے: «لَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا صَبِيًّا وَلَا امْرَأَةً وَلَا تَقْطَعُوا شَجَرا» کسی ضعیف و لاغر بوڑھے ، چھوٹے بچے اور عورت کو قتل مت کرو اور نہ بے جا درختوں کو کاٹو۔

          ایک مرتبہ میدانِ جنگ میں رسول اللہ ؐنے ایک عورت کی لاش پڑی دیکھی تو ناراض ہوتے ہوئے فرمایا کہ«ما كانت‏ هذه‏ تقاتل»‏ یہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی اور فوج كے سپہ سالار خالد کو کہلا بھیجا «لا تقتلَنَ‏ ذُرِّيَّةً ولا عَسِيفًا»عورت اور اجیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔

          اسلام میں جنگ کوئی مستقل اصول نہیں  ہے ، اسلام میں جنگ قانون ضرورت کے تحت پیش آنے والا ایک وقتی عمل ہے ، نہ کہ کسی ابدی اصول کے تحت کیا جانے والا مستقل عمل ۔ اسلام میں جنگ کا حکم سمجهنے کے لیے قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ الله تعالى فرماتا ہے: (اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)) (سورۂ بقره: 193) یہ جنگ کی وه قسم ہے جو اسلام کے دور اول میں وقتی ضرورت کے تحت پیش آئی - اب یہ ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لیے اب فتنہ کے خاتمہ كے  نام پر جنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ قدیم زمانے میں مذہبی آزادی کو مسلمہ انسانی حق کی حیثیت حاصل نہ تهی ، اب مذہبی آزادی ایک مسلمہ انسانی حق کی حیثیت رکهتی ہے۔ اس لیے اب دنیا میں نہ فتنہ ہے ، نہ فتنے کے نام پر جنگ کا کوئی جواز۔ قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جارح ہے ۔ آج کل کی زبان میں اس کو مذہبی جبر کہا جا سکتا ہے - قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی بادشاہت کا نظام قائم تها۔ اسی سیاسی نظام کے تحت مذہب کے معاملے میں انسان کے لیے کوئی آزادانہ چوائس (choice)  يا آ زادى موجود نہ تهى۔ حکومت کے افیشل مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرنا ، حکومت سے بغاوت کے ہم معنی تها۔ اس لیے وه جرم مستوجب سزا (cognizable offence) کی حیثیت رکهتا تها۔

         خلاصہ يہ ہے كہ اسلام دينِ امن وسلامتى ہے، اس كا اول ترين مقصد انسانيت كى استقامت اور دنيا ميں امن وسلامتى كو رائج كرنا ہے، يہ  اپنے پیروکاروں کو  جنگ  اور بربادى سے نفرت، دشمنوں سے نيك سلوك، تقوىٰ و پرہيزگارى، انسانى جان كى قدر ،  اس كى  حفاظت اور  خير اور حق كى دعوت ديتا ہے، علم وعمل اور دوسروں كے ساتھ تعاون  كا حكم ديتا ہے الله  تعالى فرماتا ہے: "كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ" (سورۂ آل عمران: 110) (تم بہترين امت ہو جو لوگوں كے لئے پيدا كى گئى ہے)۔ ايك  بہترين امت بننے كے لئے ہميں تلوار كى  نہيں بلكہ قلم، عمل اور اصلاح كى ضرورت ہے ، كيونكہ اسى طريقہ سے ہم اس آيت كى عملى تطبيق كرنے ميں كامياب ہوں گے)۔

Print

Please login or register to post comments.

 

نئى تاريخى دستاويز ات ... فلسطينى عوام كے خلاف قابض صہيونى جرائم كى گواه

صہيونى  اخبار"ہارٹس" نے   اپنے  گزشتہ ہفتہ وارضميمہ ميں   چند  تاريخى دستاويزات كے حوالے سے ايك رپورٹ  شائع كى،   يہ  دستاويزات- 1948ء سے  فلسطينى   زمين پر...

كهيل... تعارف اور ہم آہنگى

     مرصد الازہر برائے انسدادِ انتہا پسندى  نے  مصر ميں منعقد ہونے والے افريكان ورلڈ كپ كى مناسبت سے "كهيل ... تعارف اور ہم آہنگى" كے نام سے آج صبح ايك آگاہى  مہم  كا آغاز كيا،  جو 12 زبانوں...

انسانيت كے نام ايك دستاويز

     "انسانى بهائى چاره (اخوت) كى دستاويز" كہہ ديں يا "انسانيت كى  دستاويز"، شيخ الازہر اور وٹيكن كے پوپ نے چند مہينوں پہلے  فرورى ميں ايك عالمى اور تاريخى دستاويز پر دستخط كى، جس كا مقصد دنيا...

نیوزی لینڈ كى مسجد ميں نمازيوں پر خوفناك دہشتگردانہ حملے كے بارے ميں فضيلتِ مآب شيخ الازہرڈاكٹر احمد الطيب كا بيان

نمازِ جمہ كے دوران نيوزيلينڈ كے  كرائسٹ چرچ ميں ايك  مسجد پر  دہشت گرد حملہ   كى خبروں كو ميں نہايت  غم واداسى سے ديكھ رہا ہوں،جس كے نتيجہ ميں   پچاس افراد ہلا ك اور  اتنى ہى تعداد ميں  لوگ زخمى...

1345678910Last

عالمی یوم امن کے موقع پر ازہر شریف کا دنیائے انسانیت کے لئے پیغام!
جمعرات, 22 ستمبر, 2016
پوری دنيا ہر سال مختلف قوموں كے مابین امن وسلامتي كے اخلاق واصول کو رائج كرنے کیلیے ۲۱ ستمبر کو عالمي یوم امن کے طور پر مناتی ہے۔ آج انسانیت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عام طور پر پوری انسانيت اور خاص طور پر بعض قومیں جنگ وفسادات، جہالت اور...
ازہر شريف پاكستان ميں مسجد پر ہونے والے حملہ كى شديد مذمت كرتا ہے-
بدھ, 14 ستمبر, 2016
ازہر شريف وفاق كے زير انتظام قبائلى علاقے مہمند ايجنسى ميں خودكش دهماكے جس كے نتيجہ ميں 30 افراد ہلاك جبكہ 31 زخمى ہوئے ہيں كى شديد مذمت كرتا ہے – ازہر شريف   دہشت گردى كى تمام صورتوں كى مذمت كرتا ہے اور اس بات پر تاكيد كرتا...
ازہر شریف کابل میں دو دہماکوں کی مذمت
منگل, 6 ستمبر, 2016
ازہر شریف پیر کے دن افغانستان کے دار الحکومت کابل میں وزارت دفاع کے قریب  دو دہشتگردوں دہماکوں، جس کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور 90 افراد سے زیادہ زخمی ہوۓ ہیں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ازہر شریف تاکید کرتا ہے کہ ایسی دہشتگرد کاروائیاں روادار...
123578910Last

پُرامن معاشره كى تشكيل ميں تعليم كا كردار
     تعليم ہر انسان  چاہے وہ  امير ہو يا غريب ، مرد ہو يا عورت  كى بنيادى ضرورتوں ميں سے...
پير, 9 ستمبر, 2019
فريضۂ حج
پير, 2 ستمبر, 2019
اولاد كے حقوق
پير, 2 ستمبر, 2019
عہد كى پابندى
جمعرات, 25 جولائی, 2019
1345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
1345678910Last